Daily Mashriq


تشدد اور جلاؤ گھیراؤ سماجی اقدار پر حملہ ہیں

تشدد اور جلاؤ گھیراؤ سماجی اقدار پر حملہ ہیں

حالیہ دھرنوں کے دوران سرکاری ونجی املاکوں پر حملے، توڑپھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے مرتکب عناصر کی مختلف ذرائع سے شناخت کے بعد گرفتاریوں کا آغاز بجا طور پر درست ہے۔ جو عناصر ان گرفتاریوں کو حکومت اور دھرنا پارٹی کے درمیان ہونیوالے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں انہیں معاہدہ کی اس شق کا حوالہ ضرور دینا چاہئے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ شرپسندوں کیخلاف کارروائی نہیں کی جائے گی اور کروڑوں روپے کے نقصانات پر صبروشکر کر لیا جائیگا۔ حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسندی کسی بھی قسم کی ہو سماج کے اجتماعی ضمیر پر کھلا حملہ ہی کہلائے گی۔ عدالتی معاملات کو قانونی فورم پر ہی طے ہونا چاہئے۔ کسی عدالتی فیصلے پر ناپسندیدگی کے اظہار کو یرغمال بناکر من پسند فیصلے کیلئے اصرار صریحاً غلط ہے۔ قانون و عدالت کے نزدیک شہادتوں اور تفتیش میں سامنے آئے نکات کی اہمیت ہوتی ہے۔ تفتیش اور انصاف کے عمل کو جذبات کی ٹوپی پہنا دی جائے تو پھر انصاف کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند ہو جائیں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ کیا ریاست محض اسلئے خاموش تماشائی بنی رہے کہ کوئی طبقہ کسی فیصلے کو اپنے فہم اور انا کی روشنی میں دیکھتے ہوئے اس پر عدالتی عمل کے اگلے مرحلہ میں شریک ہونے کی بجائے گروہی طاقت کے مظاہرہ کو عبادت کا درجہ دیتا ہے؟۔ یہ سوچ اپنالی جائے اور ریاست محض تماشائی رہے تو حالات کیا سے کیا ہو جائیں گے ان پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں۔ اصولی طور پر ریاست اور اس کے اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ سماجی اقدار کے تحفظ، امن و امان کے قیام، انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے اور اس امر کو بھی کہ کوئی شخص یا طبقہ نظام کیلئے چیلنج نہ بننے پائے۔ حالیہ دھرنوں کے دوران تشدد اور توڑپھوڑ کے ناپسندیدہ مظاہروں کے علاوہ بعض شخصیات کیلئے جو زبان استعمال ہوئی اور فتوے جاری ہوئے اس پر اگر حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ نہ دیتی تو ملک میں انارکی پھیلنے کا خطرہ بہت واضح تھا۔ کل پھر کسی شخص یا طبقے کو کوئی فیصلہ پسند نہ آتا اور وہ تشدد سے عبارت راستہ اختیار کرلیتا تو اس کیخلاف کارروائی کا جواز کیا ہوتا؟ لازم تھا کہ اس معاملے کو درگزر کے صندوق میں بند کرنے کی بجائے دھرنوں کے دوران تشدد اور توڑپھوڑ کے مرتکب افراد کیخلاف کارروائی کی جائے، اس سے اہم بات یہ کہ پارلیمانی حزب اختلاف ہو یا دیگر سیاسی ومذہبی جماعتیں انہیں محض حکومت کی مخالفت کا شوق پورا کرنے کیلئے الزام تراشی کو بڑھاوا دینے کی بجائے قانون کی بالادستی کے قیام کیلئے تعاون کرنا چاہئے۔ وہ خواتین وحضرات جو حالیہ دھرنوں میں ہوئے تشدد کے مظاہروں کا دفاع 2014 کے سیاسی دھرنوں کے دوران کے واقعات کی روشنی میں فرما رہے ہیں انہیں ٹھنڈے دل سے اس امر پر غور کرنا چاہئے کہ 2014 ء کے دھرنوں کے آغاز سے قبل لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں کھیلی گئی خون کی ہولی کے پیچھے اس وقت کی حکومت کے کیا مقاصد تھے؟۔ ثانیاً یہ کہ حالیہ دھرنا ایک عدالتی فیصلے کیخلاف دیا گیا۔ انصاف کے عمل کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ عدالت کے کسی فیصلے پر فریقین میں سے جس کو اعتراض ہوتا ہے وہ لاٹھیاں لیکر سڑکوں اور چوراہوں پر لوگوں کی زندگیاں اجیرن نہیں بناتا بلکہ فیصلے کیخلاف اپیل دائر کر کے اپنے نکات عدالت کے سامنے رکھتا ہے۔ محض حکومت کی مخالفت میں ہمارے سیاسی قائدین اور مذہبی رہنما یہ ہرگز نہ بھولیں کہ شدت پسندی کسی بھی سماج، نظام حکومت اور ریاست کے حال ومستقبل کیلئے مناسب نہیں۔ جولائی1977ء کے مارشل لا کی کوکھ سے پھوٹی شدت پسندی نے پچھلے 41 برسوں کے دوران ملک اور آبادی کے مختلف طبقات کو جو گہرے گھاؤ لگائے اور جس قدر جانی ومالی نقصان ہوا اسے نظرانداز کر دینا بذات خود جرائم کی حوصلہ افزائی ہی سمجھا جائیگا۔ ایک کثیرالقومی اور کثیر المسلکی ملک میں اعتدال وتوازن صرف اور صرف انصاف اور مساوات کی صورت میں قائم رہ سکتا ہے۔ فرد کے شہری و سیاسی حقوق اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا حکومت کا فرض ہوتا ہے۔ حالیہ دھرنے والوں کے پیدا کردہ ماحول میں مشتعل ہوئے جذبات کو ٹھنڈا کرنے اور دھرنوں سے یرغمال بنے شہریوں کو نجات دلانے کیلئے حکمت عملی کی ضرورت تھی۔ ضروری نہیں کہ حکومتی حکمت عملی پر بزدلی یا پسپائی کی پھبتی کسی جائے بلکہ اسے آئندہ اقدامات کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں اس امر پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ حالیہ دھرنوں کے دوران تشدد اور بلوے میں ملوث افراد سے کس اصول اور قانون کے تحت صرف نظر کر لیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر حکومت پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کیخلاف کارروائی نہ کرتی تو اس صورت میں بھی حکومت مخالف حلقوں اور نجی چینلوں کے سیاپا فروشوں نے کہنا تھا حکومت ناکام ہوگئی ہے عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک مسلمان اور انسان کی حیثیت سے سماجی ومذہبی اقدار کا احترام ہم سب پر واجب ہے۔ مقدمات کے تقدس کو یقینی بنا رکھنا بھی، ثانیاً یہ کہ کوئی بھی حکومت کبھی یہ نہیں چاہے گی کہ اس کے دور حکومت میں شہری امن متاثر ہو۔ جس کا جی چاہے وہ کھلے دل سے توڑپھوڑ کرے اور پھر مقدمات کیلئے اپنے جذبات کو جواز بنا کر پیش کرے، اسلام کو دین فطرت کے طور پر پیش کرنیوالے علماء اور اہل دانش کو اس بات پر ضرور غور کرنا چاہئے کہ فطرت پر حملہ اسلامی تعلیمات سے انحراف نہیں۔ اسلام امن واخوت، بھائی چارے، ایثار وقربانی کی عملی دعوت دیتا ہے لیکن اگر اسلام کے نام پر ہی لوگوں کی جان ومال کو نقصان پہنچانے کا منہ زور عمل شروع ہو جائے اور حکومت خاموش بیٹھی رہے تو نتیجہ کیا ہوگا؟ مکرر عرض ہے پچھلے 41 برسوں کے دوران شدت پسندی نے جتنے زخم لگائے وہی بھرنے میں نہیں آرہے سو ضرورت اس بات کی ہے کہ اس امر کو ہر کس وناکس اور ریاست انفرادی واجتماعی طور پر یقینی بنائیں کہ علم وعمل برداشت، مفاہمت واحترام کا دور دورہ ہو تاکہ اس سوچ کو تقویت ملے جو عدم برداشت سے گندھی ہوئی ہو۔

متعلقہ خبریں