Daily Mashriq

اس جمہوریت کا کیا فائدہ

اس جمہوریت کا کیا فائدہ

ا بھی موجودہ حکومت کے دو مہینے بھی نہیںگزرے ۔ عوام نے جس جوش و خروش سے پی ٹی آئی اور عمران خان کو ووٹ دیا تھا ۔ اسکی نظیر نہیں ملتی۔ لوگ تبدیلی اور نئے نظام کے تلاش میں تھے مگر بد قسمتی سے دو مہینے سے کم وقت گزرنے کے بعد عمران خان نے مہنگائی کی صورت میں پاکستانیوں کو جو تحفہ دیا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ کیا جمہوریت اور کیا پاکستان کے غریب عوام ۔ وطن عزیز میں جس طرح قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اُمیدواران کی اہلیت اور چنائو کے لئے کو ئی طریقہ کا ر طے نہیں اس طرح ووٹروں کی تعلیم اور تربیت اور شعور کا بھی کوئی معیار نہیں۔ وہ شعور اورIntelect Level جس سے وہ اچھے اور بُرے میں تمیز کر لیں۔جس ملک میں ووٹ لنچ بکس، دو وقت کھانے،تھانے کچہری ، سکول کالج میں دا خلے ، سوئی گیس اور بجلی کنکشن ، بجلی ٹرانسفارمر کی مرمت اور گلی کو چوں کے پکا کرنے پر بکتا ہے اُس قوم سے کیسی توقع کی جاسکتی ہے کہ اُسکا نمائندہ صحیح ہو گا جو ملک کو احسن طریقے سے چلائے گا۔ ہمیں اتنا پتہ نہیں کہ جو ٹرانسفارمر، یا گلی ٹھیک کی جاتی ہے یا کالج اور یونیور سٹی میں دا خلہ دیا جاتا ہے اُس کا حا صل کرنا ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے۔ اور ہمارے ایم این اے اور ایم پی اے جو کچھ کھاتے پیتے ہیں وہ اس دھرتی کے ٹیکس دہندہ پسے ہوئے عوام کے خون پسینے کی کمائی ہے۔ گزشتہ 71 سالوں میں حکمرانوں نے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا ہوا ہے مجال ہے کہ کوئی اس کا نام بھی لے۔ہر پا رٹی خواہ مسلم لیگ سے ہو یا پیپلز پارٹی یا کوئی اور پارٹی ، ہر ایم این اے ، ایم پی اے وزیر کا سکینڈل اربوں روپے سے کم نہیں۔ کوئی کسی کے سامنے جواب دہ نہیں۔ ایک دن پکڑا جاتا ہے اور دوسرے دن چھوڑا دیا جاتا ہے جبکہ اسکے بر عکس ترقی یافتہ ممالک میں حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں اورا نکا باقاعدہ مواحذہ کیا جاتا ہے۔ اور ان میں کئی کو عہدوں سے ہٹایا بھی گیا۔ امریکی صدر اینڈریو جانسن ، ایران کے صدر ابولھاسان بانسدار ،برازیل کے صدر فرینڈو کی، وینزویلا کے صدر انڈرس پیریز، رو س کے صدر یلسن ، امریکہ کے صدر بل کلنٹن ، فلپائن کے صدر جو زف اسٹراڈا اورپیرو کے صدر البریٹو، انڈونیشیاء کے صدر عبدالرحمان کا، لتوینیا کے صدر، پیرا گوئے کے صدر فرنینڈو ، یوکرائن کے صدر ویکٹر، برازیل کے صدر اور سائوتھ کوریا کے صدر پارک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ اگر ہم پاکستانی قوم کی عقل اور دانش کا تجزیہ کریں تو ما ہرین کے مطابق وطن عزیز میں عام لوگوں کی عقل و دانش یعنی Intellect level ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کچھ نہیں نتیجتاً اس کا منفی پہلو ہماری سیاست پر نمایاں ہے۔معاشرتی علوم کے ماہرین کہتے ہیں کہ جن جن ممالک میں تعلیم کی شرح زیادہ ہے وہاں جمہوری عمل اور جمہو ریت بھی ترقی پذیر مما لک کی نسبت بہتر ہے۔ نیو زی لینڈ، ڈنمارک، آئس لینڈ اور سویڈن کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ زیادہ تعلیمی شرح کی وجہ سے ان ممالک میں عام لوگوں کی شعوری سطح زیادہ اچھی ہے جسکی وجہ سے ان ممالک میں جمہوری نظام بھی بُہت بہتر ہے۔ شاعر مشرق کہتے ہیں کہ

جمہو ریت وہ طرز حکومت ہے جس میں

بندوں کو گنا جاتاہے تولا نہیں جاتا

جن لوگوں کی تعلیم نہیں ، لازمی بات ہے وہاں پر لوگوں کا شعوری لیول بھی کم ہے نتیجتاً عوام عام انتخابات میں غلط اور نا اہل لوگوں کو مُنتخب کرتے ہیں۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ جو دنیا میں جمہوری نظام اور جمہوریت کو فروغ دینے کا ایک بین الاقوامی ادارہ ہے ۔ جو دنیا میں 167 ممالک کے جمہوری نظام کا سروے اور مانیٹرنگ کرتا ہے کہتے ہیں کہ دنیا کے 167 ممالک کے جمہوری نظام کوچا ر حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ اس میں نمبر 1)Free Democracy یعنی آزاد جمہو ری نظام،اس قسم کے جمہوری نظام میں جمہوری آزادی،چیک اینڈ بیلنس سسٹم، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا پر یقین رکھا جاتا ہے۔ اس کو دوسرے نمبر پر جو نظام دنیا میں مر وج ہے اُنکو Flaw Democracy یعنی حامیوں والی جمہوریت کہا جاتا ہے ۔ یہ وہ ممالک ہے جہاں جمہوری نظام میں فری ڈیمو کریسی کی نسبت زیادہ خامیاں ہو تی ہیں ۔ ان ممالک میں انتخابات صاف شفاف ہوتے ہیںوہاں پر میڈیا کے ایشوز ہوتے ہیں۔ عام طو رپرعام انتخابات میں کم تعداد میں ووٹ پڑتے ہیں اور ریاستی مسائل ہوتے ہیں۔جہاں تک تیسرے نظام کا تعلق ہے اسکو HybridDemocracy کہتے ہیں ۔ اور اس نظام جمہوریت میں عام طور پر انتخابات میں دھاندلی ہوتی ہے ،نظام میں کرپشن اور بد عنوانی کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ ابلاغ عامہ ، ملک میں امن وامان اور اچھی حکمرانی کے مسائل ہو تے ہیں۔چو تھا جو نظام حکومت ہے اُسکو مطلق العنانی کہتے ہیں ۔اگر ہم غور کر لیں تو پاکستان میں جمہوری ادارے تیسری کیٹگری میں ہے۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں