یہ دن آسان نہیں ہوںگے

07 ستمبر 2018

یہ دن آسان نہیں ہوںگے۔ ان دنوں میں لوگوں کی اُمیدیں بار بار ٹوٹیں گی، بار بار ان کا دل چاہے گا کہ اپنے انگوٹھوں پر اب مٹ چکے نشان دوبارہ مٹا دیں جو گواہ ہیں کہ انہوں نے انہی کو ووٹ دیئے تھے۔ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے حامی جب مضحکہ اڑائیں گے تو ان کے دل اور بھی جلیں گے لیکن یہ یاد بھی رکھنے کی ضرورت ہے کہ ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں، یہ شروعات ہے۔ حکومتوں کو اپنے اپنے لبادوں میں پرسکون ہونے میں وقت لگتا ہے۔ جب تک وہ آرام سے نہیں بیٹھتیں اور اپنی اپنی ٹیم کا انتخاب نہیں کر لیتیں اس وقت تک معاملات میں کوئی تبدیلی خواہ وہ بہتری کی طرف ہو یا کہتری کی طرف دکھائی دینی شروع نہیں ہوتی۔ میں تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت نہیں کر رہی لیکن میں یہ سمجھتی ہوں کہ ابھی کچھ دن لگیں گے اور انہیں اپنے قدم جمانے کیلئے یہ دن دیئے جانے چاہئے۔ انگلیوں پر جن دنوں کی گنتی ہو سکے، ان دنوں میں کوئی بھی جماعت خواہ اس میں کتنی ہی صلاحیتیں کیوں نہ ہوں، اپنی کارکردگی نہیں دکھا سکتی۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ معاملات کو سمجھ سکیں، تجزیہ کرسکیں اور پھر صورتحال کی روشنی میں فیصلے کئے جا سکیں لیکن ان سب باتوں کیساتھ ساتھ کچھ اور باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ یہ ضروری ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی کابینہ، اپنی ٹیم کو اس بات کی ہدایت کریں کہ وہ ہوشیار رہیں، صرف باتوں کا اعلان کر دینے سے، رویئے بدل نہیں جایا کرتے۔ بیوروکریسی کو ایک طریقے سے کام کرنے کی عادت ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ لوگ صرف گزشتہ حکومت کے وفادار ہی ہوں، وہ عادت سے مجبور بھی ہو سکتے ہیں۔ انہیں ایک مخصوص پروٹوکول دینے کی عادت ہے۔ سیاستدانوں کی حفاظت کی عادت ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ان کے علاقے میں کسی سیاستدان کو کوئی نقصان پہنچ گیا تو اس کی ذمہ داری تو بہرحال ان کی ہے۔ سو وہ ساری باتوں کو بھول کر ان سیاستدانوں کو پروٹوکول دیتے ہیں تاکہ کسی حادثے سے بچا جا سکے۔ پھر بیوروکریسی کی سوچ کا اپنا ایک انداز ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں میں بیوروکریسی نے اپنے سیاسی آقاؤں کو اسی طرح خوش کیا ہے اور یہ لوگ بھی مختلف نہیں ہیں۔ عمران خان ایک آدمی ہے جن کی سوچ کا علم تھامے یہ بیچارے سیاستدان چل تو رہے ہیں لیکن ان میں سے کئی ماضی میں اس پروٹوکول کے عادی بھی رہے ہیں اور اس سے خوش بھی رہتے تھے۔ ان لوگوں کو نہ صرف اب حاضر دماغ ہونے کی ضرورت ہے بلکہ یہ حساب کتاب بھی کر لینا چاہئے کہ پروٹوکول کے مزے لوٹنے کے وہ کتنی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ اگر وہ اسی طرح کی حرکات جاری رکھیں گے تو میڈیا ان کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے، لوگ بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہ باتیں ان کے اگلے انتخاب میں کامیابی کی راہ میں حائل ہوجائیںگی۔ اب لوگوں کا شعور بہت بڑھ چکا ہے اور انہیں اپنی پسند کے اظہار کا سلیقہ بھی آگیا ہے اور یقیناً اپنی طاقت کا اندازہ بھی ہو رہا ہوگا، سو یہ باتیں اپنے منفی اثرات مرتب کریںگی۔ عثمان بزدار کے سیاسی پروٹوکول کے چرچے اور پھر پاک پتن کا دورہ اس بات کا غماز رہا کہ وہ اپنے حوالے سے ایک خاص قسم کا اشارہ دینا چاہتے تھے۔ اب وہ اشارہ ان کی ٹیم کے کپتان کو موصول ہوا یا نہیں۔ میڈیا نے، خاص طور پر پی ٹی آئی مخالف میڈیا نے اچھا کیش کیا۔ صورتحال بہتری سے پہلے ہی بدتری کی جانب قدم بڑھاتی محسوس ہوئی۔ بات ابھی تک فضا میں تھی اور عمران اسماعیل کے کوئٹہ میں پروٹوکول نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔ وہی عمران اسماعیل جن کے کراچی ایئرپورٹ پر مثالی کردار کو ایک گھنٹہ تک سراہا جا رہا تھا کہ وہ عام آدمی کی طرح، بورڈنگ پاس کے حصول کیلئے لائن میں لگے، عام آدمی کی طرح جہاز پر سوارہوئے، انہیں کوئٹہ میں ایسا مثالی پروٹوکول دیا گیا کہ ہر طرف شور مچ گیا۔ وہ لوگ جنہوں نے بڑی خوشی خوشی تبدیلی کو ووٹ ڈالا تھا، ان کا وہ مذاق بنا کہ الاماں الحفیظ۔ دراصل اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت کو بہت سوچ سمجھ کر چلنے اور قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ حکومت سے محبت کرنے والے لوگ بھی بے شمار ہیں اور بیوروکریسی میں بھی ان خاموش چاہنے والوں کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ ان لوگوں کی بھی کوشش یہی ہوگی کہ موجودہ حکومت کی تبدیلی محض ظاہری دکھائی دے۔ اس کیلئے وہ اس خاموشی سے کام کریںگے کہ یہ نوآموز حکومت اسے پوری طرح سمجھ ہی نہ پائے گی۔ اس حکومت کو بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ اپنی نوآموزی کے گڑھے میں گر جائیںگے۔ یہ دن آسان نہیں ہوں گے۔ لوگوں کی اُمیدیں ٹوٹیں گی تو وہ بہت شور کریںگے۔

مزیدخبریں