Daily Mashriq

پاکستان میں سانپ کے زہر کوختم کرنے کی ویکیسن کا کامیاب تجربہ

پاکستان میں سانپ کے زہر کوختم کرنے کی ویکیسن کا کامیاب تجربہ

کراچی : ماہرین نے  سانپ کے زہر کوختم کرنے کی ویکیسن تیار کرلی ، پاکستان میں سالانہ 40 ہزار سے زائد افراد سانپ کے کاٹے کا شکار ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے پروفیسرز اور ماہرین نے کارنامہ کر دکھایا اور سانپ کے زہر کوختم کرنے کی ویکیسن کا کامیاب تجربہ مکمل کر لیا ہے، جس کے بعد  ڈاو یونیورسٹی بھی سانپ کے کاٹے کی ویکسن تیار کرسکے گی۔

پاکستان میں سالانہ 40 ہزار سے زائد افراد سانپ کے کاٹے کا شکار ہوتے ہیں اور سانپ کا ڈسنا 10 ہزار سے زائد افراد کی اموات کی وجہ بنتا ہے ، پاکستان سالانہ 50 ہزار اے ایس وی وائلز درآمد کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریپ کو ویکیسن کے لائسنس کےلیے درخواست دے دی ہے۔

خیال رہے سانپ کا زہر انسان کے لیے بہت خطرناک ہوسکتا ہے تاہم اگر متاثرہ شخص کو بروقت طبی امداد دی جائیں تو اُس کی جان کو محفوظ بھی بنایا جاسکتا ہے۔

عام طور پر سانپ انسانی جسم کے دو حصوں ‘ٹخنے یا ہاتھ‘ پر کاٹتا ہے جس کے بعد پنڈلی یا کاندھے میں زہر پھیلنے کی علامات واضح ہوجاتی ہیں۔

امریکی ماہرین کے نزدیک سانپ کے کاٹنے اور زہر کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کا علاج کیا جاسکتا ہے، ہلکے حملے کی صورت میں متاثرہ جگہ کی صفائی اور دیکھ بھال کر کے مزید نقصان سے بچا جاسکتا ہے، متاثرہ شخص کے جسم کا خون نکال کر ٹیسٹ کیا جاسکتا ہے جس کے بعد زہر اور اُس سے پیدا ہونے والے مسائل کا معلوم کیا جاسکتا ہے۔

اگر کسی شخص پر سانپ زور دار طریقے سے حملہ کرے تو اُس کے جسم میں زہر کی تاثیر کو روکنے کے لیے اینٹی ٹاکسن کی ضرورت ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں