ناکام صوبائی احتساب کمیشن کا خاتمہ‘ نیب متحرک ہو

07 ستمبر 2018

خیبر پختونخوا میں چار سال قبل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی ہدایت پر کرپشن اور بدعنوانیوں کے خاتمے کیلئے قائم کردہ صوبائی احتساب کمیشن کا چار سال گزارنے کے بعد اپنے ہی تخلیق کاروں کے ہاتھوں انجام کو پہنچ جانا احتساب کے عمل کیلئے نیک شگون نہیں اور ایک ہی جماعت کی حکومت کا اپنے پیشرو حکومت سے لاحاصل سعی کو لپیٹ دینا احسن ہونے کیساتھ ساتھ ان کی ناکامیوں کا عملی اعتراف بھی ہے۔ احتساب کمیشن کو غیرفعال بنانے اور آخر میں اس کو ختم کرنے میں سابق صوبائی حکومت کی اہم شخصیات نے کردار ادا کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سابق دور حکومت میں جب کمیشن نے اعلیٰ سیاسی شخصیات کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے اقدامات اٹھانا شروع کئے تو اس وقت کی صوبائی حکومت نے کمیشن کے پر کاٹنا شروع کرکے اس کیلئے مسائل پیدا کرنا شروع کر دیئے تھے جس پر اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل احتساب کمیشن جنرل ریٹائرڈ حامد خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا بعدازاں کمیشن میں افسران اور احتساب کمشنرزکے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے کیخلاف الزامات پر مبنی خطوط وزیراعلیٰ کو لکھنے کی وجہ سے بھی کمیشن غیرفعال ہوا اور دو سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود کمیشن کے مستقل ڈائریکٹر جنرل کی تقرری نہیں ہو سکی۔ نئی حکومت کے اس اقدام کی تائید کرتے ہوئے ہم ان امور کی طرف ضرور توجہ دلانا چاہیں گے جس کے نتیجے میں صوبے میں احتساب کے اس ادارے کو کام کرنے نہیں دیا گیا۔ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ وہ کونسے عناصر تھے جو احتساب کمیشن کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔ اس صورتحال کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں موجودہ حکومت نے محکمہ انسداد رشوت ستانی کے غیرفعال اہلکاروں کو واپس ان کے محکموں میں بھیجنے کا اقدام بھی درست اُٹھایا ہے۔ حکومتی اقدامات کی مخالفت کئے بغیر ہم اس امر کی طرف ضرور توجہ مبذول کرانا چاہیں گے کہ صوبے میں شفاف احتساب کا عمل شروع کرنے میں تساہل کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی کو فعال بنانے اور محکمانہ طور پر شفافیت یقینی بنانے‘ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کی روک تھام کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی میں تبدیل ہونے والے اہلکاروں کی جگہ ایماندار اور فعال اہلکار تعینات کئے جائیں اور وزیراعلیٰ محکمے کی ذاتی سرپرستی کریں اور ان کو حاصل اختیارات کو بھرپور طور پر بروئے کار لانے کیلئے اعتماد دیا جائے تو بدعنوان عناصر ازخود محتاط ہو جائیں۔ اس طرح سے حکومت بدنامی سے بھی بچ سکتی ہے۔ صوبائی احتساب کمیشن کے خاتمے کے بعد صوبے میں نیب کو پوری طرح کام کرنے کا موقع مل گیا ہے جس کے بعد نیب خیبر پختونخوا کو متحرک نظر آنا چاہئے۔ جن مقدمات میں نیب مصلحت کا شکار تھی اب اس کا بھی کوئی جواز باقی نہ رہا۔

یکساں نظام تعلیم کے نفاذ کی سعی

تعلیم کے شعبے میں بہتری کیلئے بھی شفقت محمود کی سربراہی میں ٹاسک فورس کے قیام اور ماہرین کو شامل کئے جانے سے اُمید وابستہ نہ کرنے کی کوئی وجہ اس لئے نہیں کہ ٹاسک فورس کے سربراہ کو اس شعبے میں تجربہ بھی ہے اور وہ اس ضمن میں کچھ کرنے کی اہلیت اور عزم بھی رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود اس مشکل کام کو روبہ عمل لانے کی مشکلات کے باعث بے یقینی کا اظہار بھی خلاف حقیقت امر نہ ہوگا۔ بہرحال یہ ٹاسک فورس مدارس کے بچوں کیلئے بھی اقدامات کرے گی، ملک بھر میں تمام مدارس اور اسکولوں کیلئے یکساں بنیادی نصاب تعلیم کو نافذ کیا جائے گا۔ سکولوں میں مختلف قسم کے نظام تعلیم چل رہے ہیں، کہیں او لیول ہے تو کہیں میٹرک سسٹم جبکہ مدارس کا بھی اپنا نظام چل رہا ہے، یہ تمام سرٹیفکیٹس ختم کرکے پورے پاکستان میں ایک ہی سکول سرٹیفکیٹ سسٹم نافذ کیا جائے گا، مختلف طرح کے نظام تعلیم کی وجہ سے معاشرے میں کئی طبقات بن گئے ہیں ان کو ختم کرنا ضروری ہے۔ تعلیم کا شعبہ جس قسم کی مافیا کے ہتھے چڑھا ہوا ہے اس کے تناظر میں تو اس امر کا یقین نہیں کہ اس ٹاسک فورس کی سفارشات کو عملی شکل مل پائے گی لیکن اگر حکومت پُرعزم ہو اور دباؤ میں نہ آئے تو اس دیرینہ خواب کی تعبیر ناممکن نہیں۔ جہاں تک صوبائی حکومتوں کا نجی سکولوں کی فیسوں کو مناسب سطح پر لانے کے نکتے کا سوال ہے ہمارے تین صوبائی حکومتوں کے پاس اتنا مؤثر اور مضبوط قوت نافذہ نہیں۔ خیبر پختونخوا میں نجی سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔ فیسوں کے حوالے سے ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی مؤثر نہ ہو پایا اور اب معاملہ سپریم کورٹ سے واپس ہائیکورٹ کے پاس اس حکمنامے کیساتھ آیا ہے کہ فیسوں کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل ہے باقی معاملہ ہائیکورٹ دیکھے۔ جہاں اس قسم کے فیصلے صادر ہو رہے ہوں وہاں حکومت کا خواب اور دیوانے کی بڑ میں زیادہ فرق نہ ہونے کا تاثر غلط نہ ہوگا۔ اس کے باوجود ہم یہ حسن ظن رکھتے ہیں کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں ایسے اقدامات یقینی بنائے گی کہ اگر امیر وغریب کا فرق مٹ نہ گیا تو کم ضرور ہوگا اور یکساں تعلیمی نظام کے نفاذ سے مواقع میں بھی یکسانیت آئے گی۔

مزیدخبریں