بوکھلاتے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی

بوکھلاتے دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی

بلوچستان کے علاقہ جھل مگسی میں ایک درگاہ کے اندر خود کش حملہ یا بم دھماکہ میں بیس افراد کے جاں بحق اور کئی کے زخمی ہونے کا واقعہ نہایت رنج دہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اس واقع کی ذمہ داری کسی جانب سے قبول کرنے کی کوئی اطلاع نہیں لیکن بہر حال دہشت گردی کے اس قسم کے واقعات کا واحد مقصد پاکستان کے عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا ہے اور خاص طور پر بلوچستان کو نہایت غیر محفوظ علاقہ ثابت کرنا ہے۔ دشمنوں کی جانب سے اس طرح کی کوششیں پہلے پہل اکثر وبیشتر ہوتی رہتی تھیں مگر ہماری سیکورٹی فورسز اور پولیس کی قربانیوں کے باعث اب حالات پہلے کی طرح نہیں رہے بلکہ اب کبھی کبھار ہی دہشت گردی کی کوئی بڑی واردات ہوتی ہے۔ اس طرح کے واقعات کے کئی مقاصد ہوتے ہیں جن میں سے ایک مقصد دہشت گردوں کے کسی نیٹ ورک کے خلاف مئو ثر کارروائی یا پھر دہشت گردوں کو پھانسی پر لٹکا نا ہے ۔ حالیہ واقعہ سے ایک دو روز ہی قبل دہشت گردوں کو فوجی عدالتوں سے ہونے والی سزا پر عملدر آمد کرتے ہوئے پھانسی پر لٹکا یا گیا ہے ممکنہ طور پر یہ واقعہ اس کا رد عمل لگتا ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے ایسے مقامات جہاں سیکورٹی نہیں ہوتی اور ایسے مقامات پر جانے والے معصوم لوگوں کا دھیان بس ایک ہی جانب ہو تا ہے ایسے میں وہاں تک رسائی اور دھماکہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ دہشت گردوں کی جانب سے حساس اور اہم نوعیت کے مقامات کی بجائے بے ضرر قسم کے لوگوں اور مقامات کو نشانہ بنانااس پر امر دال ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک اب اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ وہ طاقتور عناصر کا بدلہ ایسے معصوم لوگوں سے لینے پر مجبور ہوگئے ہیں جو اپنی حفاظت نہیں کر سکتے۔ بار بار مزارات پر دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں تمام تھانوں اور پولیس کو اس امر کی سختی سے ہدایت کی ضرور ت ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں حساس مقامات کی نگرانی اور حفاظت سے غافل نہ ہوں۔ مزاروں پر جانے والوں کو تحفظ فراہم کیا جائے ۔ ملک بھر میں خاص طور پر ایسے مواقع پر سیکورٹی بڑھائی جائے جب خاص طور پر دہشت گردوں کے خلاف ملک کے کسی بھی حصے میں کوئی موثر کارروائی کی گئی ہو یا ان کو دی گئی پھانسی کی سزائوں پر عملدر آمد کیا گیا ہو۔
کہیں یہ اقدام بھی لاحاصل نہ ٹھہرے
حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے فنڈز کے شفاف استعمال کویقینی بنانے بے قاعدگیوں اور بد عنوانیوں کی روک تھام اور محکموں کی کارکردگی پر نظر رکھنے کیلئے تمام محکموں اور اداروں میں انٹر نل آڈٹ سیل قائم کرنے کا اقدام مستحسن ہے جس سے سرکاری فنڈز کے بیجا استعمال بد عنوانی اور عدم شفافیت کی شکایات کی روک تھام کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ ہمارے تئیں موجودہ حکومت اس نوعیت کے اقدامات میں کافی دلچسپی دکھاتی ہے لیکن ان اقدامات کے نتائج سامنے نہیں آتے صرف قانون سازی طریقہ کار وضع کرنا اور اصلاحات متعارف کرانا مسئلے کے حل کی طرف مخلصانہ پیشرفت کے زمرے میں ضرور آتا ہے لیکن جب تک طے شدہ منصوبے پر حقیقی معنو ں میں عملدر آمد اور اس کا مئو ثر نفاذ نہ کیا جائے تو سارے کئے کرائے پر پانی پھر جانا فطری امر ہوتا ہے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اصلاحات کا جو تازہ اقدام اٹھالیا گیا ہے اس کی اصابت سے انکار نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے مئو ثر بنانے پر توجہ دی جائے تاکہ جن مقاصد کے حصول کیلئے یہ اقدامات کئے جارہے ہیں ان کا حصول ممکن ہو اور اصلاحات عوام کیلئے نافع اور نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں ۔
ملزم پولیس اور تحقیقات بھی پولیس سے
گزشتہ روز سوشل میڈیا اور بعض ٹی وی چینلز پر پولیس اہلکاروں کے مفت سبزی بٹورنے کے واقعے کی تحقیقات کو پولیس کی جانب سے غلط فہمی کی وجہ ضرور قرار دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق متعلقہ دکانداروں کا بھی یہی موقف ہے ممکن ہے اس واقعے میں پولیس کا موقف درست ہو لیکن پولیس اس امر سے بالکل بھی انکار نہیں کر سکتی کہ پولیس اہلکار سرکاری گاڑی میں باوردی جا کر نانبائیوں سے روٹی ، ہوٹل والوں سے سالن ، فروٹ والوں سے فروٹ بعض اوقات جنرل سٹور ز سے صابن اور شیمپو بھی بٹورتے ہیں۔ معمول کے اس اقدام کی ویڈیو کے وائرل ہونے اور ٹی وی چینلز پر چلنے سے پولیس کو اپنی صفائی کی سعی کا حق حاصل ہے اگر پولیس کے اعلیٰ حکام واقعی پولیس کی اس روز کی ڈکیتی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو پولیس موبائلز اور رائیڈرز کو اس قسم کی حرکتوں سے سختی سے باز رکھنے کی سعی کرنی چاہیئے ۔

اداریہ