Daily Mashriq

نئے بم کی ایجاد اور ممکنہ بھارتی واویلا

نئے بم کی ایجاد اور ممکنہ بھارتی واویلا

پاکستان نے جس دور میں نیو کلیئرٹیکنالوجی میں قدم رکھااور بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوکے بعد ڈیٹر نٹ کیلئے بہ امر مجبوری ایٹمی دھماکے کر کے ترکی بہ ترکی جواب دیا تو امریکہ سمیت مغربی دنیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا ، بھارت کے ان مہا سبھائی ذہنیت کے حامل متعصب ہندورہنمائوں کی تو خیر حالت بہت ہی پتلی ہوگئی تھی جو بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کو نیست ونابود کرنے کے نہ صرف خواب دیکھنے لگے بلکہ ان کی زبانیں آگ اگلنے لگی تھیں اور اٹھتے بیٹھتے پاکستان کو دھمکیاں دینا ان کا معمول بن گیا تھا۔ کئی ایک نے تو اپنی حکومت کو یہ مشورے بھی دینا شروع کر دیئے تھے کہ بھارت کشمیر کو ہتھیانے کیلئے جنگ چھیڑ دے ، دوسری جانب کلنٹن کی حکومت نے پاکستان کو جوابی دھماکے کرنے سے روکنے کیلئے پاکستان کو بھاری رقم کی پیشکش بھی کی اور اگر حکومت چاہتی تو اس وقت پاکستان کے ذمے سارے واجب الادا قرضوں کی معافی بھی کراسکتی تھی مگر قومی غیرت کا تقاضا وہی تھا جو اس وقت نواز شریف حکومت نے اختیار کیا، حالانکہ بعدمیں اس حوالے سے بھی کئی داستانیں سامنے آئیں کہ یہ دھماکے فلاں کے زور دینے پر کئے گئے ۔ اس سلسلے میں ایک ''سازشی تھیوری'' یہ بھی عام ہوئی کہ میاں نوازشریف تو دھماکے نہیں کرنا چاہتے تھے مگر ان پر ۔۔۔دبائو آیا تو مجبور ہوئے ، وغیرہ وغیرہ ۔ خیر حقیقت جو بھی ہو اس سے قطع نظر کم از کم اس وقت فوری جواب تو بھارت کیلئے تھا جس نے ایک ہنگامہ ہائو ہو مچا رکھا تھا ، پاکستان کو تڑیاں لگا رہا تھا ایک طرف اس بھارتی اقدام اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو دی جانے والی دھمکیوں سے جہاں بھارت کے اندر ایک طوفان برپا تھا یعنی بھارتی عوام پاکستان کوحقیر جانتے ہوئے کچھ زیادہ ہی جوش وخروش کا مظاہرہ کرتے دکھائی دے رہے تھے اور ان انتہا پسند ہندو مہاسبھائی رہنمائوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پاکستان کو (خدانخواستہ) صفحہ ہستی سے مٹا دینے کیلئے بے تاب تھے اور اس انتظار میں تھے کہ کب بھارت مقبوضہ کشمیر کی سرحد پار کر کے آزاد کشمیر پر بھی بھارتی پرچم لہرانے کیلئے افواج کو حکم دیتا ہے ، جبکہ دوسری جانب ادھر پاکستانی عوام اس صورتحال سے واقعی مشوش تھے ۔ اور اس ضمن میں وہ ضیاء الحق کے دور ہی سے جو مختلف اوقات میں سامنے آنے والی خبروں سے خوش بھی تھے اور مطمئن بھی کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹم بم بنانے کیلئے اقدامات کئے تھے ، ان کے تسلسل پر خوش بھی ہور ہے تھے یہاں تک کہ بھارت میںپاک بھارت میچ کے موقع پر راجیو گاندھی کو اس وقت بھی بھارتی افواج کی سرحدوں پر پیدا کردہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے جوابی دھمکی بھی دے آئے تھے جس کے بعد بھارت سرکار نے اپنی فوجیں پیچھے ہٹالی تھیں ، اور اس کے بعد ہی امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے شدید تشویش لاحق تھی ۔ یہاں تک کہ اسرائیل نے بھارت کے ساتھ مل کر کہوٹہ پر حملے کا پروگرام بھی بنالیا تھا اور تب سے پاکستان کے ''مبینہ''بم کو اسلامی بم کا نام دے کر پوری دنیا کو ڈراوا دے دیا تھا ، یعنی بھارت ، اسرائیل ، امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں پاکستان کے ایٹم بم (جس کا تب تک کوئی ثبوت نہیں تھا)کو اسلامی بم قرار دے کر پاکستان کے خلاف مشترکہ حکمت عملی آغاز کر دی گئی تھی ، اور ایک عرصے تک اسلامی بم کا نام اہل مغرب کیلئے نائٹ میئر یعنی ڈرائو نا خواب بنا رہا ۔ اس لئے جیسے ہی بھارتی دھماکوں کے نتیجے میں پاکستان نے دھماکے کرکے اپنے ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کیا تو مغربی دنیا تو دنگ رہ گئی بھارت میں آگ اگلتی زبانوں پر تو جیسے اوس پڑ گئی ، اور جوبھارتی رہنماپاکستان پر حملہ کرنے کی باتیں کررہے تھے ان کی سوچوں کے غبارے سے ہوا نکل گئی ۔

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں ؟

ان یادوں کو کریدنے کی وجہ کچھ اور ہے اور وہ یہ کہ اب پاکستان میں بقول مغربی اقوام اسلامی بم کے برعکس ایک اور بم کا چرچا ہے ۔ یعنی منشاء بم ۔ اس لئے ہمیں یہ تشویش لاحق ہوگئی ہے کہ کہیں بھارتی مہاشے ایک نئی قسم کے خوف میں مبتلا ہو کر اسلامی بم کی طرز پر منشاء بم کے بارے میں بھی پروپیگنڈہ نہ شروع کر دیں ، بلکہ اس پروپیگنڈے سے اہل مغرب بھی متاثر ہو کرپاکستان کو اس''نئے بم'' کی ایجاد کے بعد اس کی ٹیکنالوجی دوسرے ممالک کو فروخت کرنے سے روکنے کیلئے دبائو ڈالنا شروع نہ کردیں ۔ دراصل بھارتی مہاشے پہلے ہی پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کے خوف کا شکار ہیں اور اس کیفیت سے ابھی تک باہر نہیں آسکے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے ترشول ، ارجن وغیرہ نام کے میزائلوں کی نسبت پاکستان کے غوری اور دیگر ناموں سے بنائے جانے والے میزائل کہیں زیادہ موثر ،طاقتور اور منزہ عن الخطاہیں ، یعنی اللہ کے فضل وکرم سے اپنے اپنے اہداف پر ٹھیک ٹھیک نشانہ لگانے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں جبکہ بھارتی میزائل نہ صرف کم طاقت کے ہیں بلکہ اکثر میزائل تجربے کے دوران ناکامی سے بھی دوچار ہو چکے ہیں اس لیئے پاکستان کے بقول دشمنان پاکستان''اسلامی بم'' کے بعد یہ جو دو روز قبل منشابم کا نام سامنے آرہا ہے اس سے بھارت کے اوسان ضرور خطا ہوئے ہوں گے ، مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان یا اسلامی دنیا نے تو اہل مغرب کی اس ایجاد کو کبھی عیسائی بم ،یہودی بم،سوشلسٹ بم، کمیونسٹ بم اور آخر میں ہندوبم کے نام سے نہیں پکارا کہ بم تو بم ہوتا ہے چاہے کوئی بھی ملک بنائے ۔ مگراب جو پاکستان میں منشاء بم کا غلغلہ اٹھ رہا ہے اس حوالے سے خبریں سامنے آنے کے بعد اگر انڈیا کے میڈیا نے اسے بھی اسلامی بم کی طرز پر اپنے پروپیگنڈے کا موضوع بنالیا، تو اہل مغرب کا کیا رویہ ہوگا، یہ بات سوچنے کی ہے ۔

متعلقہ خبریں