Daily Mashriq

بند گلی میں راستہ نہیں ملتا

بند گلی میں راستہ نہیں ملتا

اور موسم کی خنکی ہی سے دھرنے کے قائدین اور شرکاء کا امتحان نہیں بلکہ اس سے بھی پیچیدہ مسئلہ مذاکرات کے دو ادوار کے باوجود ڈیڈ لاک ہے۔ رہبر کمیٹی کی طرف سے حکومتی وفدکو کورا جواب ملنے کے بعد معاملات کا رخ تبدیل ہوگا یا پھر اسی طرح تحمل کے ساتھ آزادی مارچ کے شرکاء مقررہ مقام ہی پر رہنے پر اکتفاء کریں گے۔ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمن اور ان کے رفقاء جب تک صبر و برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کرتے رہیں اور دوسری جانب حکومت سے مذاکرات میں ڈیڈ لاک نہ کھلے اور مذاکرات کے خاتمے کی نوبت آئے تو کیا پھر بھی حالات کی کروٹ نہیں بدلے گی ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔ چوہدری برادران کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات نہ ہوتی تو معاملات اب تک شاید اس طرح نہ رہتے جاری صورتحال میں حکومت اور آزادی مارچ کے قائدین دونوں ہی بند گلی میں آمنے سامنے ہیں مطالبات کی نوعیت اس طرح کی ہے کہ حکومت تین اہم مطالبات میں سے کسی ایک مطالبے کو بھی قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ایسے میں درمیانی راستہ قومی حکومت کا قیام اور ایوان کے اندر تبدیلی ہی بند گلی سے پر امن اور آئینی طور پر نکلنے کاایک معتدل راستہ ہے مگر فریقین ابھی اعتدال کاراستہ اپنانے پر آمادہ نہیں اور جب تک یہ صورتحال رہتی ہے تب تک مذاکرات میں پیشرفت بھی ممکن نظر نہیں آتی۔ سیاسی معاملات کا حل سیاسی طریقوں سے نہ نکلنے کا نتیجہ جمہوریت اور ملک دونوں کے لئے بہتر ثابت نہیں ہوتا رہا ہے اس مرتبہ سیاسی معاملات میں ایک ایسے فریق کو بھی سیاسی بنانے کی سعی نظر آتی ہے جو اس طرح کے معاملات میں کسی آئینی کردار کی گنجائش نہ ہونے کے باوجود ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے کردار' ثالثی اور معاہدوں تک کا سہولت کار و ضامن بنتا آرہا ہے' کم از کم اس وقت اس فریق کا بطور ثالث کردار اب ممکن نہیں۔ جے یو آئی کی قیادت اور حکومت دونوں تصادم سے گریز اور آئینی حدود سے تجاوز کے خواہاں نہیں مذاکرات کی کامیابی کے لئے کوئی بھی فریق ایک قدم پیچھے ہٹنے کو بھی تیار نہیں انتظار اور برداشت کامظاہرہ کٹھن امتحان ہے سیاستدانوں کا یہ طرز عمل مذاکرات کے عمل میں اپنا موقف زیادہ سے زیادہ منوانے کی حکمت عملی کی حد تک تو درست ہے مگر ایک حد تک آزادی مارچ کے مطالبات اتنے سخت اور پیچیدہ ہیں کہ ہر شرط بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اقتدار کی قربانی ہے جس کے لئے آسانی سے تیار ہونے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ فریقین کا افہام و تفہیم سے گریز کا رویہ جب تک رہے گا تب تک ملکی معاملات' معیشت و اقتصاد' مواصلات و آمد و رفت متاثر سے متاثرتر ہوتی جائے گی جس کاملک متحمل نہیں ہوسکتا حکومت اور آزادی مارچ کے قائدین دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی جب تک اپنائے رکھیں گے مسائل کاحل نہیں نکلے گا فریقین کا ڈیڈ لاک کے باوجود مذاکرات جاری رکھنا اب امید کی وہ واحد کرن ہے جس کے نتیجے میں پیشرفت کی موہوم امید باقی ہے ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ مذاکراتی ٹیمیں متبادل تجاویز اور درمیانی راستہ نکالنے کے لئے پوری صلاحیتیں بروئے کار لائیں گی اور حکومت ایسی پیشکش میں سبقت لے گی جس سے مذاکرات کا عمل ختم ہونے کی بجائے آگے بڑھے اور فریقین کے لئے قابل قبول راستہ نکل آئے۔ رہبر کمیٹی کو بھی سخت گیری اور ہر حال میں اپنی منوانے کی بجائے متبادل تجاویز اور درمیانی راستے پر غور کرنا چاہئے اور اپنے کارکنوں کو مزید امتحان میں ڈالنے سے گریز کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں