Daily Mashriq


نئے سفر کیلئے فیصلے کا موقع دے

نئے سفر کیلئے فیصلے کا موقع دے

آج کی نسل کو تو کچھ نہیں پتہ کہ یہ جو خلائی سفر اتنی ترقی کر گیا ہے اور روس وامریکہ کے علاوہ بھی کئی ممالک خلائی دوڑ میں شامل ہوچکے ہیں تو اس کا آغاز کیونکر اورکیسے ہوا تھا، دراصل انسان کے جذبہ تجسس نے ایں سے وہ وہ محیرالعقول کارنامے کروائے کہ بقول شاعر

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

رائٹ برادران کو ہوائی جہاز کی ایجاد کا کریڈٹ دیا جاتا ہے جبکہ کچھ تحقیق ایسی بھی سامنے آئی ہے کہ ہوا میں اڑنے کا خواب اور اسے ابتدائی طور پر عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں بھی مسلمان سائنسدانوں کا ہاتھ ہے، بہرحال ہوائی جہاز کی ایجاد سے آغاز ہونیوالا خواب خلا کو تسخیر کرنے میں ڈھالنے کیلئے سب سے پہلے روس نے سپتنک نامی سیارہ خلاء میں بھیجا تھا اور اس کے بعد امریکہ بھی اس دوڑ میں شامل ہو گیا تو دونوں بڑی طاقتوں کے مابین خلائی دوڑ شروع ہوئی اور جو پہلا جاندار خلاء میں بھیجا گیا تو وہ بندر تھا۔ اس کے بعد کتا بھی خلاء نوردوں میں شامل ہوگیا تھا تاکہ اس قسم کے جانوروں پر ہونے والے خلائی اثرات کو انسانوں کیلئے اس دوڑ میں شامل کرنے کیلئے ابتدایئے کے طور پر جانچا اور پرکھا جا سکے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت انسان بہت ظالم ہے وہ ہمیشہ خود کو بچانے کیلئے جانوروں کو ڈھال بناتا ہے۔ کبھی وہ بندروں کو تختۂ مشق بناتا ہے تو کبھی کتوں بلیوں کو اور چوہے بے چارے تو دنیا بھر میں مختلف بیماریوں کے ویکسین کو جانچنے کیلئے تجربات سے گزارنے میں استعمال ہوتے ہیں۔ بہرحال جب پہلے بندر کو خلاء میں بھیجا گیا تو اس وقت اگرچہ آنجہانی بال ٹھاکرے کی جوانی کا دور تھا مگر اس نے روس کی اس حرکت پر کوئی احتجاج نہیں کیا کہ ہنومان دیوتا کو کیوں بَلی (قربانی) چڑھایا جا رہا ہے حالانکہ بندر ہندوؤں کے مقدس دیوتا کی طرح ہے جس نے لنکا ڈھا دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور بال ٹھاکرے یا اس کے تیارکردہ انتہا پسندوں کا زور تو گاؤماتا کے حوالے سے مسلمانوں پر بہت چلتا ہے اور صرف الزام لگا کر کہ مسلمانوں نے گائے کو ذبح کیا، ان کا قتل عام شروع کر دیا جاتا ہے، اس لئے اگر ہنومان جی کو خلاء میں بھیجنے پر ہندوؤں کو کوئی اعتراض نہیں تھا تو شاید اس کی وجہ یہ بھی رہی ہو کہ اس دور میں سوویت یونین کشمیر کے مسئلے پر بھارت کا ساتھ دے رہا تھا اور سلامتی کونسل میں آنے والی قراردادوں کو ویٹو کر کے بھارت کی لڑائی لڑ رہا تھا اور وہ جو کہتے ہیں کہ بنئے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے، تو بال ٹھاکرے اور اس کے حواری بھی اسی لئے اپنے ہنومان جی کے بلیدان پر خاموش تھے۔ غالباً اسی دور میں جب روس اور امریکہ خلائی دوڑ میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑتے ہوئے چاند پر کمندیں ڈالنے میں مصروف تھے ایک شاعر ضبط سہارنپوری نے کہا تھا کہ

چرچے جو شب وروز ہیں تسخیر قمر کے

کیا مسئلے حل ہوں گے سب نوع بشر کے؟

شاعر نے اس شعر میں جس بات کی جانب اشارہ کیا ہے اگر اس کی حقیقت پر غور کیا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے، مگر اہل مغرب تو ان باتوں کو نہیں سوچتے اور وہاں ایسے دیوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو چاند، مریخ وغیرہ پر آباد ہونے کیلئے ابھی سے پلاٹ خرید رہے ہیں۔ ان ممالک میں ایسی کمپنیاں قائم ہوچکی ہیں جو وہاں پلاٹوں کی بکنگ کرا رہی ہیں اور انہیں خریدار بھی مل رہے ہیں، اس پر مرحوم مشتاق احمد یوسفی کی وہ بات یاد آرہی ہے جو انہوں نے تحریر کی تھی کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ بیماریوں کا علاج ڈاکٹروں، حکیموں، طبیبوں کے بجائے گنڈے تعویذوں سے کرتے ہیں اور حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ لوگ ٹھیک بھی ہوجاتے ہیں، تو یہ جو اہل مغرب چاند وغیرہ پر پلاٹ حاصل کرنے میں نام نہاد کمپنیوں کے پاس بکنگ کروا رہے ہیں ان کا حشر بھی ہمارے ہاں کی فراڈ کمپنیوں کی جانب سے خیالی پلاٹوں کی خرید وفروخت سے دھوکہ کھانے والوں جیسا ہی ہوسکتا ہے، البتہ آنے والے زمانوں میں کم ازکم چاند کی سیر کیلئے جانے والوں کا کیا ہوگا جو ابھی سے خلائی جہازوں میں نشستیں مخصوص کروا کر دولت لٹا رہے ہیں؟۔

نئے سفر کیلئے فیصلے کا موقع دے

ہوائے شہر مجھے بولنے کا موقع دے

یہ خلائی سفر کا تذکرہ یوں ہی نہیں ہے، دراصل وزیراطلاعات ونشریات نے گزشتہ روز جو ایک بیان دیا ہے کہ سپارکو فسادی سیاستدانوں کو خلاء میں بھیج کر واپسی کا راستہ بند کر دے تو یہ دراصل اسی کا ردعمل تھا کہ مختصر طور پر خلائی سفر کی تاریخ یاد آتی چلی گئی چونکہ اب خلاء کا سفر بہت حد تک محفوظ ہو چکا ہے اس لئے یہ خدشہ تو نہیں رہے گا کہ جن ’’فسادی‘‘ سیاستدانوں کو وزیر موصوف نے خلاء میں بھیجنے کی خواہش ظاہر کی ہے ان کو خدانخواستہ کوئی خطرہ لاحق ہو جائے گا حالانکہ جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے غالباً خلاء کے پہلے مسافر یعنی ہنومان جی کے زندہ واپس آنے کی کوئی خبر نہیں آئی تھی، البتہ اس کے بعد جو بندروں کا جوڑہ روانہ کیا گیا تھا وہ بخیریت واپس آگیا تھا مگر فواد چوہدری کی خواہش تب پوری ہو سکتی ہے جب سپارکو ایک خاص خلائی جہاز بنانے میں کامیاب ہو جائے جس پر اٹھنے والا خرچہ شاید ہماری معیشت برداشت کرنے کی فی الحال قابل نہیں ہے، اس لئے وزیر موصوف اپنے ٹٹو چھاویں بنیں کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔

امیر شہر تری بات ہے سر آنکھوں پر

مگر یہ اپنے مسائل کا مدوا تو نہیں

متعلقہ خبریں