Daily Mashriq


’تیتک تاڑا‘

’تیتک تاڑا‘

’تیتک تاڑا‘ کہا گیا ہے اس لڑائی کو جو کبھی دو یا دو سے زیادہ عورتوں کے درمیان ہوا کرتی تھی۔ گلے گوسوں یا شکوے شکایتوں سے شروع ہو کر طعنوں تشنوں تک جا پہنچتی اور پھر تالیاں بجا بجا کر اور شور مچا مچا کر گالم گلوچ کی حدود پار کرنے لگتی۔ اردو، فارسی، ہندکو اور کشمیری زبان کے نامور شاعر ادیب اور محقق رضا ہمدانی نے اپنے اولین ہندکو مجموعہ کلام ’مٹھے ڈنگ‘ میں تیتک تاڑا کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک خوبصورت نظم میں اس روایتی لڑائی کا نہایت خوبصورت نقشہ کھینچا ہے۔ دو یا دو سے زیادہ عورتوں کے درمیان برپا ہونے والے تیتک تاڑا کے منظرنامہ کے اہم چشم دیدگواہ ہیں۔ پشاور شہر کی قدیم اور روایتی گلیوں میں دو ہمسائیاں آپس میں کسی چھوٹی سی بات پر محض اس لئے اُلجھ پڑتیں کہ ایک ہمسائی دوسری ہمسائی یا اس کے بچے یا اس کے گھر کے کسی دوسرے فرد کا گلہ شکوہ یا شکایت کرنے کی غرض سے اپنے مکان کی منڈیر سے سر نکال کر اسے پکارتے ہوئے کہتی۔ ہوری تم سمجھاتی کیوں نہیں اپنے مردوے کو، وہ جب بھی ہمارے دروازے کے سامنے سے گزرتا ہے دیدے پھاڑ پھاڑ کر ہمارے گھر کے اندر جھانکتا ہے۔ دوسری ہمسائی پہلی کی بات سن کر ’’اچھا میں سمجھاؤں گی‘‘ جیسی کوئی بات کہنے کی بجائے آپے سے باہر ہوکر ایسی کوئی بات کر اُٹھتی کہ پہلے والی کے چاروں کپڑوں میں آگ لگ جاتی۔ اری جاری شہزادی بدرالبدور۔ آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہے کبھی۔ میرے میاں کو کیا پڑی جو تیرے نحوست مارے دروازے میں دیدے پھاڑ پھاڑ کر جھانکے۔ اری اری منہ سنبھال کر بات کر۔ دیدہ پھٹا تو ہوگا تیرا گھر والا۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ گو کو ملی گو جیسی وہ ویسی وہ۔ اری جاری ماسی کوکاں۔ اپنے طعنے دینے لگے لوکاں۔ بات ان چھوٹی موٹی ضرب الامثال روزمروں اور محاوروں پر مبنی چیختے چنگھاڑتے جملوں پر ختم ہوجاتی تو بات وہیں رہ جاتی جہاں تک جا پہنچی ہے۔ مگر ایسا ہرگز نہیں ہوتا تھا۔ وہ جو کہتے ہیں کہ بات کہتی ہے تو مجھے منہ سے نکال میں تجھے شہرسے نکال باہر کروں گی۔ اپنے گھروں کی منڈیروں یا بوے باریوں میں کھڑی آگ پھونکتی تیتک تاڑہ جیسی لڑائی کا جارحانہ کردار ادا کرنے والی ان خواتین کے لہجوں اور ان کے شور سے ایسے نازیبا جملے یا محاورے در آتے جن کی مثالیں یہاں درج کرنا کسی صورت بھی مناسب نہیں لگتا۔ انگریزی زبان میں ایسے جملوں، ضرب الامثال یا محاوروں کو سلینگس کے نام سے اور اردو زبان میں فارسی سے مستعار کلام گسترانہ کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے۔ سال دو پہلے کی بات ہے پروفیسر ناصر علی سید نے راقم السطور کو ایک محفل میں محض اسلئے طلب کیا کہ وہاں امریکہ سے آنے والے ماہر لسانیات عباس کاظمی نے آنا تھا اور مزے کی بات یہ تھی کہ انہوں نے پشاور آنے سے پہلے ناصر علی سید سے یہ بات طے کرلی تھی کہ آپ لوگ میرے اعزاز میں دانشوروں کی جو محفل برپا کریں گے اس میں شین شوکت کا ہونا ضروری ہے۔ ناصر کی ٹیلی فونک کال پر جب حسام حر کے ہاں جمنے والی اس محفل میں پہنچا تو وہاں عباس رضوی اور ناصر علی سید کے علاوہ مشتاق شباب، عزیز اعجاز اور اقبال سکندر جیسے ارباب قرطاس وقلم کو بھی موجود پایا۔ انکشاف ہوا کہ عباس رضوی علاقائی زبانوں میں بکھرے پڑے گسترانہ جملوں اور محاوروں پر مبنی ڈکشنری تیار کر رہے ہیں سو اس محفل میں شامل ہر فرد نے حسب توفیق اپنے سینوں یا لاشعور کے پاتال کو کرید کرید کر ایسے ایسے جملے داغے کہ ساری محفل سروچراغاں بن گئی۔ ہمیں گلابو اور مہتابو کی وہ لڑائی اچھی طرح یاد ہے جس کا تماشا دیکھنے کیلئے گلی کے سارے بچے اس پتلی تماشا دکھانے والے کے گرد جمع ہو جاتے جس نے اپنے داہنے ہاتھ پر گلابو کی پتلی اور باہنے ہاتھ پر مہتابو کی پتلی کا دستانہ چڑھا رکھا ہوتا۔ وہ ڈگڈگی بجاتا گلی میں داخل ہوتا تو اس کیساتھ بچوں کا وہ جلوس بھی آجاتا جو پچھلی گلی میں پیش کئے جانیوالے شو میں اسکے گرد جمع ہو گیا ہوتا۔ وہ ہاتھوں کی انگلیوں پر گلابو مہتابو کو حرکت دیکر اور اپنی زبان سے لڑتی جھگڑتی خواتین کے تند وتیز مکالمے بول کر انکے درمیان تیتک تاڑا کرواتا جسے بچے بڑے سب ہی دیکھ اور سن کر کھی کھی کرکے ہنستے۔ قدیم عورتوں کی تالیاں بجا بجا کر کی جانیوالی لفظوں اور جملوں کی ژالہ باری اس وقت خطرناک صورت اختیار کر لیتی تھی جب لڑنے والی عورتوں کے مرد بھی اس میدان میں کود پڑتے اور بعض اوقات چھوٹی سی بات سے شروع ہونیوالی لڑائی سر پھٹول ہی نہیں قتل مقاتلہ تک کی حدود پار کرنے لگتی۔ یہی صورتحال ہم نے شیخوپورہ کی دو پینڈو خواتین کے درمیان ہونیوالی لفظوں اور جملوں کے تبادلے کی لڑائی میں دیکھی۔ شومئی قسمت سے یہ لڑائی مسلمان اور عیسائی عورت کے درمیان ہورہی تھی اسلئے توتکار سے شروع ہوکر ایک دوسرے کے مذہبی عقائد پر چوٹیں کرنے کا سبب بن گئی اور پھر اس لڑائی میں مرد لوگ بھی کود پڑے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اکبر الہ آبادی جیسی سوچ کے مالک نہیں ہوتے اور وہ کبھی بھی یہ کہنا مناسب نہیں سمجھتے کہ

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں

فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

بھول جاتے ہیں اپنی بند قبا وجبہ ودستار کو اور کود جاتے ہیں تیتک تاڑا کے میدان میں اس کا جزو لاینفک بننے کیلئے جس کا نتیجہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ جاتا ہے اور اس طرح آسیہ مسیح سے ’’عاصیہ ملعون‘‘ بن کر فرزندان توحید کی پھٹکار کی سزاوار ٹھہرا دی جاتی ہے کہ عاصی کہتے ہیں گناہگار کو اور ملعون پر لعنت خداوندی کی آگ برستی ہے۔