یوم فضائیہ

07 ستمبر 2018

1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ہم گورنمنٹ ہائی سکول نمبر2 پشاور میں آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے لیکن پاک بھارت جنگ کے دوران ہم نے اپنے اساتذہ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کتابیں کاپیاں طاق پر رکھ دیں اور جہاں شہری دفاع تنظیم کے باوردی رضاکار بنکر اس جنگ میں حصہ لینے لگے وہاں اپنے ہم مکتبوں کیساتھ مل کر پاک بھارت جنگ کے متاثرین کیلئے گھر گھر اور دکان دکان پھر کر چندہ اکٹھا کرنے میں مگن ہوگئے۔ ہم میں سے بہتوں نے ایک ٹیڈی پیسہ میں ایک ٹینک روز کے حساب سے خرید کر افواج پاکستان کے حوالے کرنے کے عزم کو جوان رکھا۔ سترہ روزہ پاک بھارت جنگ کے دوران ہم نے جہاں بہت سا چندہ جمع کرکے اپنی اسکول انتظامیہ کے حوالے کیا وہاں ہم نے اپنے محلے کے رہائشیوں سے بلیک آؤٹ کی پابندی کرانے میں کسی قسم کی رعایت نہ برتی۔ جہاں کہیں روشنی کی ایک آدھ رمق دکھائی دیتی وہاں ہم اپنی رٹ قائم کرنے پہنچ جاتے اور اہالیان محلہ سے بلیک آؤٹ کی پابندی کروانے کی کوشش کرتے ہوئے ان کے دروازوں پر دستک دیتے۔ ماچس کی ایک تیلی جلانے کی گنجائش نہیں تھی۔ جس کی رمق پاکر دشمن کے طیارے خاکم بدہن ہمارے شہروں کو ملبے کے ڈھیر بنا سکتے تھے۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ دشمن کے طیاروں کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے پاک وطن کی فضاؤں میں ہمہ وقت چوکس چوبند رہنے والے پاک وطن کے شاہین محو پرواز ہیں اور وہ ہر اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں۔ اسے دشمن کی بدنیتی سے تعبیر کیجئے حماقت کہئے یا اس کی شومئی قسمت جو وہ65 کی جنگ میں ہماری آزادی کا دشمن بن کر ہماری قوت ایمانی کو للکار بیٹھا اور پھر اس نے دیکھ لیا کہ ساری پاکستانی قوم نہ صرف بیدار ہے بلکہ اس قوم کا بچہ بچہ سیسہ پلائی دیوار بن کر باطل قوتوں کا مقابلہ کرنا جانتا ہے۔ کل چھ ستمبر کو ہم یوم دفاع پاکستان ملی جوش اور جذبے سے منا رہے تھے اور آج7ستمبرکا دن پاک فضائیہ کے کارناموں کو یاد کرنے اور پاکستان کی فضائی افواج کے شہیدوں اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ویسے تو پاک وطن کی فضائی فوج نے6ستمبر ہی کو پاکستان کی بری اور بحری افواج کے شانہ بشانہ لڑ کر دشمن کو ناکوں چنے چبوا دئیے تھے اور پٹھان کوٹ‘ آدم پور اور ہلواڑہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے‘ دشمن کے22طیارے اور متعدد ٹینک‘ بھاری توپیں اور دوسرا اسلحہ تباہ کر دیا تھا لیکن آج یعنی جنگ کے اگلے روز7ستمبر1965ء کو تو پاک فضائیہ نے ثابت کر دیا تھا کہ یہ دن پاک فضائیہ کے لئے فتح وکامرانی کا دن بن کر طلوع ہوا ہے۔ 7ستمبر کو دشمن کے طیاروں نے سرگودھا ایئرپورٹ پر حملہ کیا جس کی پاک فضائیہ کی طرف سے جوابی کارروائی نے انہیں دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران دشمن کے متعدد طیارے شاہینوں کے نشانے پر آکر اپنے انجام کو پہنچے۔ بات دشمن کے الٹے پاؤں بھاگنے پر ختم نہیں ہوئی، آنے والے لمحات نے اس بات کی گواہی دی کہ پاک فضائیہ نے دشمن کے ہوائی اڈوں پر جوابی حملہ کرکے لدھیانہ‘ جالندھر‘ بمبئی اور کلکتہ کے ہوائی اڈوں پر موجود دشمن کے 31طیارے تباہ کر دئیے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کیخلاف اپنی کارروائی6ستمبر کو شام5بجے کے بعد شروع کی تھی اور 7ستمبر کو شام5بجے سے پہلے وہ دشمن کے53طیارے تباہ کرکے اس کیخلاف ناقابل شکست فضائی برتری ثابت کر چکی تھی۔1965 کی پاک بھارت جنگ پر تبصرہ کرنے والے گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان کے دشمنوں نے اس ملک اور قوم کیخلاف جنگ کا آغاز6ستمبر کو لاہور کے قصبے باٹا پور پر کئے جانے والے فضائی حملے سے کیا تھا جبکہ یہ جنگ افواج پاک فضائیہ نے اپنی قوت ایمانی کے طفیل7ستمبر ہی کو جیت لی تھی اور ثابت کر دیا تھا کہ

صحرا است کہ دریا است

تہ بال و پر ماست

شہری دفاع کے قومی رضاکار کی حیثیت سے ان دنوں ہم نے اپنے شہروں اور دیہاتوں میں جگہ جگہ خندقیں کود رکھی تھیں تاکہ دشمن کی فضائیہ کے حملہ آور ہوتے ہی ان خندقوں میں پناہ لی جائے لیکن ہمیں یاد نہیں پڑتا ان خندقوں یا کھائیوں میں کسی فضائی حملے کے دوران چھپنے یا اپنی جان بچانے کی نوبت آئی ہو۔ جن لوگوں کے دلوں پر جنگ کا خوف طاری تھا وہ پہلے ہی سینکڑوں کی تعداد میں جتھوں کے جتھوں کی صورت اپنا بوریا سمیٹے شہر سے نکل رہے تھے۔ مگر بقول کسے

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

کے مصداق جس کی جہاں موت لکھی تھی وہیں وہ ملک الموت کے ہاتھوں دبوچ لیا گیا۔ ایسا ہی ایک واقعہ پشاور کے نواحی بستی نوی کلی میں پیش آیا۔ جہاں لاہور سے جنگ کے خوف سے نقل مکانی کرکے آنے والی ایک فیملی نے قیام کیا لیکن دوسری ہی شب بھارتی فضائیہ جب پشاور کے ہوائی اڈے پر حملہ آور ہوئی تو پاک فضائیہ کے شاہینوں کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں بھاگتے ہوئے وہ اپنے بم نوی کلی کے اس مکان پر پھینک گئی جہاں جنگ کے خوف سے مقیم لاہوری فیملی لقمہ اجل بن گئی۔ ہم پشاور کی گلیوں میں قومی رضاکار کی وردی پہنے ڈیوٹی کر رہے تھے اور اپنی آنکھوں سے دشمن کے جہازوں کو پاک فضائیہ کے غیظ وغضب کا نشانہ بن کر گرتا دیکھ رہے تھے۔ آج یوم فضائیہ ہے اور ہماری زندگی کی چڑھتی جوانی چشم دید گواہیاں اقبال کے شاہینوں کو دست بستہ سلام پیش کرتی ہیں۔

مزیدخبریں