Daily Mashriq

''زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرنا''

''زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرنا''

ایک بہت بڑے سرکاری افسر کی بیگم ایک تصویری نمائش دیکھنے گئیں۔ باہر بورڈ پر لکھا تھا کہ اس نمائش میں ایک فن پارہ ایسا ہے کہ جسے'' ہیبت ناک' دہشت ناک' وہشت ناک'' تصویر کا نام دیا گیاہے۔دیگر درجنوں مہمانوں کے ہمراہ یہ خاتون تصویریںدیکھنے لگیں ۔ایک کے بعد ایک تصویراور پھر دیکھتے دیکھتے ایک جگہ پر وہ خاتون ٹھہریں اور ساتھ کھڑے ایک فنکارسے استفسار کرنے لگیں کہ اچھا یہ ہے وہ تصویر جس کا باہرذکر کیا گیا ہے۔ لیکن معاف کیجئے گامجھے تو یہ اتنی ہیبت ناک' دہشت ناک' وہشت ناک اور ڈرائونی نہیں لگی ۔چونکہ وہ ایک بہت بڑے اور سرکاری افسر کی بیوی تھیں لہٰذہ بڑے ہی احترام کے ساتھ کھڑے پینٹر نے کہا کہ محترمہ یہ کوئی تصویر نہیں ہے بلکہ آئینہ ہے وہ تصویر تو چند قدم آگے ہے۔محترمہ کو غصہ آنا معمول کی بات تھی پھر وہی ہوا جو ہوتا اسطرح کے کاموں میں۔بیگم صاحبہ نے اس مصور کو برابھلا کہنا شروع کردیا۔انہوں نے اپنے شوہر بہت بڑے سرکاری افسر کو فون کیا کہ ایک دوٹکے کے پینٹر ' اس ایڈیٹ ' نان سینس نے میری انسلٹ کی ہے (اردو میں بے عزتی کی ہے)۔ ساری گالیاں انگریزی میں اس لئے دی گئیں کہ بھئی بڑے لوگ غصے میں بھی انگریزی ہی بولتے ہیںیوں وہ دہری بے عزتی کررہے ہوتے ہیں۔ افسوس ان مغرب زدہ لوگوں کو معلوم نہیں بے عزتی جتنی اچھی مادری زبان میں کی جاسکتی ہے اتنی کسی اور زبان میں بھی نہیں اور تو اور قومی زبان اردو میں بھی وہ نہیں ۔اردووالے تو زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیں گے کہ بھئی آپ نے میری شان میں گستاخی کی ہے۔جبکہ گجراتی' پوٹھوہاری' سندھی ' پشتو' بلوچی اور پھرپنجابی میں آپ جو لترول لے سکتے ہیں اس کا تو مزہ ہی کچھ اور ہے اور سننے والے کے تو گویا چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔میں خداناخواستہ ان زبانوں کی بے حرمتی نہیں کررہا بلکہ بتا رہا ہوں کہ انسان اپنی مادری زبان پر اتنا عبور رکھتا ہے کہ اسے کسی قسم کے لفظ ادھار یا مستعار لینے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔اسی طرح مادری یا علاقائی زبانوںمیں کسی کی تعریف کی جائے تو اسے چار چاند لگ جاتے ہیں۔جس کی تعریف کی جارہی ہوتی ہے وہ بھی پوراپورا خوش ہوتا ہے بلکہ تعریف کرنے والا خود بھی مطمئن و مسرور ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔شاید اسی موقع کے لئے شاعر نے کہا ہے ۔ ''زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرنا'' اور پھر ایسا بھی بارہا ہوچکا ہے کہ شاعر اپنے محبوب کو محبت نامے میں دعائیں لکھتا رہا اور محبوب اسے دغا پڑھتا رہا۔ ''ایک نقطہ نے محرم سے مجرم بنا دیا۔ ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے''۔ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کے لئے عاشق مزاج لوگوں نے لکھنے کی بجائے بولنے کو ترجیح دی لیکن محبوب سے اظہار محبت آمنے سامنے یا دوبدو کرنا ہر ایرے غیرے کے بس کی بات نہیں ا س کے لئے بلا کی جرأت کی ضرورت ہوتی ہے۔موبائل کے آنے سے پہلے بزدل عاشق کسی دوسرے کے شعر لکھ کر کسی تیسرے کے ہاتھ محبوب کو بھیجواتے تھے۔ محتاط انداز میں یہ خط وکتابت جاری رہتی ہے بچ بچاکر محبوبہ تک یہ محبت نامے پہنچائے جاتے تھے کیونکہ یہ محبت نامے محبوبہ کی بجائے اس کے اباّ کو بھی مل سکتے یا اسکے بھائی وغیرہ کو' جس سے لترول (مارکٹائی ) کا خطرہ ہر وقت منڈلاتا رہتا تھا۔ ماضی میں تحریراً اظہار محبت میں بڑی سہولت رہتی تھی کہ بوقت ضرورت مکر جانا آسان ہوتا۔ اگرخوش قسمتی سے محبوبہ کے کسی رشتہ دار کے ہتھے نہ بھی لگے توپھر ایسا بھی ہوسکتاہے کہ محبوبہ کو خود بھی برا لگ سکتا ہے اوراگر برا لگے تو سامنے نہ ہونے سے کسی قسم کے حادثاتی حالات سے بچا جاسکے۔یہ خط وکتاب محبوب و محبوبہ کو اچھے لگے توکچھ عرصہ تک توتحریری اظہار محبت کا یہ کاروبارچلتا ہے اور جب یہ باتیں دل کو لگتی ہیں تو پھر ملاقات کی گھڑی آسکتی ہے ۔اب چونکہ خط و کتابت سے آپ کی شخصیت کا خاکہ محبوب نے بنا رکھا ہوتا ہے تو پھر عاشق و معشوق کو اس خاکہ پر پورا بھی اترنا ہوتا ہے۔

یہ خط وکتابت گزرے زمانہ کی باتیں تھیں آج کے انٹرنیٹ اور موبائل فون کے دور میں SMSمختصر پیغام اور پھر انٹرنیٹ پر چیٹ، ان میں وٹس اپ ، فیس بک میسینجر، ایمو وغیرہ کے ذریعے یہ کام با آسانی ہورہا ہے اس میں آپ اپنے مخالف کو اپنی تازہ ترین تصویر بھی بھجواسکتے ہیں اور ایسا بھی ہوتا کہ جیسا کہ پہلے زمانے کا عاشق کرتا تھا کہ کسی اور سے خط لکھواتا کسی اور کے شعر اس میں پروتا اور اسے محبوب کے قدموں تک پہنچادیتا۔اب نیٹ نے یہ کام زرا بدل دیاہے اور اس میں جدت بھی آگئی ہے ۔ایس ایم ایس یا ای میل آپ خود بھی لکھ سکتے ہیں اور اگر چاہیں تو کسی اور سے بھی لکھواسکتے ہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ سب کچھ انگریزی (یا زبان غیر) میں ہو بلکہ آج کا نوجوان رومن اردو سے کام چلارہا ہے ۔اس طرح دل کی بات آسانی سے اگلے تک پہنچائی جاسکتی ہے۔لیکن یار لوگوں نے یہاں بھی اپنی استادی نہیں چھوڑی اور اپنی تصویر کی بجائے اپنے کسی عزیز دوست' رشتہ دار کی تصویر لگا دی۔اس سلسلہ میں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہمارے کرکٹر شعیب ملک کے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا۔بھارت کی عائشہ نامی لڑکی نے ایک عرصہ تک شعیب ملک کو اپنی زلفوں کا اسیر بنائے رکھا حتیٰ کہ نکاح تک نوبت آئی اور پھر معاملہ کھلا تو پتہ چلا کہ تصویر کسی اور کی تھی اور محبت نامے کسی اور کے۔

متعلقہ خبریں