Daily Mashriq


آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

نون لیگ دو مہینے کے مختصر عرصے کے دوران پنجاب میں اپنی حکومت بنا لیگی۔ کیوں اور کیسے ؟؟ جیسے بہت سے سوال سر اٹھانے لگے اس خبر کو سن یا پڑھ کر جس کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنما رانا مشہود نے بڑے دھڑلے سے کہہ دیا کہ نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان معاملات طے پاگئے ہیں۔ سمجھوتا ہوگیا ہے۔ اس طرز کے سمجھوتے یا معاملات کے طے پاجانے کو دو یا دو سے زیادہ پارٹیوں کے درمیان طے پا جانے والی ڈیل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کارگاہ سیاست ہی میں نہیں تقریباً ہر شعبہ زندگی میں کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر ڈیل ہوتی ہی رہتی ہے۔ وہ جو کہتے ہیں انسان ایک سماجی جانور ہے اسے اپنے سماج میں زندہ رہنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق استوار رکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ وہ تن تنہا رہ جاتا ہے ناکامی یا شکست اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ یہی کچھ نون لیگ کے سربراہوں کے ساتھ بھی ہوا انہوں نے اداروں کا اعتماد حاصل کرنے کی بجائے ان سے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرلیا۔ چوری اور سینہ زوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھی وہ اختیار اداروں کو اپنا زر خرید غلام سمجھنے لگے لیکن اس کے باوجود ادارے وزارت عظمیٰ کا اس وقت تک احترام کرتے رہے جب تک دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے نہیں آگیا۔ جرم ثابت ہونے پر نواز شریف اور اس کی صاحبزادی کو جیل کی ہوا کھانی پڑی وہ جیل سے رہا ہوئے تو کہنے والے کہنے لگے کہ نواز شریف اور عمران حکومت کے درمیان کوئی ڈیل ہوئی ہے جس کے نتیجے میں وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے باہر نکل آئے۔ مگر اب کے جو وہ باہر آئے تو انہوں نے مجھے کیوں نکالا جیسے الفاظ نہیں دہرائے شاید ڈیل میں عوام کے جم غفیر میں مجھے کیوں نکالا جیسے الفاظ نہ نکالنے کا بھی معاہدہ ہوا ہو۔ دوسری طرف عمران حکومت کے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اس بات کی دو ٹوک الفاظ میں تردید کردی کہ نواز شریف کی رہائی کے پس منظر میں ڈیل یا ڈھیل قسم کی کوئی بھی ساز باز یا لین دین کارفرما نہیں تھی۔ وزیر اطلاعات کو اس قسم کا بیان ان افواہوں کے جواب میں دینا پڑا جو نواز شریف کی رہائی کے بعد

مجھ میں اور ان میں سبب کیا جو لڑائی ہوگی

یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی

کے مصداق کانوں کان گردش کرنے لگی تھیں۔ افواہ بازی، افواہ طرازی یا افواہ سازی دور حاضر ہی کا فتنہ نہیں۔ ہر دور میں اس ہتھکنڈے کو اپنے مدمقابل کے حوصلے پست کرنے کے لئے اس کو بدنام کرنے کے لئے یا اس کو نیچا دکھانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے صفحات الٹ کر دیکھیں تو ہمیں 1857 کی جنگ آزادی کے دوران استعمال ہونے والا افواہوں کا وہ ہتھکنڈہ یاد آجاتا ہے جس میں مسلمانوں کو دانتوں سے چبا کر بندوق کی گولی کے استعمال کو روکنے کے لئے یہ بات مشہور کردی گئی تھی کہ اس کارتوس میں سور کی چربی ہے۔ اور ہندوئوں کو کارتوس کے استعمال سے باز رکھنے کے لئے اس بات کا چرچا کردیا گیا تھا کہ اس میں گائے کی چربی کا استعمال ہوا ہے۔ یوں افواہ طرازی کی اس چال نے 1857 کی جنگ آزادی کا پانسہ پلٹ دیا ۔ انگریز نے اس جنگ کے بعد آزادی کے متوالے مسلمانوں پر پابندیوں کی زنجیروں کی جکڑن مزید سخت کرنے کی غرض سے 1857ء کی جنگ آزادی کو غدر 1857ء کے نام سے یاد کرنا شروع کردیا اور یوں ان کی افواہ طرازی کا یہ حربہ بھی کسی حد کامیاب ہوگیا اور تحریک آزادی پاکستان کی داستانوں میں اب بھی اس معرکہ کو غدر 1857ء کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ افواہ اگر پھیل جائے تو اس کو روکنا آسان نہیں ہوتا۔ افواہیں اپنے مبدا سے نکل کر سینہ بسینہ سفر کرتی قریہ قریہ گردش کرنے لگتی تھیں۔جب تک سوشل میڈیا کا طوفان بلا خیز اودھم نہیں مچارہا تھا افواہ پھیلانے کے ذرائع محدود تھے۔ اب تو سوشل میڈیا پر آنے والی ہر سچی جھوٹی خبر کو خدا رسول کا واسطہ دے کر یا ملی اور مذہبی غیرت کو للکار کر اس کوپھیلادینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اور یوں گلوبل ویلج کے لوگ آناًفاناً ایسی خبروں کے جنگل کی آگ کی طرح لپیٹ میں آجاتے ہیں ۔ ہوائی اڑانے والوں سے زیادہ سنی سنائی باتوں پر بلا تصدیق یقین کرنے وا لوں کی سادگی اس آگ پر تیل کاکام کرجاتی ہے۔ بھولے باچھا نے سن رکھا تھا کہ جب پہلوان فجے کی گائے بیمار ہوئی تو اس نے اس کو تارپین کا تیل پلادیا تو اس نے بھی ایسا ہی کیا۔ اپنی گائے کو تارپین کا تیل پلایا اور وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ۔جب اسے پتہ چلا کہ تارپین کا تیل پلانے سے پہلوان فجے کی گائے بھی مرگئی تھی تو اسے اپنے کئے پر بڑی پشیمانی ہوئی ، یہ ہوتا ہے سنی سنائی باتوں پر یقین ہی نہیں عمل کرنے والوں کا انجام۔ اب جومسلم لیگ(ن) کے رانا مشہود نے ، نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیل کے متعلق بے پر کی اڑائی ہے تو اسٹیبلشمنٹ والے تو اسٹیبلشمنٹ والے نون لیگ والے بھی دہائی ہے سرکار دہائی ہے یہ ہوائی کس دشمن نے اڑائی ہے کا راگ الاپنے لگے۔اور جب ہم نے نون لیگ کے سربراہ شہباز شریف کو آشیانہ کیس میں گرفتار ہونے کی خبر سنی تو سمجھ گئے کہ جنگیں صرف افواہوں سے جیتی نہیں جاتیں ، جھوٹی افواہ جتنا بھی تیز دوڑے اس کے پاؤں نہیں ہوتے ، وقت کے آئینے میں سب نظر آجاتا ہے کیونکہ بقول کرشن بہاری نور

چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو

آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

متعلقہ خبریں