Daily Mashriq

ٹوئٹر کے دو سابق ملازمین پر سعودی عرب کے لیے جاسوسی کا الزام

ٹوئٹر کے دو سابق ملازمین پر سعودی عرب کے لیے جاسوسی کا الزام

امریکہ میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے دو سابق ملازمین پر سعودی عرب کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

سان فرانسسکو میں بدھ کو یہ الزامات سامنے پیش کیے گئے جس میں کہا گیا کہ سعودی نژاد ملازمین نے ٹوئٹر پر سعودی حکومت کے ناقدین اور دیگر صارفین کی ذاتی معلومات جمع کیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق ایک امریکی شہری احمد ابو عامو اور ایک سعودی شہری علی الزباراح پر جاسوسی کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق ایک تیسرے شخص کا نام بھی اسی کیس میں ملوث جس کا نام احمد المتاعری بتایا گیا ہے اور اس کی شناخت ایک سعودی شہری کی حیثیت میں کی گئی ہے۔

ان الزامات کے مطابق احمد المتاعری ٹوئٹر میں کام کرنے والے احمد ابو عامو اور علی الزباراح اور سعودی حکام کے مابین رابطے کا ذریعہ تھے۔

بدھ کو احمد ابو عامو عدالت میں پیش ہوئے اور اب اگلی پیشی جمعے کو ہوگی۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے اثر و رسوخ کی کہانی

خاشقجی قتل: سعودی ولی عہد کے مبینہ کردار کی تحقیقات کا مطالبہ

سنہ 2015 میں ٹوئٹر سے نوکری چھوڑ دینے والے احمد پر مزید یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے ماضی میں امریکہ کی فیڈرل بیورو آف انوسٹیگیشن سے جھوٹ بولا اور غلط معلومات والے دستاویزات فراہم کیں۔

دیگر دونوں افراد، علی الزباراح اور احمد المتاعری کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں ہیں۔

علی الزباراح ٹوئٹر میں بطور انجنئیر کام کر رہے تھے اور ان پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ 2015 میں سعودی حکام کے کہنے پر ٹوئٹر کے 6000 صارفین کی معلومات اکٹھا کی تھیں۔

اس واقعے کے بعد ٹوئٹر میں ان سے پوچھ گچھ کی گئی اور انھیں دفتر سے معطل کر دیا گیا جس کے بعد وہ اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ سعودی عرب چلے گئے۔

ٹوئٹر نے اپنے باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ 'ہم جانتے اور سمجھتے ہیں کہ ہماری سروس کو نقصان پہنچانے کے لیے برے عناصر کس حد تک جا سکتے ہیں۔'

بیان میں مزید کہا گیا کہ 'ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری سروس استعمال کرنے والے صارفین کس قدر خطرے مول لیتے ہیں اپنی ذاتی رائے پیش کرنے میں اور اپنی طاقت کا غلط استعمال کرنے والوں پر سوال اٹھانے میں۔ ہمارے پاس ایسے ذرائع ہیں جن کی مدد سے ہم ان کے تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں تاکہ وہ اپنا ضروری کام جاری رکھ سکیں۔'

واضح رہے کہ سعودی عرب مشرق وسطی میں امریکہ کا انتہائی اہم اتحادی ملک ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں معروف صحافی جمال خاشقجی کے استنبول میں سعودی سفارت خانے میں قتل کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے اپنے قریب تعلقات برقرار رکھے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ کی اپنی جاسوس ایجنسی سی آئی اے نے سعودی حکام پر جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔

متعلقہ خبریں