Daily Mashriq


پی ٹی آئی کا دوہرا معیار

پی ٹی آئی کا دوہرا معیار

انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان اپنے دھرنوں کی تقاریر اور ریلیوں میں اداروں کی مضبوطی، نظام کی درستگی اور انصاف کی باتیں کرتے تھے۔ اپنی تقاریر میں بار بار اس بات کا اعادہ کرتے تھے کہ جس ملک میں انصاف کی بالادستی نہ ہو اور ریا ستی ادارے کمزور ہوں وہ ملک کسی صورت نہیں چل سکتا۔ ہمیشہ لاکھوں لوگوں کے دھرنوں اور ریلیوں میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا وہ قول سناتے کہ ریاست کفر سے تو چل سکتی ہے مگر انصاف کے بغیر نہیں چل سکتی۔ چین کے حالیہ سرکاری دورے کے موقع پر تقریر میں جس کو سرکاری ٹی وی اور ریڈیو نے براہ راست نشر کیا، وزیراعظم عمران خان نے اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی، کرپشن اور انصاف کی بات کی۔ اگر غور کریں تو محترم عمران خان جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔ کسی بھی ریاست کے تین مضبوط ستون ہوتے ہیں جس میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ شامل ہیں۔ تمام بڑے بڑے اداروں کی طرح انتظامیہ اور پولیس کا ملک میں امن وامان قابو کرنے میں اہم کردار ہوتا ہے اور اگر اس میں بھی سیاسی مداخلت اور اثر رسوخ کا استعمال ہو تو پھر یہ ادارے وہ کردار اور رول ادا نہیں کر سکتے جو ان کا ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں پاک پتن کے ضلعی پولیس آفیسر رضوان گوندل کا اسلئے تبادلہ کیا گیاکیونکہ پولیس اہلکاروں کے بارے میںالزام تھا کہ انہوں نے ایک چیک پوسٹ پر خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا سے بدتمیزی کی تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب بنفس نفیس خاتون اول کے سابق شوہر خاور مانیکا کی رہائش گاہ پر گئے اور ڈی پی او رضوان گوندل کو بھی دھمکایا گیا کہ وہ بھی خاور مانیکا سے معافی مانگیں مگر رضوان گوندل نے تمام الزامات کو مسترد کیا اور معافی مانگنے سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ پولیس اہلکاروں نے خاتون اول کے سابق شوہر سے بدتمیزی کی ہو۔ بعد میں وزیراعظم کی ذاتی مداخلت پر متعلقہ ڈی پی او کیخلاف کارروائی کی گئی۔ وزیراطلاعات فواد چودھری نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم پولیس آفیسر کیخلاف ایکشن نہیں لے سکتے تو الیکشن جیتنے اور مینڈیٹ لینے کا کیا فائدہ۔ مجھے حکمران بتا دیں کہ ڈی پی او کیخلاف اس قسم کے ناجائز اور بلاجواز ایکشن لینے کے بعد ماتحت پولیس اہلکاروں کی نظر میں اس پولیس آفیسر کی کیا وقعت ہوگی اور کیا اس قسم کے واقعے پر عام شہری کیلئے بھی اس قسم کا ایکشن لیا جاتا۔ ایک اور واقعہ وفاقی وزیر اعظم خان سواتی کا بھی ہے۔ وفاقی وزیر، اعظم سواتی نے اپنی رہائش گاہ کے قریب جھگیوں میں رہنے والوں پر الزام لگایا کہ ان کے جانور میرے لان میں داخل ہوئے اور پودوں کو خراب کیا۔ بعد میں اطلاعات کے مطابق اعظم خان سواتی کے گارڈ اور دوسرے لوگوں نے ان غریبوں پر ہلہ بول دیا اور ان کی پٹائی بھی کی اور تخریب کاری کا الزام بھی ان غریبوں پرلگایا۔ ان غریب جھگی والوں کا کہنا تھا کہ ہم غریب لوگ ہیں کہاں اعظم سواتی اور کہاں ہم۔ ان کے مطابق دراصل اعظم سواتی ان کو اس علاقے سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں۔ اقتدار کے نشے میں دھت اعظم سواتی ان غریبوں کو پولیس کے ہاتھوں مزید ذلیل اور رسوا کرنا چاہتا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں دو عورتوں اور چھوٹی بچی کو گرفتار بھی کیا مگر اس کے باوجود بھی اعظم سواتی کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اور انہوں نے وزیراعظم کو شکایت کی کہ آئی جی اسلام آباد نے میری کال اٹینڈ نہیں کی اور اسی طرح آئی جی جان محمد کو ہٹایا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ اسی طرح اگر شکایت پاکستان کے کسی اور شہری نے کی ہوتی تو کیا اس پر اس طرح ایکشن لیا جاتا۔ناصر درانی اور خیبر پختونخوا پولیس کے قصے عمران خان دھرنوں میں سناتے۔ جیساکہ سب کو پتہ ہے کہ پی ٹی آئی کی چند دن کی حکومت میں پولیس اور دوسرے سرکاری اداروں کے نظام میں مداخلت کو اپنا وتیرہ بنایا ہے۔ موجودہ حکومت کے کہنے پر پنجاب کے ایک اچھے اور ایماندار اور فرض شناس آئی جی کا تبادلہ کسی اور جگہ کیا گیا جس پر ناصر خان درانی نے اچھا نہیں سمجھا اور ایک لحاظ سے کارسرکار میں مداخلت پراستعفیٰ دیدیا۔ عمران خان اور ان کے وزرائے کرام کے بارے میں ایک تاثر ہے کہ سرکاری اداروں بشمول محکمہ پولیس میں بلاجواز مداخلت کرتے ہیں۔ ابھی محترم عمران خان کے دو مہینے بھی نہیں ہوئے اور جس طرح اداروں کو بلاجواز چھیڑتے ہیں اور ان میں مداخلت کرتے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پی ٹی آئی کی76دن کی حکومت میں اعلیٰ پولیس آفیسرز کے بلاجواز تباد لے اور ان کی توہین کرنے کی مثال میرے خیال میں پچھلی حکومتوں میں نہیں ملتی۔ عمران خان آپ تو ٹرانسپرنسی، انصاف، میرٹ ، قانون کی بالادستی، انتظامیہ میں مداخلت نہ کرنے کی باتیں کرتے تھے کدھر گئے آپ کے وعدے۔

متعلقہ خبریں