Daily Mashriq


خواہش اور فرمائش کااتصال

خواہش اور فرمائش کااتصال

عوامی جمہوریہ چین نے سلامتی کونسل میں جیش محمد نامی تنظیم کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی قرار دادکو ایک بار پھر ویٹو کردیاہے ۔بھارت کی طرف سے پیش کی گئی اس قرارداد کو امریکہ ،برطانیہ اور فرانس کی حمایت حاصل تھی جبکہ چین نے اس قرارداد کی حمایت سے یہ کہہ کر انکار کیا اس معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلاف رائے ہے اور جب تک دونوں ملک اس پر متفق نہیں ہوتے چین اس کی حمایت نہیں کر سکتا۔ اگر پاکستان اور بھارت بھی اس پر متفق ہوجائیں تو چین کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔کسی دوطرفہ مسئلے میں فریقین کا متفق ہوکر درخواست کرنا ایک ایسا عذر ہے جو اقوام متحدہ اور امریکہ کشمیر کے معاملے میں اپنائے ہوئے ہیں ۔ جب بھی ان سے اس معاملے میں ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی بات کی جائے تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ جب تک دونوں فریق ان سے مل کر ثالثی کی درخواست نہ کریں تیسرا فریق کردار ادا نہیں کر سکتا ۔اب مسعود اظہر کے معاملے میں چین نے یہی موقف اختیار کیا ہے ۔مسعود اظہر،حافظ سعید اوراسی طرح کچھ نام بھارت کی آنکھوں میں کھٹکنے والے وہ خار ہیں جنہیں امریکہ اپنے اثر رسوخ اور دھونس کے ذریعے نکال کر بھارت کی تکالیف اورپریشانیوں کا خاتمہ کرناچاہتا ہے ۔امریکہ کو ان ناموں سے براہ راست کوئی شکایت اور گلہ نہیں ۔ان میں سے اکثر نے امریکہ کے مفادات کو کھلے بندوں چیلنج نہیں کیا ۔امریکہ کے خلاف کسی عسکری کارروائی میں شریک نہیں ہوئے ۔امریکی مفادات کی مخالف القاعدہ کے ساتھ براہ راست وابستگی کا اظہار نہیں کیا اور نہ ان کے القاعدہ کے ساتھ روابط کی کوئی سن گن ملی ہے۔یہ شخصیات اس خطے کی سیاست ،تنازعات اور پالیسیوں کی پیداوار ہیں ۔ان کا وجود پاکستان اور بھارت کے درمیان حددرجہ اُلجھے ہوئے حل طلب مسائل سے ہے جن میں مسئلہ کشمیر سر فہرست ہے ۔ان تنظیموں اور شخصیات کا کوئی گلوبل ایجنڈا نہیں رہا ۔اخباری بیانات سے آگے بڑھ کر انہوں نے اپنی سرگرمی کو کسی دوسرے براعظم بلکہ تیسرے ملک تک پھیلانے کی کوشش نہیں کی۔امریکہ تو دور کی بات یہ عرب اور خلیجی تنازعات سے بھی اپنا دامن بچا کر رہیں۔اس کے باوجود امریکہ نے انہیں محض بھارت کو خوش کرنے اور پاکستان کو نیچا دکھانے کے لئے نشانے پر رکھا ہوا ہے ۔پاکستان اور بھارت کے تنازعات تاریخی سچائی ہیں۔برطانیہ ،امریکہ ،روس جیسے طاقتور ممالک اور اقوام متحدہ تاریخ کے ہر دور میں کسی نہ کسی موقع پر ان تنازعات میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں ۔اس لئے پاکستان اور بھارت کے تاریخی مسئلے کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنا بہت سطحی سوچ ہے مگر اس کا کیا کیجئے امریکہ یہ سوچ اپنا چکا ہے ۔وہ صرف بھارت کی خوشنودی کی خاطر پاکستان کو دیوار سے لگا چکا ہے ۔مسعود اظہر ہوں یا حافظ سعید ان سے بھارت کو تکلیف ہے اور بھارت کا خیال ہے کہ پاک بھارت جنگ کی صورت میں حافظ سعید کا نیٹ ورک بھارت کے اندر اس کا بھرکس نکال سکتا ہے ۔امریکہ اسے نصر میزائل جیسا سٹر یٹجک ہتھیار سمجھ رہا ہے اور بھارت بھی اسی خوف میں مبتلا ہے ۔

بھارت کا خوف دور کرنے کے لئے امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان ہر اس تنظیم کو پابندیوں میں جکڑ ڈالے جو کسی دوطرفہ تصادم میں بھارت کے خلاف کردار ادا کر سکتی ہے اور ہر اس شخص کو تختۂ دار پر لٹکا دیا جائے جو ایسے موقع پر کوئی ٹھوس کردار ادا کرسکتا ہے۔یہ بھارت کی خواہش ہے جو اکثر فرمائش بن کر امریکیوں کی زبان سے چھلک پڑتی ہے۔امریکہ مغربی دنیا کو مدت دراز سے ڈنڈے سے ہانک رہا ہے۔امریکہ پاکستان کو بھارت اور افغانستان کی عینک سے دیکھ رہا ہے اور عینک کا نمبر بدل جانے سے کئی مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران ایک انٹرویو میں بہت پتے کی بات کی ہے کہ امریکہ پاکستان کو پاکستان کے طور پر دیکھے کسی دوسرے ملک کے زوایے سے نہیں ۔ مگر اس خطے کی سیاست کو قریب سے دیکھنے والے ممالک بالخصوص چین اس معاملے کو قطعی مقامی تنازعے کے طور پر دیکھتاہے۔دہشت گردی صرف وہی نہیں جس سے امریکہ اور بھارت کے مفادات کو خطرہ ہو ۔دہشت گردی کی یہ محدود تشریح ایک حد تک امریکہ اور بھارت کو فائدہ تو دیتی رہی ہے مگر اس سے منظر تبدیل نہیں ہوا ۔ امن عالم کو لاحق خطرات اگر حقیقی تھے تو وہ آج بھی موجود ہیں ۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اقتصادی اور سفری پابندیوں اور امریکہ کی طرف سے سروں کی قیمت مقرر کرنے کے باجودیہ خطرات کم نہیں ہوئے ۔چین اور پاکستان کو درپیش دہشت گردی کے خطرات کو بھی دہشت گردی سمجھنے کا تکلف کیا جاتا تو آج حالات خاصے مختلف ہوتے ۔حالات آج بھی اس بات کے متقاضی ہیں کہ دہشت گردی کی جامع تعریف کی جائے اور اس اصطلاح کو اصل تناظر اور سیاق وسباق کے ساتھ استعمال کیا جائے ۔ نائن الیون کی گرد اب بڑی حد تک بیٹھ گئی اور زخم مندمل ہو رہے ہیں۔انتقام اور غصے کو اب بڑی حد تک قرار آرہاہے ۔ایسے میںرویوں اور پالیسیوں میں حقیقی تبدیلی نہ آئی اور دہشت گردی کے اچھی اور بری کے خانوں میں بانٹنے کا عمل ختم نہ ہوااوردہشت گردی کی یک طرفہ تعریف کا سلسلہ یونہی جا ری رہا تو ممالک اور قومیں بس اسی طرح بھول بھلیوں میں بھٹکتی رہیں گی ۔

متعلقہ خبریں