Daily Mashriq


شہباز شریف کی گرفتاری

شہباز شریف کی گرفتاری

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مسلم لیگ(ن) کے صدر اور قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کے امیدوار میاں شہباز شریف کو ایک ایسے اقدام کے الزام میں گرفتار کرلیاگیا ہے جس کے مماثل منصوبے پروزیر اعظم عمران خان کے زیر صدارت اجلاس میں منصوبے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاس میں کم آمدنی والے افراد کو پچاس لاکھ مکانوں کی فراہمی کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے مراحل پر غور و خوض اور فیصلے کئے گئے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عین اسی دور سابق وزیر پنجاب میاں شہباز شریف کو نیب نے صاف پانی کیس میں طلب کرکے آشیانہ ہائوسنگ سکینڈل میں گرفتار کرلیا۔ نیب قبل ازیں سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت متعدد اہم شخصیات کو گرفتار اور ان کے خلاف کارروائی کی سرگرمی میں ہے۔ نیب کی عدالتوں سے سزائیں دلوانے کے بعد جب معاملات اعلیٰ عدالتوں میں آتے ہیں تو خود بنچ میں بیٹھے جسٹس صاحبان عدالتی فیصلے کے نکات کا استہزا کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔ نیب کی عدالت سے سابق وزیر اعظم نواز شریف ان کی صاحبزادی اور داماد کو قید و بند اورجرمانے کی سزائیں ہوئیں لیکن دو ماہ بعد ہی اسلام آباد ہائیکورٹ سے ان کو ضمانت پر رہائی ہی نہیں ملی بلکہ عدالت کے سزا اور فیصلے پر ریمارکس بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں نیب کی تحقیقات شواہد پیش کرنے اور سزائیں دلوانے کی سعی اعلیٰ عدالتوں کو قابل قبول کیوں نہیں ہوتے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر نیب کے چیئر مین سے لے کر زیریں سطح کے افسران کو اس پر ضرور غور کرنا چاہئے۔ کیا اس سے یہ امر سامنے نہیں آتا کہ نیب سنجیدگی سے ہاتھ ڈالنے کی بجائے مفروضوں پر وقت ضائع کرکے نہ صرف ملزموں کو سزائوں اور جرمانوں سے نکلنے کا عدالتی راستہ فراہم کرتی ہے بلکہ ان افراد کے عدالتوں سے ریلیف ملنے پر نہ صرف نیب کو سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ان سیاسی شخصیات کو عوام میں آکر اپنے ہاتھ صاف ہونے کے دعوے کا بھی موقع ملتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نیب کے لئے ملک میں درجنوں اہم شخصیات کے خلاف تحقیقات کے لئے نہ صرف موزوں ماحول موجود ہے بلکہ نیب کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ بدعنوانیوں کی تحقیقات کے بعد مرتکب افراد کو سزا دلوائے اور ان کی جائیدادیں تک نیلام کروائے لیکن اس کے لئے نیب کو اپنی تفتیش اور تحفظات کا نظام بہتر بناناہوگا جسے بہتر بنائے بغیر کسی بڑے بدعنوان شخص کے احتساب کی توقع نہیں۔ اس ضمن میں یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ پانامہ پیپرز میں صرف سابق وزیر اعظم کا براہ راست نام بھی نہیں تھا ان کے خلاف تو تحقیقات کی گئیں مگر پوری فہرست میں کسی بڑی مچھلی کانام بھی نہیں لیا جا رہا۔ امیر جماعت اسلامی پوری فہرست لے کر عدالت عظمیٰ گئے مگر ہنوز اس ضمن میں کارروائی کاانتظار ہے جہاں اس قسم کی صورتحال ہو وہاں کسی سیاسی شخصیت کی گرفتاری کو انتقامی رنگ دینے اور سیاسی وجوہات قرار دینے کا خود بخود راستہ نکل آتا ہے اور پھر جب عدالتوں سے بھی ریلیف ملتاہے تو پھر مہر تصدیق ثبت ہونے کا حامل معاملہ ہوتا ہے جو نیب کے لئے ہی نہیں بلکہ اس ملک کے خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والوں کو ان کے کئے کی سزا دلوانے کے متمنی افراد کے لئے بھی نہایت تکلیف دہ معاملہ ہوتاہے۔ جہاں تک سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے معاملے کا تعلق ہے اس ضمن میں نیب کے پاس شواہد کیا ہیں اور اس پٹاری سے کیا نکلتا ہے اس کا اندازہ تو مقدمے کی سماعت یا پھر نیب عدالت سے ممکنہ سزا کے بعد اپیل ہی پر ہوسکے گا تاہم فی الوقت اس معاملے کا جائزہ لیا جائے تو نیب کامقدمہ ٹھوس بنیادوں پر نظر نہیں آتا۔ آشیانہ اقبال ہائوسنگ سوسائٹی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ 14 ارب روپے کا اسکینڈل ہے جس میں غیر قانونی انداز سے نا اہل ٹھیکے دار کو ٹھیکہ دیا گیا ۔ دیکھا جائے تو یہ پراجیکٹ ورکس اینڈ پروکیورمنٹ کا کنٹریکٹ نہیں جس میں حکومت گھروں کی تعمیر کیلئے ادائیگی کرتی ہے، بلکہ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا پراجیکٹ ہے جس میں نجی تعمیراتی کمپنی کو گھروں کی تعمیر کیلئے اپنے فنڈز استعمال کرنا ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نا اہل ٹھیکے دار کو بھی سرکاری خزانے سے کوئی ادائیگی نہیں کی گئی، سرکاری زمین پر کوئی تعمیراتی کام شروع ہی نہیں ہوا، زمین کے متعلق کوئی لین دین بھی نہیں ہوا کیونکہ دوسرا ٹھیکہ بھی منسوخ کر دیا گیا، اور زمین کی ملکیت اب بھی پنجاب حکومت کے پاس ہے۔ جن معاملات کے الزامات لگائے گئے ہیں ان الزامات اور اعتراضات کی شہباز شریف نے نہ صرف تحقیقات کروا کر ایکشن لیا بلکہ کمپنی کے عدالت جانے پر وہاں معاملات زیر بحث آئے ۔ پنجاب حکومت نے اس منصوبے کو روبہ عمل لانے کے دور میں ہی شفافیت بارے مطمئن نہ ہونے پراس منصوبے پرکام شروع کرانے کی بجائے کنٹریکٹ منسوخ کرکے سرکاری زمین واپس لے لی۔ اب یہ زمین پنجاب حکومت کے پاس ہے۔ اس طرح دیکھیں تو حکومت کو اس وینچر سے ایک پائی کا بھی نقصان نہیں ہوا۔ اگر اس وقت کی حکومت نے کسی ٹھیکے دار کیخلاف کارروائی نہ کی ہوتی تو نیب قانون کے تحت کارروائی ہوسکتی تھی۔پراجیکٹ میں صرف فزیبلٹی کی تیاری، زمین کی کلیئرنس اور اشتہارات وغیرہ پر رقم خرچ ہوئی۔یہ الگ معاملہ ہے اور اس کا ہونا کسی قانون کی سنگین خلاف ورزی نہیں۔ مزید دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وقت موجودہ حکومت کو جس منصوبے کو آگے بڑھانا ہے اس مماثل منصوبے کو دستاویزی طور پر کیسے آگے بڑھایا جاتا ہے اور جو اعتراضات اور الزامات صرف منصوبہ بندی کے بعد اس پر عملدرآمد کے مرحلے کے بغیر ہی الزام قرار پاگیا ہے اس سے بچنے کا کیا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ اہم نہیں کہ شہباز شریف کتنے عرصے قید اور تحقیقات کا عمل بھگتتے ہیںاہم یہ ہے کہ نیب ان کو سزا دلوانے میں کیسے کامیاب ہوتی ہے یا پھر شہباز شریف عدالت سے سند لے کر نیب کی ناکامیوں میں ایک بڑی ناکامی کا اضافہ کرتے ہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ نیب اس کیس میں وہ غلطیاں نہیں دہرائے گی جن کی وجہ سے عدالتیں ملزمان کی سزائیں معطل کرکے ان کو ریلیف فراہم کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں