Daily Mashriq

اپوزیشن کا نیب قانون میں ترمیم کو نامنظور کرنے کا عندیہ

اپوزیشن کا نیب قانون میں ترمیم کو نامنظور کرنے کا عندیہ

اسلام آباد: ایوانِ بالا میں حکومت اور اپوزیشن کے سینیٹرز کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا جس میں حکومتی اراکین نے اپوزیشن کے قانون سازوں پر بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا تو اپوزیشن کے سینیٹرز نے احتساب کے نام پر مخالفین کو نشانہ بنانے کا مرتکب ٹھہرایا۔

اس موقع پر سابق سینیٹ چیئرمین میاں رضا ربانی نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ سینیٹ کے موجودہ اجلاس کے دوران صدارتی آرڈیننس ایوان کے سامنے پیش کیا جائے انہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط کے تحت بلائے گئے اجلاس کی مطلوبہ کارروائی ہوجانے کئے بعد حکومتی معاملات کے حوالے سے کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سینیٹ کا اجلاس اس لیے بلایا گیا کہ حکومت نے 2 ماہ سے زائد عرصے سے سینیٹ کا کوئی اجلاس منعقد نہیں کیا تھا۔

بعدازاں ایوانِ بالا کے اجلاس میں مبینہ طور پر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کی حالیہ لہر اور اپوزیشن اراکین کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ سابق رکن پارلیمنٹ کی شہریت ختم کیے جانے کے معاملے پر بات چیت کے لیے قرارداد بھی منظور کی گئی۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے اعلان کیا کہ اپوزیشن قومی احتساب بیورو (نیب) کے قوانین میں ترمیم کا حال ہی میں جاری کیا گیا آرڈیننس نامنظور کردے گی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں نیب قانون میں کی گئی ترمیم کے تحت 5 کروڑ روپے سے زائد کی بدعنوانی کے الزام کا سامنا کرنے والے شخص کو جیل کی ’سی کلاس‘ میں رکھا جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب اس لیے کیا گیا کہ موجودہ حکمرانوں کے تمام مخالفین 5 کروڑ روپے سے زائد کی بدعنوانی کے بے بنیاد الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔

اس موقع پر سینیٹر رضا ربانی نے نیب آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) کی حکومتوں کی غفلت تھی کہ وہ سب کے لیے احتساب کا کوئی قانون نہیں لاسکیں جس میں مقدس گائے کے لیے کوئی گنجائش نہیں بچتی۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ اگر ججز اور فوجی افسران پر الزام کی سماعت ان کے ساتھی کرتے ہیں تو سیاستدانوں کا ٹرائل بھی پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے۔

اجلاس میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشاق احمد غنی نے الزام عائد کیا کہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ اور مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے انہوں نے اس بات پر سخت تنقید کی کہ ایک سابق سینیٹر جو صوبائی وزیر بھی رہ چکا ہو کو ایلین قرار دے دیا گیا، انہوں نے اس اقدام کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

متعلقہ خبریں