Daily Mashriq


فراڈیات، امتحانی ڈیوٹی اور ٹیکنالوجیز کے بیروزگار

فراڈیات، امتحانی ڈیوٹی اور ٹیکنالوجیز کے بیروزگار

وطن عزیز میں دولت کمانے کی بڑھتی حوس کی بناء پر فراڈ اور جعلسازی کا راستہ اختیار کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور جیتو پاکستان پروگرام کے نام پر سادہ لوح افراد کو موبائل پر میسج بھیج کر ٹھگ لینے کا عمل زور وشور سے جاری ہے۔ اب تو سائبر کرائم باقاعدہ ایک کاروبار بن چکا ہے اور بنکوں میں پڑی رقم بھی محفوظ نہیں، یہاں تک کہ اس ضمن میں پاک آرمی جیسے ادارے کا نام استعمال کرتے ہوئے فراڈیوں کو ذرا خوف نہیں آتا۔ ہمارے محترم قاری ڈاکٹر ظہور نے اس ضمن میں توجہ دلائی ہے اور دو ٹیلیفون نمبروں کی بھی نشاندہی کی ہے اگر صرف انہی دو نمبروں سے ہی اس قسم کی کالیں ہو رہی ہوتیں تو معاملہ قابل ذکر تھا یہاں ہر دوسرے کو کسی نہ کسی نمبر سے کال اور برقی پیغامات آرہی ہوتی ہیں۔ ایک ذریعے کے مطابق کچھ سال قبل بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے سروے کے نام پر منظم طریقے سے فون نمبر اکھٹے کئے گئے تھے، سادہ لوح افراد کو جھانسے کیلئے ان کا استعمال کیا گیا اور کیا جا رہا ہے، اگرچہ ایسا تاثر دینا اچھا نہیں لیکن اس کے باوجود شبہ ہے کہ ہم جو مختلف سرکاری وغیر سرکاری دستاویزات وغیرہ پر اپنا فون نمبر دیتے ہیں وہ بھی کسی نہ کسی طرح فراڈیوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ ہمارے نمبرات پر بلاوجہ معروف برانڈ کی کمپنیوں سے جو اشتہاری مواد موصول ہوتے ہیں انہوں نے بھی کہیں نہ کہیں سے نمبر حاصل کئے ہوتے ہیں۔ معروف جفت ساز کمپنی لینڈلائن پر ہر دو سال بعد کال کر کے اپنے تیار کردہ جوتوں سے متعلق رائے لیتی ہے۔ اگر آپ کا نمبر میڈیکل وانجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کے کسی فارم پر لکھا جائے تو چار پانچ سال تک آپ کو بیرون ملک داخلوں کے اشتہارات آتے ہیں جس کا واضح مطلب ہے کہ ایٹا کے ڈیٹا سے آپ کا نمبر لیا گیا۔ یہاں پر مختلف قسم کے حساس رازوں کا حیرت انگیز طور پر افشا ہونے کی دلچسپ کہانیاں لکھ کر اور حساس معلومات کے غیرمحفوظ ہونے کا انکشاف کرنے کو بڑا من کرتا ہے مگر یہ کہانی پھر سہی۔ راز کو راز رکھنا ہے تو پھر اسے محدود سے محدود کیجئے۔ فون نمبر، شناختی کارڈ نمبر خصوصاً اے ٹی ایم کارڈ کے متعلق معلومات کی کبھی کبھار آگاہی پر مبنی لٹریچر پڑھ کر حفاظت کے طریقوں سے بھی آگاہی حاصل کیجئے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ کسی لالچ میں مت آئیں، شارٹ کٹ والے اکثر کٹ جاتے ہیں، جیب بھی کٹتی ہے عزت بھی اور سب کچھ۔ احتیاط اک گام احتیاط۔سخاکوٹ ملاکنڈ سے سردار بادشاہ نے امتحانی ڈیوٹیوں میں اساتذہ کی بجائے بیروزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ڈیوٹیاں لگانے کی تجویز کو سراہتے ہوئے اس پر اظہار خیال کی دعوت دی ہے، میں تو ہمیشہ سے نوجوانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں ذمہ داریاں دینے کی بھرپور حامی ہوں۔ نوجوانوں کی عارضی ملازمت سے لیکر اچھی سے اچھی ملازمتوں پر خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر تعیناتی ہونی چاہئے۔ امتحانی ڈیوٹیوں کیلئے نوجوانوں کی تقرری میں شفافیت لانے کیلئے ایک سکریننگ ٹیسٹ لیا جائے تاکہ تعلیمی بورڈوں کے حکام واہلکار سرکاری حکام اور سیاسی عناصر اسے خویش پروری کا ذریعہ نہ بنا سکیں اور صوبہ بھر کے نوجوانوں کو میرٹ پر مواقع میسر آئیں۔ میں نوجوانوں کیلئے تجربہ کی شرط رکھنے والے اداروں سے سخت نالاں ہوں۔ بندہ یونیورسٹی سے ڈگری لیکر تو نکل سکتا ہے تجربہ نہیں۔ تجربے کیلئے اسے کسی نہ کسی ادارے میں موقع ملنا چاہئے مگر یہاں ان کا راستہ تجربہ کی شرط رکھ کر روکا جاتا ہے۔ اصول تجربہ نہیں قابلیت اور میرٹ ہونا چاہئے۔ بعض معروف اور بڑے سکولوں، مختلف ملٹی نیشنل کمپنیز اور اداروں میں تجربہ ضروری نہیں کا جملہ پڑھ کر دل خوش ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور ایسا ہی ہوناچاہئے۔ عملی طور پر پڑھانے کا عمل ہو یا دفتری امور یہاں تک کہ حساس سے حساس اداروں میں فرائض کی انجام دہی سیکھ کر اور تجربے کا حامل کسی کو نہیں لیا جاتا اور نہ ہی ایسا کرنا ضروری ہے۔ میری دانست میں ہر آسامی کیلئے مارکیٹ سے بہتر خام مال ڈھونڈ کر اسے اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور تربیت دینے کی ضرورت ہی بہتر فارمولہ ہونا چاہئے اور اچھے اداروں میں ایسا ہی ہوتا ہے جس کی تقلید ہونی چاہئے۔ اس اصول کو سرکاری طور پر اپنایا جائے تاکہ ٹیلنٹ آگے آئے۔فروٹ منڈی اسلام آباد کے فروٹ سب ٹریڈرز کے جنرل سکریٹری ذاکر باچہ نے افغانستان سے فروٹ سبزی لیکر آنے والے ٹرکوں سے پانچ ہزار روپے رشوت لیکر چھوڑنے اور بلاوجہ ٹرک کلیئر کرنے میں تاخیر کے مسئلے کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔ پانچ ہزار روپے فی ٹرک وصولی کی پہلے سے بھی شنید ہے بڑے بڑوں کے ملوث ہوئے بغیر اس قدر دھڑلے سے یہ دھندہ ممکن نہیں۔ پھل اور سبزیاں پہلے بھی مہنگے ہونے کے باعث عوام کی دسترس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹرکوں سے مال لانے پر جتنی لاگت آئے گی اس کا بوجھ عام صارف پر ہی پڑے گا، غریبوں کے منہ سے لقمہ تک چھیننے والے ’’پانچ ہزاریوں‘‘ سے خوف خدا کرنے کو ہی کہا جا سکتا ہے، کاش کہ وہ خوف خدا کریں۔کرک سے عاقب اقبال خٹک کا برقی مراسلہ ہے کہ انہوں نے بی ایس پیرامیڈیکس پیتھالوجی میں بی ایس کیا ہے مگر اس اہم شعبے کے سند یافتگان کیلئے ملازمت کا کوئی بندوبست اور طریقۂ کار موجود اور مقرر نہیں۔ ان کا بجاطور پر یہ سوال ہے کہ اگر مارکیٹ میں ملازمتوں کے مواقع نہیں تو خیبر میڈیکل یونیورسٹی یہ کورسز کرواتی کیوں ہے؟ میری دانست میں سرکاری طور سے اس شعبے میں ملازمتوں کے حوالے سے کوئی پالیسی شاید نہ ہو وگرنہ چھوٹے بڑے اور اوسط درجے کے نجی ہسپتالوں اور معروف لیبارٹریز میں اس فنی نوعیت کے سند یافتگان کیلئے ملازمت کے مواقع میں کمی نہیں ہونی چاہئے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں