Daily Mashriq


وعدہ فردا فکر فردا

وعدہ فردا فکر فردا

چرچا تو بہت تھا امریکی وزیر خارجہ کا، ان کی آمد سے قبل وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف میں لگاتار کئی میٹنگز ہوئیں، امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو پانچ گھنٹے پاکستان میں گزار کر بھارت یاترا کو پدھار گئے، پوری قوم کے کان اور نظریں ان کی آمد پر لگی ہوئی تھیں کیونکہ نائن الیون کے واقعہ کے بعد سے پاکستان جس صورتحال سے دوچار ہے اس کا ذمہ دار امریکا ہے، اب یہ تجسس تھا کہ امریکی وزیرخارجہ کیا گل کھلا کر جاتے ہیں، پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے تو کہہ دیا تھا کہ پاکستان اور امریکا ایک دوسرے کی ضرورت ہیں اس لئے توقع یہ ہی کی جا رہی تھی کہ ان کی آمد پاکستان کیلئے قدوم میمنت لزوم تو شاید ثابت نہ ہو مگر جس انداز میں اس نے ایران، ترکی اور شمالی کوریا کیساتھ پیچ ڈال رکھا ہے اسی انداز میں کہیں پاکستان کیساتھ بھی نہ کھیلے کیونکہ پاکستان آمد سے پہلے پومپیو نے ایسا ہی کچھ کہا تھا کہ اگر پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف مؤثر کارروائی نہ کی تو اس کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم پاکستان کیخلاف پابندی کا عمل تو اس نے تعاون کی تیس کروڑ ڈالر کی رقم روک کر پہلے سے شروعات کر رکھی ہے جس کے بارے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا فرمانا ہے کہ وہ ان کے دور حکومت میں نہیں روکے گئے سابقہ حکومت کے دور میں رکے ہیں، پاکستان میں امریکی وزیرخارجہ اور پاکستان کے وزیرخارجہ کے مابین جو بات چیت ہوئی اس بارے میں ابھی مکمل تفصیل نہیں آئی ہے تاہم وزیرخارجہ پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکا سے بات چیت مثبت رہی ہے اور ملاقات میں ڈومور کے بجائے آگے بڑھنے کے جذبے کا ماحول تھا۔ اب آگے بڑھنے کے جذبے کو ڈومور نہیں کہا جاتا تو اس امر کی تشریح بھی شاہ محمود قریشی کر دیتے کہ سفارتی زبان میں آگے بڑھنے کے جذبے اور ڈومور کے معنی میں کیا فرق ہے، ان کا یہ کہنا بھی ہے کہ پاک امریکا تعلقات میں سردمہری تھی، گویا اب گرمجوشی کا آغاز ہوجائے گا، ویسے شاہ محمود قریشی نے فرما دیا ہے کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں جو تعطل تھا وہ ٹوٹ گیا ہے یعنی تعلق وہیں سے جڑ گیا جہاں سے منقطع ہوا تھا۔ پیسوں کی لین دین کے بارے میں شاہ صاحب نے بتایا کہ اس موضوع پر کوئی بات نہیںہوئی کیونکہ امریکا کو بتا دیا گیا ہے کہ اپنی قوم کو عزت کی روٹی کھلا سکتے ہیں۔پاکستان کی سابق حکومت نے بھی امریکا کو ڈومور کے جواب میں یہ ہی باتیں کر دی تھیں اور صاف بول دیا تھا کہ پاکستان کو امداد نہیں چاہئے بلکہ احترام چاہئے، اگر اسی بنیاد پر وزیرخارجہ نے بات آگے بڑھائی ہے توآفرین، چنانچہ پاکستانی وزیرخارجہ کا یہ مؤقف درست ہے کہ معاملات دوطرفہ طریقے سے حل کئے جا سکتے ہیں، پاکستان بنیادی طور پر امریکا کا حلیف اور مونس ہے مگر ان کے درمیان گزشتہ ستر سال سے کبھی بھی تعلقات ایک جیسے نہیں رہے، ان میں نشیب وفراز آتے رہے ہیں بلکہ یوںکہنا چاہئے کہ نشیب بہت آئے ہیں فرازی بمشکل ہی آئی ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے کبھی بھی تعلقات میں پاکستان جیسے دوست ملک کی ضروریات کو نہ دیکھا بلکہ اپنے مفاد کو حرزجان بنائے رکھا، دونوں ملکوں میں نشیب وفراز کی بنیاد بھی امر یکا کی پالیسی رہی ہے۔

شاہ محمود قریشی وزیرخارجہ پاکستان کا یہ کہنا کہ امریکا سے کہہ دیا ہے کہ الزاما ت لگانے سے کچھ حاصل نہیںہوگا، انہوں نے بتایا کہ امریکا نے اپنی پالیسیوں کا جائزہ لیا ہے ہم بھی اپنی پالیسوںکا جائزہ لیں گے، یہاں یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے گا کیا پاکستان نے اب تک اپنی پالیسیوں کا جائزہ نہیں لیا ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کسی اہم ترین غیرملکی مہمان کی آمد پر بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر کوئی چھیڑ چھاڑ نہیںکی گئی ورنہ ہر مرتبہ بھارت، کی جانب سے کنٹرول لائن پر پاکستان کو بدنام کرنے کی غرض سے بارود کی گھن گرج کی جاتی تھی، امریکا کو چاہئے کہ وہ پاکستان کی مشرقی سرحدوں کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ پاکستان امریکی مفاد کی غرض سے اپنی مغربی سرحدوں کی ہی جانب توجہ دے اور اپنی مشرقی سرحدوں کو بے یار ومددگار چھوڑ دے۔ادھر امریکا نے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھنے سے پہلے افغان نژاد زلمے خلیل زاد کو افغانستان کے لئے اپنا مشیر مقرر کر دیا ہے، اس کی تقرری کا اعلان پاکستان کی طرف اڑان بھرنے کے دوران جہاز میں کیا، بعد میں پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھا، زلمے خلیل زاد وہ شخص ہے جس سے افغانستان کے عوام بالخصوص طالبان اور مجاہد تنظیمیں سخت نفرت کرتی ہیں، زلمے خلیل زاد نے نائن الیون کے واقعہ کے پس منظر میں اپنے ملک افغانستان پر امریکا کو حملہ کرنے کی غرض سے بش انتظامیہ کی مدد کی تھی، جس کے صلے میں امریکا نے افغانستان میں اپنا تسلط جمانے کے بعد سب سے پہلے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کو مقرر کیا تھا، زلمے خلیل زاد کے دور سفارت کے دوران امریکا نے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی، پھر ایسے شخص کو افغان امور کے لئے مشیر لگا دیا گیا ہے جس سے امریکا کیخلاف متحرک عناصر نفرت کرتے ہیں۔ ان حالات میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ امریکا افغانستان میں امن کے قیام کے لئے سنجیدہ ہے۔ ایک طرف وہ زلمے خلیل زاد جس کے دور میں بھارت کو افغانستان میں واک اوور حاصل ہوا کہ جگہ جگہ بھارت گھس بیٹھا ہے اور دوسری جانب پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ اگر امریکا افغانستان میں قیام امن کے لئے سنجیدہ ہے تو اس کو بھارت کو ترجیح دینے کی بجائے پاکستان کو ترجیح دینا ہوگی اور اسی کے صلاح ومشورے کو اہمیت دینا ہوگی۔ بھارت نہ پہلے اس پوزیشن میں تھا کہ افغانستان کے معاملے میںکوئی کردار ادا کرے اور نہ گھس بیٹھنے کے بعد اس کو کوئی حیثیت حاصل ہوئی اور نہ آئندہ کوئی امکان ہے۔

متعلقہ خبریں