Daily Mashriq


شہباز شریف کی گرفتاری' انصاف دکھائی دینا چاہئے

شہباز شریف کی گرفتاری' انصاف دکھائی دینا چاہئے

قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی آشیانہ ہائونگ سکیم سکینڈل میں گرفتاری کے بعد نون لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری پارلیمان کی توہین ہے اس سے اچھا تاثر نہیں جائے گا۔جو سر اٹھائے گا نیب اس کے سر پر ڈنڈا مارے گی۔ اپوزیشن رہنمائوں کا یہ بھی کہنا تھا شہباز شریف کی گرفتاری سیاسی انتقام ہے۔ سابق جرنیلوں اور بیورو کریٹس کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی پچھلے دور میں صاف پانی اور آشیانہ ہائوسنگ سکیم سکینڈلوں پر تحقیقات اور کرپشن کے ذمہ داروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ نیب نے صاف پانی اور آشیانہ سکیم میں تحقیقات کا آغاز نون لیگ کی حکومت میں کیا تھا۔ صاف پانی کا معاملہ پہلے عدالت میں گیا جہاں انکشاف ہوا کہ مطلوبہ اہلیت نہ رکھنے والے سیاسی شخصیات کے عزیزوں کو لاکھوں روپے کی تنخواہوں پر صاف پانی کمپنیوں میں بھرتی کیاگیا جبکہ بیورو کریسی سے تعلق رکھنے والوں کو بھی 10 سے 25 لاکھ روپے کی تنخواہوں پر ان کمپنیوں میں اہم عہدے دئیے گئے۔ صاف پانی سکینڈل کی عدالتی سماعتوں کے دوران ہی یہ انکشاف ہوا تھا کہ شہریوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے لئے بنائی گئی کمپنیوں پر صوبائی خزانہ سے 100ارب روپے سے زیادہ رقم خرچ ہوئی جس میں سے 56 ارب روپے ضائع ہوگئے۔ میاں شہباز شریف ایک عدالتی سماعت میں 56 ارب روپے ضائع ہونے کی بابت خود بھی تسلیم کرچکے۔غور طلب بات یہ ہے کہ کیا اس ملک میں آبی شریف فیملی یا کوئی دوسرا احتساب سے ماورا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ سیاستدانوں کا ایک طبقہ پہلے قانون کی حاکمیت اور احتساب کے نعرے بلند کرتا ہے جب قانون اپنا راستہ بنانے اور احتساب کاعمل شروع ہونے لگتا ہے کہ سیاسی انتقام کا شور مچانے لگ جاتا ہے۔ ثانیاً یہ کہ سابق جرنیلوں اور بیورو کریٹس کی کرپشن کا کم از کم پچھلی دو حکومتوں نے نوٹس کیوں نہ لیا۔ یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ 2008ء سے 2013ء کے درمیان پیپلز پارٹی پارلیمان میں بلاامتیاز احتساب اور احتساب کے دائرے کو وسیع کرنے کے لئے قانون سازی کرانے کی خواہش مند رہی ان برسوں میں نون لیگ پارلیمان میں اپوزیشن کی قیادت کر رہی تھی تب نون لیگ کا موقف تھا کہ پیپلز پارٹی ریاست کے دو اہم اداروں پر وار کرکے ریاست کی بنیادیں کھوکھلی کرنا چاہتی ہے۔ اس قانون سازی کے لئے پیپلز پارٹی کو مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں تھی اس لئے قانون سازی نہ ہوسکی۔ اپنے دور حکومت میں نون لیگ نے وعدوں کے باوجود نیب قوانین کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کا وعدہ پورا کیا نہ کراس دا بورڈ احتساب پر توجہ دی۔ اب جناب شہباز شریف کی جس کرپشن سکینڈل میں گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے اس سکینڈل میں گرفتار ماضی کے ایک اہم ترین بیورو کریٹ اپنے عدالتی بیان میں یہ کہہ چکے ہیں کہ تمام امور شہباز شریف کی منشا سے انجام پاتے رہے۔ ان حالات میں تو شہباز شریف کو اپنی بے گناہی ثابت کرکے سرخرو ہونے کا موقع ملا ہے۔ وہ تو خود یہ کہتے رہے ہیں کہ ان پر اگر ایک پیسے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو ہر سزا بھگتنے کو تیار ہوں گے یہاں معاملہ پیسوں کا نہیں اربوں کی کرپشن کا ہے۔ ہوسکتا ہے شہباز شریف بے قصور ہوں مگر کیا ان کے دور حکومت میں صاف پانی' آشیانہ سکیم' ملتان میٹرو اور اورنج لائن کرپشن سکینڈلز منظر عام پر آئے تو ان کی حکومت نے نیب سے درخواست کی کہ ان سکینڈلز کی تحقیقات کروائی جائے؟ معاملہ اس کے برعکس رہا پنجاب حکومت نے سارے چھوٹے بڑے ان کرپشن سکینڈلز کو حزب اختلاف کے مایوس لوگوں کا ڈھکوسلہ قرار دیتے ہوئے گڈ گورننس کے پھریرے لہراتے پھرے۔ اس امر پر دو آراء ہر گز نہیں کہ حکومتی محکموں کے منصوبوں میں کرپشن ہوئی ہے۔ کس نے کی اور کون سرپرست تھا یہ تحقیقات سے ہی واضح ہوگا۔ بالفرض اگر محال یہ مان بھی لیا جائے کہ نیب موجودہ حکومت کی ذیلی تنظیم کا کردار اپنائے ہوئے ہے تو پھر کیا نون لیگ یہ تسلیم کرے گی کہ اس کے اپنے دور اقتدار میں نیب نے نون لیگ کی ذیلی تنظیم کے طور پر اس کے سیاسی مخالفین کو بے بنیاد مقدمات میں پھنسوایا؟ ہماری رائے میں محض موجودہ حکومت سے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر سیاسی انتقام کی پھبتی کسنا درست نہیں ہوگا۔ نیب سے اگر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے تو اعلیٰ عدالتیں موجود ہیں نون لیگ یا کوئی بھی عدالتوں سے انصاف کے لئے رجوع کرسکتا ہے۔ یہاں ایک اور معاملے کی طرف مکرر توجہ دلانا بھی ضروری ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری ان کی ہمشیرہ اور چند دوستوں کے خلاف ان دنوں جس منی لانڈرنگ سکینڈل کی تحقیقات زور و شور سے جاری ہے اس کا آغاز نون لیگ کے دور حکومت میں ہوا۔ ان کالموں میں اس حوالے سے تفصیل عرض کرچکا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان دنوں منی لانڈرنگ سکینڈل کے حوالے سے ہمارے جیالے دوست تحریک انصاف کی حکومت کو کوس رہے ہیں۔ اس طرح صاف پانی اور آشیانہ سکیم سکینڈلز نون لیگ کے اپنے دور میں منظرعام پر آئے اب شہباز شریف کی گرفتاری کو سیاسی انتقام کہا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی منی لانڈرنگ سکینڈل کے حوالے سے نون لیگ سے وضاحت طلب کیوں نہیں کرتی اور نون لیگ اپنے ہی دور کے پر اسرار معاملات سے کیسے بری الذمہ ہوسکتی ہے؟ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ کرپشن کسی نے بھی کی وہ ملک' جمہوریت اور عوام کا مجرم ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ماضی کے چند کرپشنز سکینڈلوں میں ملوث افراد ان دنوں تحریک انصاف کی بس میں سوار ہیں نیب انہیں گرفتار کرنے سے پرہیز کیوں فرما رہی ہے۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ بلا امتیاز احتساب کے بغیر احتساب کے عمل کی شفافیت اجاگر ہوگی        (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں