Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ابن یونس فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ جمعہ کی نماز پڑھنے جا رہا تھا کہ ایک دکان پر دو تلی ہوئی مچھلیاں رکھی دیکھیں۔ ان کو دیکھ کر بچوں کیلئے خریدنے کا شوق پیدا ہوا مگر میں نے کچھ نہیں کیا۔ سیدھا نماز پڑھنے چلا گیا۔ نماز پڑھ کر گھر واپس ہی آیا تھا کہ دروازے پر کسی نے دستک دی۔ دیکھا تو ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور اس کے سر پر ایک طباق ہے جس میں تلی ہوئی مچھلیاں‘ سرکہ اور کچھ پکی ہوئی کھجوریں تھیں۔ اس نے طباق دیکر کہا کہ اے بوالحرث یہ لو اور بچوں کیساتھ بیٹھ کر کھاؤ۔ عبداللہ بن امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ میں نے صریح بن یونس کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے رب العزت کو خواب میں دیکھا۔ رب تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا کہ اے صریح اپنی حاجت مجھ سے بیان کر۔ میں نے عرض کیا کہ اے میرے رب‘ سر بسر‘ مولف فرماتے ہیں کہ سر بسر عجمی لفظ ہے جس کے معنی راس براس کے ہیں۔ تاریخ ابن خلکان میں ہے کہ صریح بن یونس ابو العباس امام الفقہاء کے دادا تھے۔

علامہ قزوینیؒ نے عجائب المخلوقات میں تحریر کیا ہے کہ عبدالرحمن بن ہارون المغربی نے بیان کیا ہے کہ میں ایک مرتبہ بحر مغرب میں کشتی پر سوار ہوا۔ ہمارے ساتھ صقلیہ مقام کا رہنے والا ایک لڑکا تھا۔ اس کے پاس مچھلی پکڑنے کا ڈور اور کانٹا تھا۔ جب ہماری کشتی موضع برطون میں پہنچی تو اس لڑکے نے اپنی ڈور دریا میں پھینکی۔ اس میں بالشت بھر مچھلی پھنسی۔ لڑکے نے اس کو نکال لیا۔ جب ہم اس مچھلی کو دیکھنے لگے تو معلوم ہوا کہ اس کے داہنے کان پر اوپر کی جانب کلمہ طیبہ اور نیچے جانب محمدؐ اور اس کے بائیں کان کے نیچے رسول اللہ لکھا ہوا تھا۔

امام احمد بن حنبلؒ نے کتاب الزہد میں نوف بکالی سے روایت کی ہے کہ دو شخص ایک مومن اور ایک کافر مل کر مچھلی کا شکار کرنے گئے۔ کافر نے اپنے دیوتا کا اور مومن نے اپنے رب کا نام لیکر اپنا اپنا جال پھینکا۔ کافر ماہی گیر جتنی مرتبہ اپنا جال نکالتا مچھلیوں سے بھرا ہوا نکلتا اور جب مومن اپنا جال نکالتا تو وہ بالکل خالی آتا۔ شام تک دونوں کی یہی کیفیت رہی۔ غرض یہ کہ جب دونوں واپس چلے تو مومن تو مچھلیوں سے بالکل تہی دست تھا اور کافر کے پاس ڈھیر ساری مچھلیاں تھیں۔ مومن کے فرشتہ کو اس حالت کو دیکھ کر افسوس ہوا اور اس نے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں جاکر عرض کیا کہ اے میرے رب مومن بندہ جو تیرا ہی نام لیتا ہے وہ تو خالی ہاتھ آئے اور کافر بندہ جو تیرے غیر کی عبادت کرتا ہے وہ بھرپور لوٹے۔ یہ کیسے ہوا؟

حق تعالیٰ نے فرشتہ کو مومن کا گھر جنت میں اور کافر کا ٹھکانہ دوزخ دکھلا کر ارشاد فرمایا کہ جنت کے اس گھر کے مقابلہ میں (جب وہ اس گھر میں آکر رہے گا) دنیا کی یہ تنگ دستی کچھ نقصان نہیں دے گی۔ اب تو ہی بتا کہ کافر کو اس کی مالداری اس عذاب عظیم سے کچھ نجات دے دیگی؟ فرشتے نے عرض کیا کہ اے میرے رب ہرگز نہیں۔

متعلقہ خبریں