Daily Mashriq


طلبہ پر تشدد کے ذمہ داروں کو معاف نہ کیا جائے

طلبہ پر تشدد کے ذمہ داروں کو معاف نہ کیا جائے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کا پشاور یونیورسٹی کے طلبہ پر بلاجواز تشدد کیخلاف پارلیمانی کمیٹی کا اعلان اور چودہ روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کے حکم کی افادیت اپنی جگہ لیکن یہ معاملہ اس قدر فوری اہمیت کا حامل ہے کہ وزیراعلیٰ کو ابتدائی طور پر ان پولیس افسران کو معطل کرنا چاہئے تھا جن کی سرکردگی میں پولیس نے طالب علموں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ وزیراعلیٰ کو اس امر کا فوری استفسار کرنا چاہئے کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا اور پولیس نے اس قدر عجلت کا مظاہرہ کیوں کیا۔ جہاں تک پارلیمانی کمیٹی بنانے کا سوال ہے، بادی النظر میں وزیراعلیٰ کا اقدام حکومت کو تنقید کا شکار ہونے سے بچانے کے فوری اقدام اور طلبہ کو سخت احتجاج سے روکنے کا حربہ بھی ہو سکتا ہے۔ جس کسی معاملے کو دبانا مقصود ہو اس پر کمیٹی بنانے کا رواج پرانا ہے۔ وزیراعلیٰ کے پاس انتظامی اختیارات کا فوری استعمال کرنے کے کئی راستے تھے جن کو اختیار نہ کرنا اس واقعے کے ذمہ داروں سے چشم پوشی کے زمرے میں آتا ہے، بہرحال ان معروضات کے باوجود دیکھنا یہ ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ آنے پر اس پر کس حد تک عملدرآمد میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر بھی عمل درآمد میں تاخیر؟

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں ''کلین پاکستان موومنٹ'' شروع کرنے کی مہم کے فیصلے پر خیبر پختونخوا میں عمل درآمد میں تاخیر کو حکومت کی ناکامی سے تعبیر کرنا غلط نہ ہوگا۔ اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ ستتر ٹی ایم ایز کے پاس کچرا ٹھکانے لگانے کیلئے ڈمپنگ سائٹ نہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ضرور ہے جسے گزشتہ صوبائی حکومت بھی حل نہ کر سکی۔ یہ صفائی مہم کی راہ میں ایک رکاوٹ ضرور ہے لیکن صفائی صرف کوڑے کرکٹ ہی کو ٹھکانے لگانے کا نام نہیں، سڑکوں کے کنارے گرد کی جو موٹی تہہ جم کر منڈھیر کی جو شکل اختیار کر گئی ہے اسے ہٹا کر ٹھکانے لگانے کیلئے کسی ڈمپنگ سائٹ کی ضرورت نہیں بلکہ اس مٹی کو تو کسی بھی جگہ بھرنے اور کسی بنجر جگہ ڈال کر پودے لگانے کیلئے زمین تیار کی جا سکتی ہے۔ اس مٹی کو ہٹانے میں بھی وقت لگے گا اگر ابتداء ہی اس سے کی گئی ہوتی تو کم ازکم سڑکوں کے کنارہ سے اُٹھتی دھول میں کمی لاکر ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ باب پشاور فلائی اوور کی بی آر ٹی کے آغاز سے اب تک صفائی نہ ہونے کے باعث پوری سڑک پر بجری بکھری ہوئی ہے اور مٹی کے ڈھیر جمع ہو چکے ہیں۔ اس کی صفائی کر کے قریبی نالے میں پھینکا جا سکتا ہے، اسی طرح بی آر ٹی کے تعمیراتی کام کی تکمیل ومزید تعمیر کے باعث سڑکوں پر پھیلی بجری اور تعمیراتی مواد کو ہٹانے کیلئے کی ڈمپنگ سائیٹ کی ضرورت نہیں، محض ایک وجہ کو بنیاد بنا کر صفائی مہم سرے سے شروع نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ جہاں تک ڈمپنگ سائیٹ کا تعلق ہے کیا یہ اتنا لاینحل مسئلہ ہے کہ حکومت اس کا کوئی حل تلاش نہیں کر سکتی۔ آخر کب تک ڈمپنگ سائیٹ کیلئے اراضی کی عدم دستیابی اور لوگوں کی مخالفت کے باعث شہر کو کوڑے کا ڈھیر بنا کر رکھا جائے گا۔ ڈمپنگ سائیٹ کی لوگوں کی جانب سے مخالفت اسلئے فطری امر ہے کہ اسے علاقے کے ماحول کی تباہی اور لوگوں کیلئے تعفن زدہ ماحول بنا دیا جاتا ہے۔ اگر کوڑے کرکٹ کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے کی منصوبہ بندی کی جائے اورکوڑے کو غلاظت کا ڈھیر بنانے کی بجائے اس کوڑے کو پلانٹ لگا کر ضائع کرنے کیساتھ ساتھ اس سے کارآمد اشیاء بنانے کا سلسلہ شروع کیا جائے تو ڈمپنگ کی مخالفت نہیں ہوگی۔ صوبائی حکومت کو اس مسئلے کے حل میں اب مزید وقت صرف نہیں کرنا چاہئے جبکہ صفائی تو شروع کی جائے۔ خواہ وہ وزیراعظم کی فرمائش پوری کرنے کیلئے ہو یا نہ ہو کم ازکم معمول کی صفائی تو نظر آنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں