Daily Mashriq


امریکی وزیر خارجہ کا دورۂ اسلام آباد

امریکی وزیر خارجہ کا دورۂ اسلام آباد

پاکستان میں نئی حکومت بننے کے فوراً بعد امریکی وزیر خارجہ کے دورۂ اسلام آباد کو بجا طور پر اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان میں اس دورے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی ہوئے۔ عسکری قیادت اور نئی سویلین حکومت کے آٹھ گھنٹے طویل مذاکرات بھی ہوئے اور کہا جاتا ہے کہ کوئی متفقہ مؤقف بھی واضح ہوا۔ اس سے پہلے بھی پاکستان کی طرف سے بارہا یہ کہا جاتا رہا تھا کہ ڈومور اب نہیں ہو گا۔ امریکی وزیر خارجہ کے دورے سے پہلے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف بھی پاکستان آئے جس کے ساتھ امریکہ کے صدر ٹرمپ کا حالیہ سخت گیر رویہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس کے باوجود کہ خارجہ تعلقات سٹریٹجک حقائق اور باہمی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں یہ تاثر قائم ہوتا ہوا نظرآتاتھا کہ نئے پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی تشکیل پا رہی ہے جس میں امریکہ کو وہ مؤثر حیثیت حاصل نہیں ہو گی جو سالہا سال تک رہی ہے۔ ماضی قریب میں امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا جو وتیرہ اختیار کیا ہے اس کے بارے میں پاکستان کے عوام میں امریکہ نامقبول ہوتا گیا ہے ۔ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے ڈو مور کا تقاضا ‘ دوسری طرف کولیشن سپورٹ فنڈ کے تین سو ملین ڈالرکی ادائیگی کو روکنا ‘تیسری طرف آئی ایم ایف کو یہ تنبیہہ جاری کرنا کہ پاکستان کی کوئی ایسی امداد نہ کی جائے جس کے باعث امریکی ڈالر چین کے قرضے واپس ہونے میں استعمال ہو سکیں۔ ان اقدامات کا مقصد واضح طور پر یہ تھا کہ پاکستان کی معاشی مسائل سے دوچار نئی حکومت کو دباؤ میں لا کر امریکہ سے ڈکٹیشن لینے پر مجبور کیا جائے لیکن پاکستانی عوام ‘ حکومت اور اپوزیشن کو بھی یہ پوزیشن منظور نہیں جس کا مختلف طریقوں سے پاکستان میں جو ردِعمل ظاہر ہوا اس سے واضح اظہار ہوتا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ اور پاکستانی قیادت دونوں کے لیے یہ دورہ بہت اہمیت کا حامل تھا۔ امریکی وزیر خارجہ کے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ ان کے دورے سے پاکستان اور امریکہ میں دوری اتنی بڑھ جائے جو امریکہ کے مفاد میں نہ ہو۔ اس خطے کے جغرافیہ میں پاکستان کی ایک خصوصی اہمیت ہے۔ حالیہ اقتصادی مشکلات کے باوجود پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے جو ایٹمی قوت بھی ہے اور جس کی فوج آج دنیا کی سب سے تجربہ کار فوج ہے۔ امریکہ کا بڑا مقصد افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنے کے لیے طالبان کا اثرورسوخ کم کرنا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے قدیمی لسانی‘ مذہبی اور ثقافتی ورثوں کے باعث افغان عوام میںپاکستانیوں کو جس اپنائیت سے دیکھا جاتا ہے یہ حیثیت دیگر ہمسایہ ممالک کو حاصل نہیں۔ امریکہ کے مفاد میں یہ نہیں ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں ایک دوسرے کے بارے میں جو تحفظات نمودار ہو چکے تھے انہیں وہ فاصلوں میں بدل دے۔ یہ تحفظات دونوں طرف سے تھے۔ ڈومور سے امریکہ کی مراد اگر یہ سمجھی جائے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کے خلاف کوئی عسکری کارروائی کرے تو یہ نہیں ہو سکتا کیوں کہ کوئی قانون ‘ کوئی اخلاق کسی دوسرے ملک میں فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر اس سے مراد افغانستان کے اس الزام کی تائید ہے کہ پاکستان سے جا کر دہشت گرد افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں تو اس کے لیے پاکستان سرحد کی مشترکہ نگرانی کی تجویز بھی پیش کر چکا ہے اور سرحد کی باڑ ھ بندی پر بھی پیش رفت کر چکا ہے۔ پاکستان کی یہ شکایت اس پر مستزاد ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد حملہ آور ہوتے ہیں۔اور افغان حکمران اپنی سرزمین پر پاکستان مخالف عناصر کی موجودگی کا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔

یہ سب باتیں تاریخی حقائق ہیں اس تناظر میں امریکی وزیر خارجہ کا دورہ کامقصد ان متفق علیہ امور کو اجاگر کرنا تھا جن کی تعداد کم نہیں ہے۔ ڈو مور کے تقاضے کی بجائے امریکی وزیر خارجہ کا یہ کہنا کہ وقت آ گیا ہے کہ امریکہ اور پاکستان مشترکہ امور کے حوالے سے ڈیلور کریں اسی بات کی توثیق ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اور ایک دوسرے سے توقعات کے بارے میں نئے امکانات تلاش کیے جائیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران انہیں ملاقات کی دعوت بھی دی ہے جو انہوں نے قبول کر لی۔ اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے امکانات کی تلاش کی جو شروعات کی گئی ہیں ان کے حوالے سے اگلا دور واشنگٹن میں ہو گا۔ اس سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نئے امکانات کے بارے میں واضح پیغام لے کر جائیں گے۔ جہاں تک ان کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے تو یہ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے اور پاکستان اپنی دنیا بھر میں تسلیم شدہ صلاحیت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کر رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ اس کے بعد نئی دہلی روانہ ہو گئے ہیں جہاں ان کے ساتھ وزیر دفاع میٹس بھی ہوں گے اور یہ وفد بھارت کی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع سے مذاکرات کرے گا۔ ان مذاکرات کا موضوع بھارت اور روس کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات ہوں گے۔ بھارت نے حال ہی میں روس کے ساتھ آٹھ ہزار کروڑ روپے کے میزائل سسٹم کی خریداری کا سودا کیا ہے۔ امریکہ کو اس سودے پر اور بھارت کے روس پر دفاعی انحصار پر تشویش ہے۔ امریکہ اور بھارت کے دو جمع دو مذاکرات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ‘ کیا امریکہ بھارت کو بحرالکاہل بلکہ دنیا کی بڑی طاقت بنانے کے وعدوں کی بنا پر روس سے اس کے دفاعی تعلقات میں کمی لا سکے گا ‘ یہ سوال اہم ہے۔ امریکی وزراء بھارت میں مذاکرات کے کیا نتائج اخذ کر کے جاتے ہیں ‘ خطے میں امریکی رویہ پر اس کے اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

متعلقہ خبریں