Daily Mashriq

پر تشدد معاشرہ' سنگین صورتحال

پر تشدد معاشرہ' سنگین صورتحال

جامعہ پشاور میں منعقدہ کریمنالوجی کانفرنس میں پاکستان میں بندوق کی نوک پر تشدد کے ساتھ ساتھ وائٹ کالر اور سائبر کرائم کی شرح میں اضافہ کا انکشاف معاشرے کا وہ چہرہ ہے جو واضح طور پر نظر تو آتا ہے لیکن ہم اس چہرے کی شناخت اور اس کی حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کی صورتحال میں دہشت گردوں کا خاتمہ ہوچکا ہے غیر قانونی ہتھیاروں کی بھی روک تھام کی سعی ہوچکی ہے لیکن کلاشنکوف کلچرکی آمد سے اب تک پیش آنے والے واقعات اور حالات کے اثرات ابھی معاشرے میں پوری طرح موجود ہیں۔ ملک میں انصاف کی عدم فراہمی انصاف میں تاخیر' انصاف کے حصول کا مہنگا ہونا پولیس کا چارہ دست کے مقابلے میں کمزور کی سننے کی بجائے چارہ دست کی حمایت کا رویہ ہی معاشرے میں بندوق کی نوک پر اپنی منوانے' جنسی تشدد' ڈکیتی و قتل مقاتلے کی وارداتوں میں اضافہ کی وجوہات کاہونا اپنی جگہ مشکل یہ ہے کہ اس سے معاشرے پر پڑنے والے اثرات اس طرح پختہ ہوچکے ہیں کہ اس صورتحال سے نکلنا ایک دو نسل بعد ہی ممکن ہوگا۔ بد قسمتی سے نئی نسل بھی پر تشدد ویڈیو گیمز کھیلنے کی عادی بن چکی ہے۔ پرتشدد اور جنگ و جدل سے بھرپور برقی سکرینوں کے تفریح سمجھ کر کھیلے جانے والے کھیل بھی نوجوان نسل میں غصہ و نفرت کے جذبات بھر رہے ہیں افسوناک امریہ ہے کہ حکومت اور معاشرہ کو اس صورتحال کا ادراک اور اس کے تدارک کی کوئی فکر نہیں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور میں سٹریٹ کرائمز میں اضافے کی ایک بڑی وجہ اسلحہ بردار منشیات کے عادی افراد کی وارداتیں بتائی جاتی ہیں منشیات کا استعمال بھی تشدد میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے جس پر قابو پانے کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی۔ سکولوں میں طالب علموں کو تحمل و برداشت کا درس ملنے کی بجائے تشدد ' سختی اور نفرت سیکھنے کو ملتی ہے۔ سر سے اونچا ہوتے پانی کو دیکھنے محسوس کرنے اور اس سے بچنے کے لئے حکومتی اداروں اور معاشرے کے نمائندہ کرداروں کو غور و فکر کرنے اور لا لحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ سائبر کرائمز اور وائٹ کالر کرائمز اپنی جگہ جرائم تو ہیں ہی ان کا کسی نہ کسی طرح تعلق اور واسطہ پر تشدد واقعات سے جڑا ہوتا ہے سائبر کرائمز میں اضافہ کی بڑی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ اولاً اس حوالے سے معلومات کی کمی ہے اور عموماً اس کی شکایت کی ضرورت اس وقت تک محسوس نہیں کی جاتی جب معاملات قابو سے باہر نہ ہوں۔ سائبر کرائمز کی روک تھام کے لئے باقاعدہ نگرانی اور نیٹ پر آلودگی سے پاک مواد ہی تک رسائی یقینی بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ تطہیر معاشرہ اور گھر گھر کردار سازی اور اصلاح کی پوری کوششوں کے ذریعے ہی اس صورتحال سے نکلنا ممکن ہوگا۔

حکومت فیصلہ کن قدم اٹھائے

گرینڈ ہیلتھ الائنس کی کال پر ڈاکٹروں و طبی عملے کی ہسپتالوں کی مبینہ و مجوزہ نجکاری کے خلاف احتجاجی سلسلے میں ڈاکٹروں کا روڈ بند کرکے احتجاج مریضوں کے بعد عوام کو بھی مشکلات کا شکار کرنے کی دانستہ و نادانستہ سعی ہے جس کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ حکومت کوڈاکٹروں کے احتجاج کو اس نہج پر لانے پر مجبور نہیں کرنا چاہئے تھا لیکن ڈاکٹروں کا اس طرح سڑکوں پرآکر احتجاج خود ان کے مفاد میں نہیں کیونکہ اس سے اس امرکا اظہار ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں کا ہسپتالوں میں احتجاج اور بائیکاٹ اب موثر نہیں رہا۔ صوبائی حکومت جن طبی اصلاحات کیلئے پر عزم ہے اب تک اس پر ڈٹے رہنے کے بعد حکومت کی واپسی مشکل ہے۔ ڈاکٹر برادری کے بار بار احتجاج کے غیر موثر ہونے کے بعد اب ڈاکٹر برادری کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرلینی چاہئے نہ کہ سڑکوں پر نکل کر اور شہر کی مرکزی سڑک بند کرکے لوگوں کو مشکلات کا شکار بنا دیں۔ حکومت کی سخت گیری کے بعد ڈاکٹر برادری احتجاج پر آمادہ رہی اور خاص طورپر عوام کے لئے مزید مشکلات کھڑی کرنے کا باعث بنیں تو حکومت کے پاس سخت اقدامات اور متبادل انتظامات کی گنجائش ہے جس کے بعد ڈاکٹروں کے پاس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر ملازمتوں پر بحالی کی درخواستیں دینے کی نوبت آسکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قانون سازی کے بعد اسے لاگو اور نافذ کرنے میں حکومت نے خاصا وقت لیا ہے اس دورانیے کا سب سے متاثرہ فریق مریض اور عوام ہیں جو پہلے ہی طبی مسائل سمیت دیگر مسائل کا شکارہیں ان کے مسائل میں اب مزید اضافہ کی گنجائش نہیں حکومت کے پاس قانون کی منسوخی اور قانون کے نفاذ کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تاکہ عوام کو مزید مشکل کا سامنا نہ ہو۔ حکومت اور ڈاکٹروں کے درمیان مذاکرات و مفاہمت اور درمیانی راستہ نکالنے کی بھی اب امید تو نہیں لیکن اتمام حجت کے لئے حکومت اگر حتمی ڈیڈ لائن دے دے اور مقررہ وقت گزرنے کے بعد راست قدم اٹھانے کا ٹھوس عندیہ دے تو یہ آخری صورت ہوسکتی ہے۔ حکومت کو جو بھی موزوں اور قابل عمل قدم اٹھانا چاہئے اس میں اب مزید تاخیر نہ کی جائے۔

ٹیوب ویلوں کے اخراجات میں کمی لانے کی منصوبہ بندی

ٹیوب ویلوں کے اخراجات میں کمی سادہ طریقہ سے ممکن ہے بشرطیکہ شہری تعاون پر آمادہ ہوں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے میں ٹیوب ویل سے براہ راست پائپ لائنز کے ذریعے پانی کی مسلسل فراہمی کا نظام جب تک رائج ہے اس وقت تک ٹیوب ویلوں کے اخراجات میں کمی ممکن نہیں۔ ٹیوب ویل دن کے اوقات میں تقریباً مسلسل چلانے پڑتے ہیں جس کے باعث بجلی کے بلوں میں اضافہ ہی نہیں بلکہ خرابی و مرمت کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں شہری علاقوں میں گھروں میں پانی ذخیرہ کرنے کے نظام کو لازمی قرار دیا جائے اور عوام زیرزمین ٹینک یا کم از کم پلاسٹک ہی کی بڑی ٹینکی رکھ کر پانی ذخیرہ کرنے کاانتظام کریں تو ٹیوب ویل مسلسل چلانے کی ضرورت نہ پڑے یہ تجویز مشکل تو لگتی ہے لیکن اگر اس پر عمل کرنے کی کوشش کی جائے تو ناممکن نہیں۔ ٹیوب ویل سے مسلسل پانی کی سپلائی پانی کے ضیاع کی بھی بڑی وجہ ہے ٹینکی کے استعمال سے پانی کی بچت بھی ممکن ہے گھروں میں پانی ذخیرہ کرنے کا جن جن علاقوں میں اہتمام ہے وہاں پر آبنوشی کی قلت کی شکایات گنجان شہری علاقوں کے مقابلے میں خاصے کم ہیں۔ ڈبلیو ایس ایس کے مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد سے توقع ہے کہ اخراجات میں کمی اور عوام کو پانی کی فراہمی کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

متعلقہ خبریں