Daily Mashriq


کیسے اُجلے لوگ تھے ماہ وسال کو روشن کئے ہوئے

کیسے اُجلے لوگ تھے ماہ وسال کو روشن کئے ہوئے

سلام ٹیچر ڈے (عالمی یوم اساتذہ ) پر انگنت یادوں نے دستک دی ۔ نصف صدی سے 9سال اوپر ہوگئے ۔ حصول علم کا سلسلہ جاری ہے ، اماں کی گود سے لحد تک میں مٹی کی چادر اوڑھ کر سونے جانے کے لمحے تک کے درمیانی سفر میں آدمی طالب علم ہی رہتا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ بندہ طالب علم رہے تو سکھی رہتا ہے ۔ صاحبان علم اور اساتذہ کرام سے سوال پوچھ سکتا ہے ۔ اہل علم کی محفل میں دوزانوں ہو کر بیٹھا رہتا ہے ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم جس عہد میں جینے پر مجبور ہیں اس عہد میں سوال کفر اور علم پاگل پن سمجھا جاتا ہے ۔ پھر بھی چند لوگ ہیں جن کے دم سے رونق لگی ہوئی ہے ۔ سفر حیات کے پچھلے مرحلوں کی یادوں کی پوٹلی کھولتا ہوں تو قدم قدم پر صاحبان علم وکلام کے نقش پا اب بھی صاف دکھائی دیتے ہیں ۔ کیسے کیسے اُجلے لوگ تھے ان گزرے ماہ وسال کو روشن کئے ہوئے ۔ ہم سے طالب علموں نے ان سے فیض پایا ۔ یوں کہہ لیجئے کہ انہوں نے ہماری مٹی گوندی اور مرضی سے بنایا ۔مجھے اپنے اساتذہ کرام کبھی نہیں بھولتے ہر سانس یاد رہتے ہیں ۔ ہر شب دعا کے لمحوں میں دنیا سرائے سے رخصت ہوئے اساتذہ کرام کے لئے دست دعا بلند کرتااور عقید ت سے سرجھکا لیتا ہوں کہ ان کی تربیت کی وجہ سے سفر حیات کاایک اوردن عزت سے بسر ہو گیا ۔ آپا سیدہ فیروزہ خاتون ، جناب فضل ادیب ، رحیم بخش کھوسو ، عباس نقوی ، دلبر حسین ، فرید لاکھو ، حمید اختر ، حسین اصغر، سید افتخار حسین نقوی ، ضیاء اللہ باجوہ ، افتخار احمد، حافظ سید حمید اختر ، سید عالی رضوی ، اکرم شیخ ، استاد شمس ، محترمہ شبنم محمود ، ان اساتذہ کرام میں سے چند حیات ہیں اللہ ان کی زندگیوں اور عزت میں وسعتیں عطا فرمائے ۔ دنیائے سرائے سے رخصت ہوئے معلموں کے رب العزت درجات بلند کرے ۔ 

ہمارے بچپن اور شعور کی دہلیز پر قدم رکھنے کے زمانے کے اساتذہ کرام۔ '' اب انہیں ڈھونڈ و چراغ رُخ زیبا لے کر ''۔ لاریب اپنی وضع کے منفرد لوگ تھے ۔ طمع و لالچ کے گھاٹ پر زندگی بھر نہ خود اُترے اور نہ کبھی شاگرد وں میں منفی سوچ پیدا ہونے دی ۔ استاد مکرم سید عالی رضوی مرحوم کی خدمت میں عرض کیا کرتا تھا ۔ ''سید ی ۔ آج اگر تلسی داس ہوتے تو ہو بہوآپ سے ہوتے ''۔ عینک کو آنکھوں سے ذرا دور کرتے ہوئے فرماتے کیوں بھئی فیر کوئی نواں سیاپا تے نہیں ؟ ( کیوں میاں پھر کوئی نیا فساد تو نہیں کر دیا ) روز مرہ کے دفتری کام سے فارغ ہوتے ہوئے تو سیدی یادوں اور مطالعہ کا دفتر کھول کر بیٹھ جاتے ۔ تاریخ تقابل ادیان ۔ سیاست وہ جس موضوع پر بولتے گھنٹوں بے تکان بولتے چلے جاتے ۔ استاد فضل ادیب کتابوں کے رسیا تھے۔ چاہتے تھے کہ ان کے شاگرد ان بھی کتابوں سے دوستی کرلیں ۔ شاگردوں کو کتاب دوست بنانے کے لئے وہ ہر ماہ چوتھائی تنخواہ کتابوں کے نام پر تقسیم کر دیتے ۔ حمید اختر صاحب حافظ قرآن تھے اور سید بھی لیکن لکھتے فقط حمید اختر تھے ۔ یادوں کی پو ٹلی کھول کے بیٹھ جاتے متحدہ ہندوستان کی ترقی پسند تحریک کے اوراق الٹتے چلے جاتے ۔ افتاد گان خاک کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں مزید روشن ہو جاتیں استاد شمس سے ہم نے اخباری دنیا میں کاپی جوڑنا سیکھاتھا کہ بوقت ضرورت کام آئے اور لاریب یہ تربیت بہت کام آئی ہمارے ۔چالیس پنتالیس برس ادھر جب کو چہ صحافت میں طالب علم کے طور پر قدم رکھا تو تربیت کرنے والے اساتذہ نے ایسے ہاتھوں ہاتھ لیا جیسے کنواں کسی پیاسے کی آمد پر جھٹ سے پانی کی سطح بلند کردے ۔

استاد اکرم شیخ نے سیاسی انٹرویو کرنے کا فن سکھا یا ۔ کیسے جواب کے دریا کو کوزے میں بلند کرنا ہے تیس برسوں سے ان سے نبھ رہی ہے تو بہت ساری وجوہات میںسے ایک مرشد کریم سیدی بھلے شاہ سے مشترکہ محبت و عقیدت ہے ۔ ہماری آنکھوں کے سامنے زمانے نے کیسی کیسی کروٹیں لیں ۔ ایک وہ دن تھے کہ استاد ان گرامی عطا پر خوش ہوتے تھے ایک یہ زمانہ ہے کہ کسی سے کچھ کہو تو جواب ملتا ہے آپ مجھ سے زیادہ سمجھتے ہیں کیا ؟ ۔ خاک میں کیسے کیسے اُجلے اور پرفیض لوگ جا سوئے ۔ اب ان کی یادوں کے چراغ جلا کر راستہ ڈھونڈلیتے ہیں اندھیرے کاٹ لیتے ہیں ۔ کبھی کبھی شدت کے ساتھ جی چاہتا ہے کہ بیتے ماہ و سال پلٹ آئیں اور اپنے اساتذہ کرام کی جوتیاں سیدھی کرنے کی سعادت پھر سے حاصل ہو وہ ہم کو ر مغزوںپر اپنا مشاہدہ ۔ مطالعہ اور تجزیہ نچھا ور کریں ۔ نسیم حجازی کا ناول پڑھتے ہوئے آپا سیدہ فیروز ہ خاتون نے گردن سے دبوچ لیا ایک کرارا تھپڑ جڑا اور بولیں ۔''صاحبزادے ۔ ہم آپ کو ایک اچھا طالب علم دیکھنا چاہتے ہیں اور آپ ہیں کہ شعور کود یمک لگانے پر تلے ہوئے ہیں ''۔پھر آپا کی رہنمائی میں وہ سب پڑھا جو ان لمحوں تک کام آرہا ہے ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں آپا نہ ہوتیں تو میری تعمیر میں جوکج رہ جاتے ان کا نتیجہ کیا نکلتا ؟ ۔ عالمی یوم اساتذہ کی مناسبت سے یہ کالم ایک دن قبل لکھنا چاہیئے تھا لیکن غم روزگار کے سلسلے عجیب ہوتے ہیں ۔ ہم اور آپ جس دور میں پروان چڑھے اور جو ماحول و اساتذہ کرام ملے کا ش وہ سب ہماری آج کی نسل کوبھی نصیب ہو تا ۔ مصنوعی پن اور ہم سب جانتے ہیں کہ سوچ کی وجہ سے دو لے شاہ کے چوہوں کی بہتات ہوگئی ہے طالب علم خال خال ہی ملتے ہیں ۔ اساتذہ کرام نہ ہونے کے برار رہ گئے ہیں ۔ کاش 70برسوں میں انسان سازی کا ایک ادارہ ہی بناپا تے ہم کہ بیدار مغز اساتذہ نئی نسل کی فکری تربیت کرتے اور ایک فہمید ہ نسل سچ کا علم بلند کرتے ہوئے میدان عمل میں کھڑی ہوتی ۔ بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور جو ہوا اس کی سزا بھگت رہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں