Daily Mashriq


امریکہ اپنی سناتا ہے دوسروں کی نہیں سنتا

امریکہ اپنی سناتا ہے دوسروں کی نہیں سنتا

محکمہ خارجہ نے وزیرخارجہ مائیک پومپیو کے دورہ پاکستان اور وہاں ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردوںکیخلاف مستقل وفیصلہ کن اقدامات اُٹھانا ہوں گے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں۔ عالمی برادری پاکستان کی قربانیاں تسلیم کرے۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کردار ادا کرتا رہے گا۔ ادھر وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان امریکہ کیساتھ باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی تعلقات کے استحکام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے خطہ کی صورتحال کے بارے میں پاکستان کے نقطۂ نظر کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان میں امن واستحکام کی خواہش کا اعادہ کیا اور کہا کہ تمام ہمسایوں کیساتھ امن اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات چاہتے ہیں۔ بھارت روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کو افغانستان کا پُرامن حل تلاش کرنا ہوگا۔ امید ہے آج کی ملاقات آگے بڑھنے کی بنیاد بنے گی۔ قبل ازیں پاکستان روانگی سے پہلے واشنگٹن میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ وہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کیلئے اسلام آباد میں نئی حکومت کیساتھ باہمی راستہ نکالنے کیلئے پُرامید ہیں۔ میری پہلی منزل پاکستان ہے جہاں اب ایک نیا حکمران ہے دونوں ممالک کے درمیان متعدد مشترکہ مسائل ہیں۔ تاہم امید ہے کہ نئی حکومت کیساتھ مل کر ان مسائل کا حل نکال سکتے ہیں اور انہیں حل کرنے کیلئے مشترکہ طور پر کام کا آغاز بھی کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے پاس مسائل کو حل کرنے کیلئے مواقع موجود ہوں گے۔ ایک صحافی نے انہیں باور کروایا کہ ان کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ نے پاکستان کی 30کروڑ ڈالر کی امداد روک دی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانیوں کیلئے خبر نہیں‘ پاکستانی حکام کو چند ماہ قبل ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ انہیں یہ رقم نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بحالی کیلئے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ پومپیو نے خواہش کا اظہار کیا کہ افغانستان میں ثالثی کیلئے پاکستان امریکہ کی مدد کرے۔ اگر پاکستان کا تعاون نہ ملا تو جو ہوگا وہ جنرل نکلسن اور جنرل ملر بتا چکے ہیں۔ مائیک پومپیو نے کہا کہ پاکستان نے اب تک دہشتگرد گروہوں کیخلاف اتنی کارروائی نہیں کی کہ اس کی منسوخ شدہ امریکی امداد بحال کی جاسکے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے مخصوص لب ولہجے میں جن امور کا اظہار کیا ان کو سمجھنا اور ان کے معنی نکالنا مشکل ہے لیکن امریکی عہدیداروں کا لب ولہجہ بڑا واضح اور ان کا پیغام صریح ہے۔ انہوں نے جس جس موقع پر بات کی ان کا لب ولہجہ دو ٹوک تھا جبکہ پاکستانی اکابرین سے جس لب ولہجے کی ان کے سابق بیانات کے تناظر میں توقع تھی اس کے بالکل برعکس کمزور اور اعتماد سے عاری تھا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ استدلال کسی طور مناسب نہیں کہ ملکی قیادت نے امریکہ سے لینے دینے کی بات نہ کی حالانکہ خود انہی کا مؤقف تھا کہ پاکستان امریکہ سے امداد کی بھیک نہیں مانگتا بلکہ دہشتگردی کیخلاف اتحادی کے طور پر اپنے پلے سے خرچ شدہ رقم کی ادائیگی چاہتا ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان نے ایک موقع کھو دیا۔ امریکہ سے دو ٹوک بات نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ ملک کی سیاسی وعسکری قیادت کے ایک صفحے پر نہ ہونے کا بتایا جاتا رہا اور اس پر تنقید بھی ہوتی رہی۔ اس مرتبہ خوش آئند امر یہ تھا کہ ملک کی سیاسی اور فوجی قیادت ایک ہی صفحہ پر تھی اور مل کر امریکی عہدیداروں سے مذاکرات کئے گئے مگر اس کے باوجود مذاکرات کا حاصل سامنے نہ آسکا۔ ہمارے تئیں امریکہ کو افغانستان میں قیام امن میں پاکستان کے کردار سے دلچسپی تھی تو اس کی ضرورتوں کو سمجھنے کا بیان وزیرخارجہ پہلے ہی دے چکے تھے۔ امریکہ کے تازہ دباؤ کا مقصد اسلام آباد کو طالبان پر دباؤ ڈال کر افغان حکومت کیساتھ معاملت کرنے پر راضی کرنا ہے۔ عجیب بات یہ کہ امریکہ خود تقریباً دو دہائیوں سے افغانستان میں عملاً موجود ہے مگر اس طویل عرصے میں نہ تو اسے طالبان کی سرکوبی کی منزل حاصل ہوسکی ہے اور نہ ہی امریکہ درون خانہ افغان طالبان سے اس قدر راہ ورسم بڑھا سکا کہ بیٹھ کر معاملت کی جائے۔ پاکستان کو افغانستان میں قیام امن کیلئے کردار ضرور ادا کرنا چاہئے لیکن پاکستان کے جو تحفظات اور مطالبات ہیں امریکہ کو ان ضرورتوں کا بھی احساس کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی قیادت کو معلوم ہونا چاہئے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ ایک جانب وہ دہشتگردی کیخلاف جنگ کے بقایاجات کی ادائیگی کو تیار نہیں تو دوسری جانب وہ پاکستان سے افغانستان میں قیام امن میں کردار ادا کرنے کا خواہاں ہیں جو اس صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب امریکہ اس ضمن میں یکطرفہ اور حکم دینے جیسے اقدام سے باز آئے اور پاکستان سے برابری اور عزت کیساتھ بات چیت کرے۔ اس معاملے کا بار بار مذاکرات اور سلسلہ جنبانی کے باوجود حل نہ نکلنے کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ امریکہ اپنی سناتا ہے اور دوسروں کی نہیں سنتا۔

متعلقہ خبریں