Daily Mashriq

کچھ بھی ہو اہتمام گلستاں کریں گے ہم

کچھ بھی ہو اہتمام گلستاں کریں گے ہم

بہت گھمنڈ تھا ہوا کو اپنے زور آور ہونے پر۔ اسے جب غصہ آیا تو وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی غرض سے آندھی بن کر چلی اوردیکھتے ہی دیکھتے طوفان باد و باران کے روپ میں ڈھل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے ماحول کو اتھل پتھل کرکے رکھ دیا۔ طوفانی بارش کے برسنے سے نالے ابل پڑے میدان جل تھل ہوگئے۔ کسی عمارت کی دیوار گری اور کہیں پوری عمارت زمین بوس ہوگئی۔ لوگ اللہ کی پناہ مانگنے لگے اپنے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی معافی مانگنے کے لئے توبہ استغفار کے اوراد پڑھنے لگے۔ جان و مال کو اس آندھی اور طوفان کی زد سے بچانے کے لئے ہر وہ حربہ آزمانے لگے جو ان کے بس میں یا دائرہ اختیار میں تھا۔ اور جو اپنی جان بچانے میں نا کام ٹھہرے گنوا بیٹھے اپنی جان ، جان آفریں کے حوالے کرکے۔ معلوم نہیں کیا ملا اس آندھی اور طوفان کو ایسا کرکے۔ دوسرے دن اخبارات کی شہہ سرخیوں میں اس بات کا چرچا ہورہا تھا کہ شدید طوفان بادو باران کی وجہ سے کتنے لوگ لقمہ اجل بنے۔ کتنے کچے مکان زمین بوس ہوئے۔ کتنی تباہی پھیلا گیا۔ کتنا نقصان کر گیا بادو باراں کا وہ طوفان جو گزری رات آیا تھا۔ گزری رات آنے والے طوفان بلا خیز کے گزر جانے کے بعد صبح دم زندگی ایک بار پھرمعمول پر آنے لگی۔ لوگ اپنے دفاتر یا کاروباری مراکز کی طرف رواں دواں معمولات روزگار نپٹانے کی غرض سے زندگی کی چہل پہل بحال کرنے لگے ۔ وہ جو آندھی اپنے دوش پر کالے بادلوں کے دل لے کر آئی تھی کمزور و ناتواں ہوکر چھٹنے لگے۔ سورج کی روپہلی کرنیں ، اپنی سنہری دھوپ سے زمین کا چہرہ چمکانے لگیں۔ ''کیا ہوگیا تھا تمہیں رات کو، قیامت ڈھانے لگی تھی تم ؟ '' سورج کی کرنوں کے وجود سے نکلنے والی دھوپ نے تھم تھم چلتی ہوا سے پوچھا۔ ''بس ذرا غصہ آگیا تھا۔ غیرت جاگ اٹھی تھی میری۔ سوچا ذرا سبق سکھا دوں زمین پر رہنے والوں کو۔ سارے ماحول کو پراگندہ کر رہے ہیں یہ لوگ فضائی آلودگی آبی آلودگی شور و شغف کی آلودگی اخلاقی آلودگی شر فساد بے حیائی چوری سینہ زوری کیا بتاؤں ری بہن ، کتنی قباحتیں اور آلودگیاں در آئی ہیں ان زمین والوں میں ، ذرا بھر خیال نہیں ان کو موسموں کے پارہ چڑھنے کا آخر اعتدال بھی کوئی شے ہوتی ہے''۔ تو پھر رہتی نہ تم معتدل ! دھوپ نے تھم تھم چلتی ہوا کو جواب دیا۔ کیوں رہتی ، کیسے رہتی معتدل، ان ناعاقبت لوگوں کے ہاتھوں۔ یوں لگا جیسے تھم تھم چلتی ہوا ایک بار پھر غصہ کے ہاتھوں پاگل ہونے لگی ہو۔ دیکھو قہر غضب غصہ دھونس دھمکی تضحیک یا ڈانٹ ڈپٹ سے مسائل حل نہیں ہوا کرتے۔ مسائل کے حل کے لئے آپ کو نہایت مہذب اور دل پذیر رویوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ دل جیتنا ہوتا ہے۔ اپنی عزت کروانے کے لئے دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ بس بس بند کرو اپنی نصیحتوں کا پنڈورا۔ تھم تھم چلنے والی ہوا ایک بارپھر تندی باد مخالف کاروپ دھارنے لگی۔ دیکھو میرا زور ہے کسی میں اتنی مجال جو میری طاقت کے آگے ٹھہر سکے ، اس نے راہ چلتے بھولے باچھا کا کوٹ اتارنے کے لئے اپنی تندی اور تیزی دکھانی شروع کردی، بھولے باچھا کو جیسے ہی تیز ہوا کے چلنے کا احساس ہو اس نے اپنے کوٹ کو دونوں بازووں سے جکڑ لیا۔ بڑا زور لگایا تیز وتند ہوا نے اس کا کوٹ اتارنے کے لئے ، لیکن وہ بری طرح ناکام رہی۔ دھوپ ہوا کی اس حرکت پر کھلکھلا کر ہنسی اور کہنے لگی بس کرو، ہوا بی بی ، بس بڑی ہوگئی ، اب میری باری ہے۔ میں اترواتی ہوں اس کا کوٹ۔ دھوپ نے ایک نظر سورج پاپا کی طرف دیکھا ۔ پاپا سمجھ گیااپنی بٹیا کی بات۔ اس نے دھیرے دھیرے اور غیر محسوس طریقے سے اپنی گرمی دکھانی شروع کردی اور پھر یوں ہوا کہ اس تپتی دھوپ کی حدت نے بھولے باچھا کو اپنی مرضی سے اپنے تن سے کوٹ اتارنے پر مائل کردیا۔ اسے کہتے ہیں پیار سے کام لینے کی صلاحیت، آپ نے میٹھے بول میں جادو ہے کا محاورہ نہیں سنا، اپنی عزت کروانے کے لئے دوسروں کی عزت کروانی پڑتی ہے، اگر تم کسی کی جانب ایک انگلی کرو گے تو تمہاری چار انگلیاں تمہاری جانب ہوجائیں گی ،کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلی ہوئی بات واپس نہیں آتی ، بات کہتی ہے تو مجھے منہ سے نکال میں تجھے شہر سے نکال دوں گی ، دیکھو کتنے ادب اور احترام سے صف باندھ کر کھڑے ہیں بتیس کے بتیس دانت زبان کے آگے ، وطن کی قیادت ملک کو ریاست مدینہ بنانے کی آرزو مندہے ، لیکن دوسری طرف وہ جبہ و عمامہ کی تضحیک کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کررہی ، لیکن اس میں قصور جبہ و عمامہ والوں کا بھی ہے ،کسی کو یہودی اور کافر کہہ دینے سے بڑا کفر کیا ہوسکتا ہے

مرے چاک گریباں پر نظر تیری پڑی تو ہے

کبھی بند قبا اپنا بھی اے زاہد تکا ہوتا

ہر فرد کی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے ، اگر کوئی اپنی عزت خود داؤ پر لگا دے تو دوش کس کو دیا جائے ، مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کی جانب سے سٹیج کئے جانے والے دھرنے میں اپنا مطالبہ رجسٹر کرادیا ، ان کا یہ پاور شو بجلیوں کی برہمی اور ہواؤں کی اداسیوں کا پتہ دیتا ہے ، ڈر لگتا ہے کہ تھم تھم چلنے والی ہوائیں ایک بار پھر آندھیاں اور طوفان بن کر نہ اڑنے لگیں ، اس سونامی کا روپ نہ اختیار کرلیں جس کی دھونس دیتے دیتے موجودہ حکمران ملک کی تقدیر بدلنے کیاختیاردار بنے ، مگر اپنے رویوں میں لچک پیدا نہ کرسکے اور اپنے خون گرم کرنے والے نعروں میں یہ بات دہرا دہرا کر کہتے رہے کہ

برہم ہوں بجلیاں کہ ہوائیں اداس ہوں

کچھ بھی ہو اہتمام گلستاں کریں گے ہم

متعلقہ خبریں