Daily Mashriq

افغان انتخابات سے صورتحال تبدیل

افغان انتخابات سے صورتحال تبدیل

افغان امن مذاکرات جو افغانستان میں حال ہی میں منعقد کیے گئے انتخابات کی وجہ سے اوجھل ہو گئے تھے ، ایک بار پھر خبروں کا محور ہیں۔ زلمے خلیل زاد اور طالبان کی چند ہفتے پہلے اسلام آباد آمد اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اگر چہ ان دوروں میں بظاہر دونوں طرف قیدیوں کے رہائی پر بات چیت ہوئی، جس کے نتیجے میں دونوں اطراف نے کئی قیدیوں کو رہا کیا۔ لیکن اس دوران امن کے دوسرے پہلوؤں پر بھی بات ہوئی ہوگی۔ لگتا ہے کہ کافی حد تک برف پگھل چکی ہے، اگرچہ صدر ٹرمپ نے اچانک ان مذاکرات کو مردہ قرار دیا تھا۔ بظاہر لگتا ہے کہ افغانستان میں کامیاب انتخاب کے بعد طالبان بین الاقوامی سطح پر وہ توجہ حاصل نہیں کر پا رہے جو انکو پہلے حاصل تھا۔ اب طالبان کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طور وہ واپس دھیان حاصل کر سکیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے ازخود ہی چین اور روس سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ تاکہ دنیا کو باور کرایا جا سکے کہ وہ تنازعے کے حل میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ افغان انتخابات سے پہلے امن کے لئے انکے بنیادی نکات ،امریکی اور بیرونی فوجوں کی واپسی ، افغان زمین کو بیرونی ممالک میں د ہشت گردی کے لئے نہ استعمال کرنا، قومی حکومت اور اندرون افغانستان مختلف گروپوں کیساتھ مذاکرات کے گرد گھومتے رہے۔ انہوں نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا اور کہا کہ صرف امریکی حکومت کے ساتھ معاہدہ کریں گے۔ انہوں نے امریکہ کے ساتھ معاہدہ سے پہلے جنگ بندی سے بھی انکار کیا، جبکہ افغانستان کے صدر اور دوسری سیاسی گروپس تواتر کے ساتھ کہتے رہے کہ نتیجہ خیز امن کے لئے جنگ بندی ضروری ہے۔ اور افغان حکومت امن کے لئے ایک ضروری فریق ہے جس کے بغیر مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے۔ اسی دوران زلمے خلیل زاد ریکارڈ پر ہیں۔ کہ مذاکرات کا مقصد صرف مکمل انخلاء نہیں بلکہ مکمل اور جامع امن ہے۔ اور یہ یقین دہانی کرائی کہ افغانستان کو دوبارہ ایسے نہیں چھوڑا جائے۔ جس سے وہاں طوائف الملوکی پیدا ہو جائے۔ جبکہ طالبان ہمیشہ اس غلط فہمی کا شکار رہے کہ جنگ بندی ان کے سفارتی مذاکرات کو کمزور کر دے گی اور انہوں نے مذاکراتی میز پر زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے پر تشدد کارروائیوں کو بطور حربہ استعمال کرنا چاہالیکن ان پر افغانستان میں انتخابات کے کامیاب انعقاد نے میز یں الٹ دی ہیں اور وہ اس مضبوط پوزیشن میں نہیں رہے جیسے وہ انتخابات سے قبل تھے۔ حکومت افغانستان نے حال ہی میں جنرل اسمبلی کے مفید سیشن سے بھی بھرپور فائدہ لینے کی کوشش کی ہے اور طالبان سے کہا ہے کہ وہ اس مذاکراتی امن میں شامل ہوں۔ اس سلسلے میں چین نے ازسرنو اپنی کوششوں کو تیز کر دیا اور انہوں نے طالبان کو چین کے دو رے کی دعوت دی ہے۔ یہ بات چیت امریکی اور طالبان کی بات چیت سے ہٹ کر ہے۔جو اس سے پہلے امریکہ اور طالبان کے درمیان ہوتی رہی۔ طالبان ترجمان شاہین کے مطابق کہ تمام تر نمائندے ذاتی حیثیت میں بیجنگ میں مذاکراتی عمل میں شامل ہوں گے۔ دوسری طرف اب تک افغان حکومت نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد ایک دفعہ پھر متحرک ہوئے ہیں اور انہوں نے چند دن پہلے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان کی گفتگو کا محور موجودہ سلسلہ امن رہا۔ جس میں کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیا گیاہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے ترقی اور امن کے لئے سیکورٹی لازمی امر ہے۔ اس دوران ماضی کے برعکس افغانستان کے لہجے میں کچھ تلخی پیدا ہوئی ہے اور افغان نمائندے حمد اللہ محب نے کہا ہے کہ پاکستان اگر امن لانے کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے افغانستان میں آگ بڑھانے سے ہاتھ روکنا چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے افغانستان کی موجودہ صورت حال کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے زور دیا کہ امن مذاکرات کے لئے ضروری ہے کہ کم از کم ایک ماہ کے لئے جنگ بندی پر عمل کیا جائے۔ خلیل زاد کی پاکستان آمد سے پہلے افغان صدر بھی نے کسی بھی ایسی بات چیت کو مسترد کر دیا ہے۔ جو افغانستان کی سر پرستی میں نہ ہو۔ ان تمام تر صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں انتخابی نتائج نے صورت حال کو کافی حد تک بدل کر رکھ دیا ہے۔اور فضاء افغانستان حکومت کے حق میں ہموار ہوئی ہے۔ ان انتخابات نے افغان حکومت کو ایک نئی اخلاقی اور قانونی طاقت مہیا کی ہے۔ جبکہ طالبان نے سفارتی سطح پر انتخابات سے پہلے جو پیش رفت کی تھی وہ انہوں نے بہت حد تک کھو دی ہے۔ اور اب وہ از سرنو خود کو خبروں میں نمایاں رکھنے اور کھویا مقام حاصل کرنے کے لئے کوششیں کریں رہے ہیں۔ اگر انہیں بین الاقوامی سطح پر relevant دینا ہے تو پھر انہیں لچک کا مظاہرہ کرکے افغانستان کی قومی سیاست کے دھارے میں شامل ہونا پرے گا۔ اس تمام تناطر میں محسوس ہو رہا ہے امریکہ ، چین اور روس کے مفادات میں سب سے اہم امور میں convergence of interest پایا جاتا ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد یالٹا طرز پر افغانستان میں یہ طاقتیں ایک دوسرے کے معاشی اقتصادی اثر رسوخ کے دائرے کو جگہ فراہم کریں گی اور امریکہ کی وہاں پر strategic presence کو بھی برداشت کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں