Daily Mashriq


دعوتِ سرمایہ کاری درست، ماحول سازگار بنانے پر توجہ درکار ہے

دعوتِ سرمایہ کاری درست، ماحول سازگار بنانے پر توجہ درکار ہے

وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی امپورٹ ایکسپو2018 ء کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان کے پاس زرخیز زمینیں ہیں اور بارہ منفرد موسم ہیں جن کی بدولت ہم ان زمینوں سے بے مثال پیداوار حاصل کر سکتے ہیں جو دنیا کی ضروریات پوری کر سکتی ہیں۔ اس لحاظ سے ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان پوری دنیا کیلئے بہترین کاروباری جگہ ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ایک بار پھر کہا کہ پاکستان کے اندر شفافیت کو مزید بہتر بنانے اور نظام کو مضبوط مربوط بنانے میں کسی قسم کی رعایت نہیں کریں گے۔ احتساب کا عمل ہر صورت جاری رہے گا اور حکومت اور کاروبار کیلئے ایک نہایت سازگار ماحول پیدا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کی بدولت مصنوعات کو دنیا بھر کے صارفین تک پہنچانے کا مختصر ترین راستہ میسر آئے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل سے چین اور وسط ایشیاء کو ترقی سے روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں گی اور جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیاء سے منسلک ہونے سے سرمایہ کاری اور کاروبار کی نئی جہتیں کھلیں گی۔ سی پیک صرف ایک راستہ نہیں بلکہ یہ عالمی مفادات کو ایک دوسرے سے بانٹنے، آزادانہ تجارت کرنے اور عالمی اقتصادیات کو ایک دوسرے سے قریب لانے کا عظیم موقع ہے۔ ایک جانب جب ہمارے وزیراعظم یہ خطاب کر رہے تھے اور دنیا کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کی سعی میں تھے تو دوسری جانب انہی دنوں پاکستان میں سڑکوں پر احتجاج ہو رہا تھا حکومت نے بمشکل مظاہرین سے ایسا معاہدہ کرکے سڑکیں خالی کروائیں جس کیلئے حزب اختلاف کی ایک خاتون رہنماء نے قومی اسمبلی میں ’’سرینڈر‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے جو خود حکومتی حلقوں میں بھی اس معاہدے پر نہ صرف درون خانہ بلکہ میڈیا پر تحفظات کا اظہار سامنے آرہا ہے جس کی وجہ سے حکومت اس معاہدے سے انحراف پر مجبور ہے۔ توہین مذہب کیس میں ملزمہ کی بریت کیخلاف شروع ہونے والا احتجاج حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کے بعد ختم تو ہو گیا لیکن ان3دنوں میں ملک کی معیشت کو کافی نقصان پہنچا۔ اس وقت جبکہ بند شاہراہیں، ہائی ویز کھل تو گئی ہیں لیکن حالیہ کشیدگی، جس سے ملکی ترسیلات، پیداوار اور برآمدی ترسیلات میں خلل پیدا ہوا اور چند خدشات بھی جنم لینے لگے کہ ملک میں طویل عرصے تک سیاسی عدم استحکام، تشدد اور دہشتگردی طویل مدتی سرمایہ کاری کیلئے ٹھیک رہیں گے؟ اگرچہ پاکستانی معیشت کی بات کی جائے تو حکومتی اقدار کی غیر منظم منتقلی، پرتشدد مظاہرے، مسلح تنازعات، سماجی اضطراب، بین الاقوامی کشیدگی، دہشتگردی اور نسلی، مذہبی یا علاقائی تنازعات کی بنیاد پر194معیشتوں میں پاکستان نچلے درجے پر ہے اور گلوبل اکانومی ڈاٹ کام کی2016 کے انڈیکس کے مطابق صرف3ممالک افغانستان، یمن اور شام پاکستان سے نیچے درجے میں موجود ہیں۔ اس احتجاج کے اثرات عالمی مارکیٹ پر بھی اس طرح پڑے کہ وہاں سے ملنے والے پاکستانی کاروباری اداروں کے آرڈر تاخیر کا شکار ہوگئے اور مال کی بروقت ترسیل نہ ہونے کے خدشے کے باعث غیرملکی کاروباری افراد دوسرے ممالک کا رخ کرنے لگے جس سے پاکستانی برآمدات متاثر ہوئیں۔ صرف دو تین دن کے احتجاج پر جو معیشت کو نقصان پہنچا اس کا ازالہ تین ماہ میں بھی ممکن نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاں ہمیں ملکی اقتصادیات کی بہتری پر توجہ کی ضرورت ہے وہاں ہمیں درون خانہ اس قسم کے عناصر کا خاتمہ کرنا ہوگا جو احتجاج کے نام پر ملک میں گھیراؤ جلاؤ اور لوٹ مار کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایک طویل عرصہ عروس البلاد کراچی جیسا شہر اور پاکستان کا معاشی حب فسادی عناصر کے ہاتھ رہا۔ خدا خدا کر کے2018ء کے انتخابات میں ان کی کمر ٹوٹی تو اس سے قبل ہی لاہور سے لیکر راولپنڈی تک کے مرکزی پاکستان میں مذہب کے نام پر ایک ایسا گروپ وجود میں آیا جس کی اولاً مبینہ طور پر سرپرستی کی غلطی کی گئی بعد ازاں بے قابو جن کی طرح بوتل سے باہر آکر ایسا سر چڑھ کر بولا کہ اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک وطن عزیز میں اس قسم کے حالات اور صورتحال موجود ہیں اور اس طرح کی صورتحال پیدا کرنے کیلئے حالات پیدا ہوتے رہیں گے اس وقت تک ملک میں اتنی سرمایہ کاری نہیں آئے گی جو کافی ہو۔ وزیراعظم عمران خان کی سعودی عرب سے لیکر چین تک میں مساعی سے انکار نہیں لیکن ان کو اس سوال کے جواب میں یقیناً خفت ہوئی کہ جب خود پاکستانی سرمایہ کار بیرون ملک سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہوں تو وہ دوسروں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی کیونکر توقع رکھتے ہیں۔ اس صورتحال کے دو ہی حل ہیں اولاً یہ کہ وطن عزیز میں سرمایہ کاروں کو سرکاری بدعنوان عناصر سے لیکر فسادیوں تک سے پوری طرح تحفظ دینا ہوگا، جس کے بعد بیرونی سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے سے قبل ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ واپس لانے پر برضا ورغبت آمادہ کرنا ہوگا اس کے بعد بیرونی سرمایہ کاروں کو دی گئی دعوت مؤثر ہوگی۔

متعلقہ خبریں