افغان مہاجرین کی واپسی میں امریکہ اپنا کردار ادا کرے

افغان مہاجرین کی واپسی میں امریکہ اپنا کردار ادا کرے

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دراصل امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ میں رکاوٹ ڈالی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی سے سرحد پار ایسے دہشت گردوں کو پناہ گزین کیمپوں تک رسائی مل سکتی ہے جنہیں حقانی یا دیگر گروپوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔اب یہ وقت ہے کہ افغان پناہ گزین واپس جائیں اور یہ امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کو واپس ان کے شہروں میں بسائے کیونکہ امریکہ کی جنگ کی وجہ سے وہ پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ایک اور سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے تسلیم کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں ۔جہاں تک امریکہ کا سوال ہے تو ہم اس بات تو تسلیم کرتے ہیں کہ تعلقات میں مسائل ہیں اور ہم انہیں حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم میں اعتماد کا فقدان ہے جسے دور کرنے کی کوشش ہے۔حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید کو بوجھ قرار دینے کے بیان پر قائم رہتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہم اس بوجھ سے ایک رات میں پیچھا نہیں چھڑا سکتے کیونکہ وہ یہاں بہت عرصے سے ہیں اور ہمیں ان سے یہ کہنے کے لیے وقت درکار ہے کہ وہ اپنا بوریا بستر سمیٹ لیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران مشاہدہ کیا ہے کہ امریکہ صرف اور صرف پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے الزام پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، یہ وہ چیز ہے جو خود امریکہ کو افغانستان میں حاصل نہیں ہو سکی۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر خارجہ نے اس امر کی درست نشاندہی کی ہے کہ صورتحال کی خرابی کی بنیادی ذمہ داری امریکہ ہی پر عائد ہوتی ہے اور اس کو پاکستان کو مطعون کرنے کی بجائے اپنے کردار و عمل کا جائزہ لینا چاہیئے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکہ نے افغانستان میں پراکسی وار شروع کرانے کیلئے پاکستان کو استعمال کیا ، مگر روسی افواج کی شکست اور افغانستان سے واپسی کے بعد افغانستان کے اندرونی حالات کی درستی پر توجہ دینے کے بجائے حسب عادت امریکہ نے آنکھیں بند کر کے واپسی کی پالیسی پر عمل کیا جس سے افغانستان کے اندر خانہ جنگی نے جنم لیا ، اور پھر ایک خاص سازش کے تحت نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا تو امریکہ نے افغانستان پر یلغار کر کے نیٹو افواج کی مدد سے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ تب سے اس کی افواج نہ صرف وہاں بیٹھی ہوئی ہیں بلکہ سابق صدر باراک اوبامہ کے وعدوں کے برعکس صدر ٹرمپ نے امریکی افواج میں کمی کے بجائے اضافے کی پالیسی اپنالی ہے اور بھارت کو افغانستان میں خاص کردار ادا کرکے پاکستان کو دوبارہ ڈومور کے تقاضوں کے ذریعے زچ کرنے کی پالیسی اختیار کر لی ہے ۔جہاں تک حقانی نیٹ ورک کا تعلق ہے آپریشن ضرب عضب کے بعد نیٹ ورک کا وجود پاکستان سے مکمل طور پر مٹ چکا ہے اور افغانستان شفٹ ہو چکا ہے ۔امریکہ سمیت دنیا کو ان کے خلاف کارروائی مطلوب ہے تو وہ پاکستان پر دبائو بڑھانے کی بجائے افغانستان میں ان کے خلاف کارروائی کریں ۔ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان تعلقات کی نوعیت بھی اب تبدیل ہوچکی ہے۔ اب پاکستانی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانے موجود نہیں اور نہ ہی ان کو قبائلی نوجوانوں میں مقبولیت حاصل رہی ہے جو لوگ ماضی میں افغان جہاد میں حصہ لے چکے ہیں ان کی بڑی اکثریت اب ضعف کا شکار ہے اور شیخ فانی بن چکے ہیںجن عناصر کے خلاف امریکہ کو آج کارروائی مطلوب ہے یہ کوئی اور نہیں بلکہ وہی لوگ ہیں جو امریکیوں ہی کے منظور نظر تھے ۔انہی کی تربیت اور وسائل سے پروان چڑھے اس کے مقصد کی تکمیل میں کوشاں رہے۔ اصولی طور پر امریکہ کو ان عناصر سے واپسی سے قبل معاملت کی ضرورت تھی تاکہ مسائل اور پیچید گیا ں پیدا نہ ہوں۔ ایسا نہ کرنے کی امریکی غلطی کا ایک جانب پاکستان خمیازہ بھگت رہا ہے تو دوسری جانب پاکستان کو خود امریکہ کی جانب سے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔ یوں پاکستان دوہرے دبائو کا شکار ہے۔ اس صورتحال سے یکا یک نکلنا ممکن نہیں۔امریکہ اور پاکستان کے درمیان جب تک مکمل طور پر اعتماد کی فضا پیدا نہیں ہوگی اور امریکہ پاکستان کے ساتھ مل کر اپنے ہی بچھائے گئے کانٹوں کو چننے کی ذمہ داری میں شریک نہیں ہوگا اس وقت تک یہ خار مغیلاں پائوں میں چبھتے ہی رہیں گے چونکہ یہ عناصر اب سرحد پار جا چکے ہیں اس لئے ان کے خلاف بنیادی کارروائی پاکستان پر عائد نہیں ہوتی جن امور پر اختلافات اور عدم اعتماد کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ان غلط فہمیوں کے ازالے اور ان کو دور کرنے کیلئے جہاں سرحدی آمد ورفت کو مزید مربوط بنانے کی ضرورت ہے وہاں سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ امریکہ افغان مہاجرین کی مکمل واپسی کی ذمہ داری کو سمجھے اور اسے نبھائے۔ جب تک افغان مہاجرین پاکستان میں موجود رہیں گے تب تک غلط فہمی اور عدم اعتماد کے امکانات کا خاتمہ ممکن نہیں اور نہ ہی پاکستان ان داخلی عناصر کے خلاف یکسوئی سے کارروائی کرسکتا ہے جن کے خلاف کارروائی مطلوب ہے۔ یہ عناصر ایک دوسرے سے پیوست ہیں جب تک ان کو علیحدہ علیحدہ نہیں کیا جاتا مسئلہ کا مکمل اور قابل اعتماد حل ممکن ہی نہیں ۔

اداریہ