Daily Mashriq


بلاجواز مخالفت

بلاجواز مخالفت

وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے لڑکیوں کے سکولز میں مرد مہمانان خصوصی کے آنے پر پابندی کے فیصلے کو غلط قرار دینے کا کوئی حق نہیں اور نہ ہی مرکزی قیادت کی صوبائی حکومت کے ایسے فیصلوں بارے رائے زنی مناسب ہے جن فیصلوں کا تعلق دین اور معاشرتی اقدار سے ہوں۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے لڑکیوں کے اسکولوں کی تقریبات میں مرد مہمانِ خصوصی کی شرکت پر پابندی عائد کی تھی۔ اعلامئے میں کہا گیا تھا کہ گرلز اسکولوں میں مرد وزیر، اراکین پارلیمنٹ یا افسران کو مدعو نہیں کیا جائے گا بلکہ گرلز اسکولوں کی تقریبات میں صرف خواتین اراکین پارلیمنٹ اور خواتین افسران کو ہی مدعو کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اصولی فیصلہ ہے جس سے صوبے کے سو فیصد نہیں تو ننانوے فیصد عوام کو بلاامتیاز سیاسی جماعت اتفاق ہے۔ اس فیصلے کا کوئی منفی پہلو نہیں اس کا مثبت پہلو جہاں دینی اقدار اور معاشرتی طور پر پسدندیدہ ہونا ہے وہاں یہ خواتین کی بہتر نمائندگی خواتین اراکین اسمبلی اور اعلیٰ افسران کیلئے بہتر عوامی رابطے کا ذریعہ ہوگی جس کی مخالفت کا کوئی جواز نہیں۔ کسی صوبے کے اسمبلی اور عوام کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اپنے ثقافتی اقدار کی پاسداری کے حامل ماحول کا تحفظ کریں۔ بہتر ہوگا کہ اس معاملے کو صوبائی اسمبلی میں پیش کرکے اراکین کی رائے لی جائے اور ممکن ہوا تو قانون سازی کے ذریعے اختلاط پر مبنی ماحول سے زنانہ سرکاری سکولوں کو پاک کیا جائے اور بچیوں کو فطری اور آزاد ماحول میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کیا جائے۔

جامعات میں میرٹ پر تقرریاں یقینی بنانے کی ضرورت

گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کی جانب سے تمام صوبائی یونیورسٹیوں سے بنیادی سکیل17 تک بھرتیوں کا دس سالہ ریکارڈ کی طلبی اور ریکارڈ کی چھان بین سے جہاں خلاف ضابطہ بھرتیوں کا معاملہ صاف ہوگا وہاں سرکاری جامعات میں میرٹ پر بھرتی افراد کے حوالے سے خواہ مخواہ کے منفی تاثرات کا ازالہ ہوگا اس وقت ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے والا معاملہ ہے جو درحقیقت درست تاثر نہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا کا یہ استدلال درست ہے کہ بھرتیوں سے متعلق دس سالہ ریکارڈ طلب کرنے کا مقصد محض دیکھنا ہے کہ بھرتیوں میں قانونی طریقہ کار اپنایا گیا ہے یا نہیں۔ میرٹ کے برعکس اور سفارشی طور پر بھرتیاں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔ گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد کسی کو بیروزگار کرنا نہیں ہے لیکن اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انصاف اور میرٹ پر مبنی تعلیمی نظام کا قیام ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گزشتہ ادوار میں بعض سرکاری جامعات میں خلاف میرٹ جو بھرتیاں کی گئیں اور یہاں تک کہ آسامیاں فروخت کرنے تک کے الزامات بلاوجہ نہ تھے اس طرح کی صورتحال کے پیش نظر جامعات میں بھرتیوں کا ازسرنو جائزہ لینا بہتر ہوگا۔ یہ معاملہ اسلئے بھی ضروری ہے کہ سپریم کورٹ سے بھی سیاسی بنیادوں پر بھرتی بائیس افراد کا مقدمہ خارج کر دیا گیا جس سے ایک خاص دور میں خلاف میرٹ بھرتیوں کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر ہمیں اپنے جامعات کا ماحول بہتر بنانا ہے یا پھر ان کے معیار میں بہتری لانی ہے تو اس کیلئے خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کو یقینی بنانا ہوگا۔ گورنر خیبر پختونخوا کو اس ضمن میں خاص اقدامات کرنے اور اعلیٰ تعلیم کے محکمے کو اس ضمن میں سفارشات پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک معیاری طریقہ کار کے تحت تدریسی عملے کا خاص طور پر میرٹ پر تقرر یقینی بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ کی ہدایت پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہئے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی محکمہ صحت کو ریفرل سسٹم کے آڈٹ کی ہدایت سے جہاں مریضوں کی اضلاع سے بلاوجہ صوبے کے بڑے ہسپتالوں کو ریفر کرنے کی شرح اور صورتحال کا اندازہ ہوگا وہاں اس سے احتساب کے خوف سے بلاضرورت مریضوں کو بڑے ہسپتالوں میں بھجوانے کی روایت کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ وزیراعلیٰ کی اس ہدایت پر پوری طرح عملی درآمد ہونا چاہئے کہ مریضوں کو غیرضروری طور پر پشاور منتقل کرنے کی بجائے مقامی ہسپتالوں میں ان کا علاج کیا جائے۔ اس اقدام سے ناصرف مریضوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہوگا بلکہ بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ بھی کم ہوگا۔ مریضوں کو بڑے ہسپتالوں میں اشد ضرورت کے تحت ہی بھجوایا جائے، اس سے قبل اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ اُن کا علاج مقامی طور پر ہی ہو تاکہ وہ سفر کی تکلیف اور اخراجات دونوں سے بچ سکیں۔ توقع ہے کہ ڈاکٹر حضرات اس کو انتظامی سے زیادہ اخلاقی ذمہ داری سمجھ کر نبھائیں گے۔

متعلقہ خبریں