Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں: میں حضرت عمروبن العاص کی جان کنی کے وقت ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اتنے میں ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرو بھی ان کے پاس آگئے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے عبداللہ! آپ کہا کرتے تھے : میری خواہش ہے کہ میں کسی عقل مند شخص کو جان کنی کے عالم میں دیکھوں اور اس سے پوچھوں کہ تم موت کو کیسے پارکرتے ہو؟پھر آپ ہمیں بتائیں کہ آپ موت کو کیسا پار ہے ہیں؟حضرت عمر و بن العاصسے فرمایا:ایسالگ رہا ہے جیسے میں سوئی کے ناکے سے سانس لے رہا ہوں۔پھر کہنے لگے:اے اللہ ! مجھ سے جو چاہے لے لے ، یہاں تک کہ تو مجھ سے خوش ہو جا! اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا اور کہنے لگے: اے اللہ! تو نے حکم دیا مگر ہم نے نافرمانی کی ، تونے مصیبت سے روکا مگر ہم نے اس کا ارتکاب کیا ، تیرے سوا کوئی معافی دینے والا نہیں کہ میں اس کے سامنے عذر پیش کروں اور نہ ہی کوئی طاقت والا ہے ، جس سے مدد طلب کروں ، ہاں اللہ کے سوا کوئی معبودبرحق نہیں(اس لیے تیرے ہی سامنے ہم اپنا ہاتھ پھیلا تے ہیں کہ تو ہمیں بخش دے)۔ یہ بات آپ نے تین دفعہ کہی، پھر آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ حضرت عمرو بن عاص کی جان کنی کی کیفیت کو امام ذہبی نے طبقات ابن سعد (4/260)کے حوالے سے نقل کیا ہے ، حضرت عمرو بن العاص کہا کرتے تھے :تعجب ہے کہ جان کنی کے عالم میں مبتلا شخص سوجھ بوجھ رکھتے ہوئے بھی کیوں کر موت کی کیفیت بیان نہیں کرپاتا ہے ؟ مگر جب حضرت عمرو بن العاص کی موت آن پہنچی اور جان کنی کے عالم میں ان سے ان کے صاحبزاد ے نے موت کی کیفیت پوچھی تو انہوں نے فرمایا: صاحبزادے ! موت کی کیفیت بیان سے باہر ہے ، پھر بھی میں تجھ سے بیان کروں گا: ایسا لگتا ہے کہ رضوی کے پہاڑ( رضوی مدینے سے سات مراحل پر اور ینبع سے ایک مرحلے کی مسافت پر واقع ہے ) میری گردن پر رکھے ہوئے ہیں اور جیسے میرا پیٹ کانٹوں سے بھرگیا ہو او ر یوں محسوس ہورہا ہے کہ میری سانس سوئی کے ناکے سے نکل رہی ہے ۔ حضرت وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے مجھے یہ نصیحت لکھ کر بھیجی امابعد! تقویٰ والے لوگوں کی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں اور وہ خود بھی جانتے ہیں کہ ان کے اندر یہ نشانیاں ہیں ۔ وہ نشانیاں یہ ہیں : مصیبت پر صبر کرنا ۔ رضا بر قضا، نعمتوں پر شکر کرنااور قرآن کے حکم کے سامنے جھک جانا۔ امام کی مثال بازار جیسی ہے ۔ جو چیز بازار میں چلتی ہے اور جس کا رواج ہوتا ہے ، وہی چیز بازار میں لائی جاتی ہے ۔ اسی طرح امام کے پاس اگر حق کا رواج چل پڑے تو اس کے پاس حق ہی لایا جائے گا اور حق والے ہی اس کے پاس آئیں گے اور اگر اس کے پاس باطل کا رواج چل پڑے تو باطل والے ہی اس کے پاس آئیں گے اور باطل ہی اس کے پاس چلے گا۔ (اخربہ ابو نعیم فی الحلیة1/336)

متعلقہ خبریں