Daily Mashriq

دھرنا' نون لیگ' یوٹیلٹی سٹورز اور۔۔۔۔؟

دھرنا' نون لیگ' یوٹیلٹی سٹورز اور۔۔۔۔؟

حکومت اور آزادی مارچ والوں کی رہبری کمیٹی کے درمیان مذاکرات فی الوقت ملاقاتوں تک ہی ہیں۔ بات آگے بڑھ نہیں پارہی اپوزیشن وزیر اعظم کا استعفیٰ چاہتی ہے اور دو ہزار چودہ میں وزیر اعظم کا استعفیٰ مانگنے والے اب اس مطالبہ پر قانونی' آئینی' اخلاقی اور سیاسی سوال اٹھا رہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے ''قریب تر'' سمجھے جانے والے چودھری برادران سوموار کی شام خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور سے اسلام آباد پہنچائے گئے۔ تادم تحریر ان کی مولانا فضل الرحمن سے دو اعلانیہ اور ایک غیر اعلانیہ ملاقات ہو چکی۔ چودھری برادران کے پاس ایک پیشکش ہے '' ایوان کے اندر سے دسمبر میں تبدیلی والی'' مولانا فضل الرحمن اس پیشکش کو ''گڑ میں زہر'' سمجھ رہے تو غلط بھی نہیں۔ وعدہ فردا پر جینے کے لئے تو وہ اتنی کھیچل کرکے اسلام آباد نہیں پہنچے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ رخصت کیسے ہوں گے۔ وزیر اعظم یا مولانا اسلام آباد سے؟۔ دھاندلی کمیشن کے قیام کا لالی پاپ اپوزیشن کو منظور نہیں پچھلی شب مولانا نے اس حوالے سے چودھری برادران سے کہا '' جو حکومت نظام مملکت آرڈیننسوں پر چلا رہی ہو' پارلیمان کو بنی گالہ کی مشیران کمیٹی جتنی بھی اوقات حاصل نہ ہو اس کا وعدہ اور دھاندلی کمیشن کا آرڈیننس دونوں فریب ہیں''۔ درمیانی راستہ کیسے نکلے گا؟ اچھا یہ عبدالرشید بٹ المعروف' شیخ رشید احمد نے یہ کیوں کہا مولانا دو تین دن میں چلے جائیں گے۔ سادہ سا جواب یہ ہے کہ جناب شیخ' عطائی پیروں فقیروں کی طرح ایک دن میں دس سے بارہ پیشن گویاں کردیتے ہیں ایک آدھ ہی پوری ہو جائے تو کاروبار چلتا رہتا ہے۔ مولانا کی تقاریر کے بعض حصے اور کلمات ہم ایسے سیکولر جمہوریت پسندوں کے لئے قابل قبول نہیں مگر یہ اعتراف ہر کس و ناکس کو ہے کہ انہوں نے ریاست کے اندر قائم ریاستوں کے نظام اور سکہ شاہی کو جس طرح بے نقاب کیا اس سے بھونچال برپا ہے۔ رہا سوال درمیانی راستہ نکالنے کا توایک کا واحد جواب سوائے مولانا کے کسی کے پاس نہیں وہ وزیر اعظم کا استعفیٰ چاہتے ہیں اب کیا اس سے کم پر آمادہ ہوں گے۔ کیا وہ اس دام میں آئیں گے کہ اندرونی تبدیلی کا تحریری معاہدہ ہو جائے؟ بجا ہے کہ سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتا لیکن مولانا اتنے سادہ بھی نہیں ہیں۔

آزادی مارچ کے حوالے سے نون لیگ کے اندر موجود آراء اور جناب شہباز شریف کے پر اسرار کردار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ لاہور میں ہونے والے نون لیگ کے مشاورتی اجلاس میں شہباز شریف نے جب تیسری بار یہ کہا کہ '' ہم سب کا فرض ہے کہ میاں صاحب کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ علاج کے لئے باہر چلے جائیں تو سینیٹر پرویز رشید نے سوال کیا۔'' پارٹی ان کی پاکستان میں موجودگی میں ان کے جن احکامات پر عمل سے گریزاں ہے ان کی عدم موجودگی میں ان ہدایات پر عمل کی گارنٹی کیا ہوگی؟''۔ سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید کے سوال پر چند دوسرے لوگوں کو بھی بولنے کا حوصلہ ملا۔ پروفیسر احسن اقبال نے معاملہ سنبھالنے کی بہت کوشش کی لیکن سوال کرنے والے جواب شہباز شریف سے مانگ رہے تھے۔ شہباز شریف سے یہ سوال بھی ہوا کہ اپوزیشن کی اے پی سی میں پارٹی کے سربراہ یا سیکرٹری جنرل کی بجائے ایاز صادق کو کیوں بھیجا گیا جواب ملا مشاورتی اجلاس کی وجہ سے۔ سوال کرنے والوں نے کہا مشاورتی اجلاس کا وقت تبدیلی کرلیتے صاحب! پھر تو آپ کو اسلام آباد سے لاہور کا سفر ہی نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اب شہباز شریف نے میاں نواز شریف کی بیماری کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا '' میاں صاحب سے ملاقات اور مریم بیٹی کی ضمانت کے حوالے سے دائر کیس میں وکلاء سے مشاورت بہت ضروری تھی۔'' یہ سوال و جواب نون لیگ کے مشاورتی اجلاس کے اندر بنے ماحول کے ساتھ پارٹی میں پڑتی ہوئی دراڑوں کا پتہ دیتے ہیں۔ سیاست کے اپنے رنگ ڈھنگ ہیں شاید شہباز شریف یہ سمجھ رہے ہیں کہ مالکان ایک بار پھر پنجاب میں انہیں متبادل کے طور پر قبول کرلیں۔ سیاست توقعات اور امیدوں پر ہوتی ہے شہباز شری بھی گر '' امید سے بندھے ہیں تو برا کیا ہے۔

یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن نے ملک بھر میں 600سے زیادہ سٹورز باقاعدہ طور پر بند کردئیے ہیں اگر ایک سٹور میں اوسطاً 3افراد ہوں تو لگ بھگ 1800سو افراد کا روز گار ختم ہوا۔ کارپوریشن میں مستقل ملازمین کے مقابلہ میں ایڈ ہاک ملازمین کی تعداد زیادہ ہے۔ پچھلے ایک سال کے دوران بیروزگاری اور غربت میں جس تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ سینکڑوں چھوٹی بڑی صنعتوں کا بند ہونا کاروبار متاثر ہونے پر ملازمین کی چھانٹی بھی ان وجوہات میں شامل ہے۔ اگلے روز فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر دو روپے سینتیس پیسے فی یونٹ کے حساب سے صارفین پر ماہانہ 33ارب روپے کا بوجھ بڑھا دیاگیا۔ چلیں ہم بھی سادہ سے انداز میں اس صورتحال کا ذمہ دار پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو قرار دے کر پانچ نفلوں کا ثواب کما لیتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ منگل کے روز وفاقی سیکرٹریوں کے اجلاس میں نیب کو جو صلواتیں بنائی گئیں کاش وہ نیب چیئر مین کے کانوں میں پڑ سکتیں۔ اجلاس کے بعدسیکرٹریوں نے وزیراعظم سے ملاقات کرکے انہیں تحفظات سے آگاہ کردیا۔ ڈیڑھ ہفتے میں مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ فی الوقت تو یہ ہے کہ مولانا ابھی اسلام آباد میں آزادی مارچ کو لے کر بیٹھے ہیں اور جانے کیلئے مان کر نہیں دے رہے۔

متعلقہ خبریں