مستقبل میں جھانکتے ماضی کے چند سوالات

مستقبل میں جھانکتے ماضی کے چند سوالات

ملک کے ایک نہایت باخبر صحافی اور سنجیدہ فکر تجزیہ کار مقتدا منصور نے اپنے تازہ کالم میں جو 5اکتوبر کے ایک قومی اخبار میں چھپا ہے ، پاکستان کی سیاسی ، سماجی اور تاریخی معاملات کا جائزہ لتے ہوئے بہت اہم اور بنیادی سوال اٹھائے ہیں ، جن پر یقینا غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ایک عالمی مدبر جوزف ایس نائے کی کتاب The future of powerکے حوالے سے ترقی پذیر ممالک میں طاقت ، حکمرانی اور اقتدار پر ہوئی بحث کے تناظر میں پاکستان کے معروضی حالات پر بحث کے دوران تقسیم بر صغیر ، قیام پاکستان اور بٹوارے کے بعدا یک خاص طبقے کے مکروہ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے چند انتہائی تلخ حقائق کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ان کے کالم کے چند اقتباسات کے بعد اس بحث کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے ۔ مقتدا منصور رقمطر از ہیں ، ''ایک ایسے ملک میں جہاں مختلف قومیتوں نے اپنی آزادی کو شیئر کیا ہو اور مسلم اقلیتی صوبوں سے مسلمانوں کی ایک بری تعداد نقل مکانی کر کے آباد ہوئی ہو ، وہاں وفاقی جمہوری نظام ہی تمام یونٹوں کو مجتمع رکھنے اور مختلف کمیونٹیوں کو مطمئن کرنے کا باعث بنتا ہے ، مگر ملک کی مقتدر اشرافیہ نے جمہوری روایات کو فروغ دینے کی بجائے ملک کو وحدانی ریاست بنانے کی کوششیں شروع کردیں ۔ اس عمل میں مغربی پاکستان کے بعض افراد کا کردارانتہائی منفی تھا ، انہوں نے بنگالی عوام اور قیادت کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈہ کر کے مغربی پاکستان کو بنگالیوں کے خلاف اکسایا ، دوسری طرف چھوٹے صوبوں کو نو آباد یات بنانے کیلئے ون یونٹ قائم کر کے ان کا سیاسی ، سماجی اور ثقافتی تشخص ختم کرنے کی مذموم کوشش کی گئی '' ۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں ،'' وواس کے علاوہ سندھ کے وسائل پر قبضے کی خاطر ہندوستان سے آنے والوں اور مقامی سندھیوں اور بلوچوں کے درمیان نفرت کا ایسا بیج بویا جو آج تناور درخت بن چکا ہے ، یوں ملک پر ایک صوبے کی مکمل بالادستی قائم ہوگئی ۔ ہر دور میں مخصوص ٹولے چھوٹے صوبوں کے عوام اور مختلف کمیو نٹیز کی ریاستی منتظمہ سے شکایات اور تحفظات کو ملک کے طول وعرض تک جانے سے روکنے کی کوششوں میںمصروف رہتے ہیں ''۔ جہاں تک محولہ بالا تحریر میں اٹھائے گئے سوالات اور نکات کا تعلق ہے تو اس ضمن میں ماضی کو کھنگا لنا پڑے گا۔ بد قسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کی سماجی روایات بر صغیر میں قائم ذات پات کے نام پر تقسیم صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں ، اسلام کی ہندوستان میں آمد سے لے کر آج تک ہندو سماج میں چار طبقوں میںبٹ جانے کی راسخ روایات قائم تھیں اور ہیں۔ مسلمانوں کے ہندوستان پر قابض ہوجانے کے بعد ظاہر ہے انہی چار طبقوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے مسلمانوں کے اندر بھی اس قسم کے جراثیم سرایت کرنا فطری امر تھا ، مسلمانوں میں بھی طبقاتی تقسیم کی بیماری پھیلنے کی وجہ سے جہاں کمی کمین طبقات پیدا کئے گئے اور جولا ہے ، بڑھئی، راج ، (معمار) ، میراثی وغیرہ کو حقارت کی نظر سے دیکھا جانے لگا وہاں انگریز وں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سکھوں کو جو درحقیقت مارشل ریس تھی ، احمق اور بے وقوف کے طور پر پینٹ کرنا شروع کیا اور ان کے متعلق نازیبا لطائف مشہور کر کے ان کو ایک الگ معاشرتی طبقے کے طور پر پیش کیا ۔ قیام پاکستان کے بعد جہاں بھارت میں یہی روایت بر قرار رکھی گئی وہاں پاکستان میں بھی سکھوں کے لطیفے عام تھے ، اس کے بعد بقول جنا ب مقتدا منصور کے بنگالیوں کے خلاف نفرت کی ایک صورتحال پیدا کی ، اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ مشرقی پاکستان نے اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی پیر ٹی کے اصول کو تسلیم کرکے وسیع القلبی کا مظاہر ہ کیا ، مگر وہ مخصوص طبقہ ا س صورتحال سے پھر بھی مطمئن نہیں ہورہا تھا اور ایک خاص سازش کے تحت ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے کہ بالآخر اکثریت عالمی تاریخ میں پہلی بار اقلیت سے علیحدگی پر مجبور ہوئی ، اس کے بعد ملک کی دیگر اقلیتوں کے خلاف بھی نفرت پھیلانے کی کوششیں شروع کر دی گئیں ، جہاں بقول کالم نگار سندھ کے وسائل پر قبضے کی خاطر ہندوستان سے آنے والوں اور مقامی سندھیوں اور بلو چوں کے درمیان نفرت کا ایسا بیج بویا جو آج تناور درخت بن چکا ہے ، یوں ملک پر ایک صوبے کی مکمل با لا دستی قائم ہوگئی ، یہ صورتحال صرف سندھ تک محدود نہیں بلکہ آج اگر بلوچستان کے اندر بعض مرکز گریز قوتیں نہایت خطرناک کھیل کھیل رہی ہیں اور بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں تو اس صورتحال کا بھی ٹھنڈے دل سے جائزہ لیکر جائز شکایات کو دور کرنے کی ضرورت ہے ، اسی طرح آج سوشل میڈیا پر دیکھیں تو جو رویہ انگریز کے دور سے سکھ برادری کے ساتھ ایک خاص سازش کے تحت روا رکھا گیا آج پختونوں کے خلاف غلیظ لطائف اور دوسری پوسٹیں وائرل کرکے ان پر فخر کیا جارہا ہے۔ یہ صورتحال اس قدر پھیلی کہ ابھی چند مہینے پہلے کسی اور نہیں پی ٹی وی کے سرکاری چینل پر ایک مزاحیہ مشاعرے میں جس طرح پختون قوم کی توہین کی گئی اس پر پختونوں نے خیبر سے کراچی تک ہر سطح پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا تو وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات نے اس کا نوٹس لیکر محولہ شاعر کی پی ٹی وی پر انٹری بین کر دی جبکہ چیئر مین پی ٹی وی نے اس واقعے پر مذمت کی ، ایم ڈی کی ہدایت پر متعلقہ پروڈیوسر کو معطل کر کے واقعے کی انکوائری کا عندیہ دیا گیا ، تاہم اس کے بعد اس سارے معاملے کا حتمی نتیجہ کیا نکلا ، کچھ پتہ نہیں ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس مخصوص طبقے کی مقتدا منصور نے نشاندہی کی ہے اس طبقے کی سازشیں رکنے میں نہیں آرہی ہیں مگر یہ لوگ عددی اکثریت کے زعم میں جس طرح چھوٹی کمیونیٹیوں کی بے حرمتی کرتے ہیں اس کے نتائج کہیں خدا نخواستہ مسائل کھڑے نہ کر دیں ، اس سوال پر ضرور غور کرنا چاہیئے ۔

اداریہ