جنگ ستمبر میں پاک فضائیہ کے کارناموں کی مختصر روداد

07 ستمبر 2018

گزشتہ روز کے کالم میں پاک افواج کے لازوال کارناموں کی ایک مختصر سی روداد اور ملک وقوم کے جذبے کی تصویرکشی کرتے ہوئے ہم نے اس دور کی یادوں کو تازہ کیا تھا چونکہ آج یعنی 7ستمبرکو یوم فضائیہ ہے اس لئے آج کی تحریر کو ہم زیادہ تر اپنی فضائیہ کے کارناموں تک محدود رکھنے کی کوشش کریں گے۔ 1965ء کی جنگ میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ایک ایسا کردار ادا کیا جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا ، جب پاک فوج نے اپنی فضائیہ کو مدد کیلئے پکارا تو یکم ستمبر کو ایئرکموڈور ظفر مسعود کی قیادت میں سرگودھا ایئر بیس کے شاہینوں نے اس پکار پر لبیک کہتے ہوئے اپنی افواج کی مدد کی جبکہ اسی روز تاریخ رقم کرتے ہوئے رفیقی اور امتیاز بھٹی نے سیالکوٹ کے محاذ پر دشمن کی بڑی فوج پر کاری ضرب لگائی اور دشمن کی مدد کیلئے آنے والے چار Vampireطیاروں کو تباہ کر دیا۔2اور3ستمبرکو بھی پاک فضائیہ کے شاہین اپنی بری (زمینی) فوج کی مدد کیلئے سیالکوٹ، اکھنور اور چھمب جوڑیاں کے محاذ پر دشمن کی افواج پر بجلی کی مانند کوندے، کہیں ایم ایم عالم، آفتاب یوسف اورسیل چوہدری نے مکار دشمن کی فوجوں کو نیست ونابود کرتے ہوئے اس کی توپوں کو خاموش کیا تو کہیں یونس، منیر اور علاؤالدین جیسے جانبازوں نے اکھنور سیکٹر کے محاذ پرلاتعداد ٹینکوں کو تباہ کر دیا۔ 4اور5ستمبر کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ایک بار پھر چھمب جوڑیاں کے محاذ پر لپک کر دشمن کی بری افواج کی صفوں کو تہس نہس کر دیا اور بالآخر5ستمبر کی شام قوم کو جوڑیاں کی فتح کی خوشخبری سنا دی گئی، دشمن اس شکست کو کہاں ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے والا تھا، اس نے 6ستمبر کو باقاعدہ جنگ کا آغاز کر دیا اور اس کی افواج نے جب لاہورکی جانب پیش قدمی شروع کی تو پاک فضائیہ کے شاہین اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئے، ہمارے مایہ ناز ہواباز سجاد حیدر نے ارشد چودھری، دلاور، امان اللہ، سلیم اور اکبر پر مشتمل ایک جری ٹیم کیساتھ دشمن کی پیش قدمی کو روکتے ہوئے اس کی ٹینکوں، ٹرکوں اور توپوں کو تہس نہس کرکے لاہور پر اس کے قبضے کے خواب کو چکنا چور کر دیا، 6ستمبر ہی کی شام کو سجاد حیدر کے 19سکواڈرن نے ایک ایسا کارنامہ کر دکھایا جس پر دنیا آج بھی انگشت بہ دنداں ہے، ان کی قیادت میں اکبر، مظہرعباس، دلاور، غنی اکبر، ارشد چودھری، خالدلطیف، عباس خٹک، ارشد سمیع اور تواب نے پٹھان کوٹ اڈے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور گراؤنڈ پر موجود کھڑے دشمن کے 13جہاز جن میں جدید مگ21 بھی شامل تھے نیست ونابود کر کے اس کی کمر توڑ کر رکھ دی۔7ستمبر کی دوپہر کو پاک فضائیہ کے مایہ ناز ہواباز شبیر حسین کی قیادت میں حلیم، بصیر، طارق، حبیب اور افضل خان نے مشرقی پاکستان کے محاذ کو گرما دیا، ان کی انڈر فارمشین نے دشمن کے دورافتادہ کلائی کنڈہ بیس میں گھس کر زمین پر کھڑے دشمن کے کینیرا14بمبار طیارے تباہ کر دیئے اور اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کو یہ پیغام دیا کہ پاک فضائیہ جہاں اور جس وقت چاہے اس پر کاری ضرب لگا سکتی ہے، 7ستمبر ہی کو فضائی جنگوں کی تاریخ میں یادگار حیثیت رکھنے والا وہ عظیم الشان کارنامہ وقوع پذیر ہوا جب سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم نے پانچ بھارتی جنگی جہازوں کو مار گرایا جن میں سے 4جہاز صرف 30سیکنڈ میں شکار ہو کر بکھر گئے، فضائی جنگوں میں یہ ایک عالمی ریکارڈ ہے جبکہ مجموعی طور پر انہوں نے 9بھارتی طیارے شکار کئے۔6اور 7ستمبر کی فتوحات نے پاک فضائیہ کو جہاں قوم کے سامنے سرخرو کیا، وہیں اس نے دنیا بھر میں اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ فضائیہ کی ان کامیابیوں اور کامرانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسی شام صدر مملکت جنرل ایوب خان نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئرمارشل نورخان کو ایک پیغام میں پاک فضائیہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا۔ ’’میں آپ اور آپ کے جملہ افسران اور دیگر عملے کو اس شاندار کارکردگی پر مبارکباد دیتا ہوں، جنہوں نے نہ صرف زمین پر کھڑے بلکہ فضائی حملوں میں شامل دشمن کے لاتعداد طیاروں کو نیست ونابود کر دیا، 11ستمبر کی صبح پاک فضائیہ کے نڈر، بہادر اور جیالے افسران کی قربانیوں سے آغاز ہوا۔ امرتسر ہوائی اڈے کی راڈار جو پے درپے حملوں کے باوجود تباہ نہیں ہو سکا تھا، منیرالدین جیسے جانباز کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ انہوں نے اس راڈار کو تباہ کرنے کا بیٹرا اُٹھایا اور انور شمیم کی قیادت میں اس ہدف کو نشانہ بنانے کیلئے آگے بڑھنا شروع کر دیا۔ جب وہ اپنے ہدف کی جانب لپکے تو دشمن کی تمام توپوں کا رخ منیر کی طرف تھا مگر جس پر شہادت کا جذبہ سوار ہو اسے کون روک سکتا ہے، منیر تمام خطرات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے راڈار کو تباہ کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اسی دوران جام شہادت نوش کیا، 13ستمبر کو بھارتی افواج کو کمک پہنچانے کیلئے ریل گاڑی کا ایک بہت بڑا کارواں گرداس پور سے روانہ ہوا، پاک فضائیہ کے شاہین علاؤالدین، امان اللہ، ارشد اور سلیم کو گولہ بارود اور اسلحے سے لدی ہوئی اس ریل گاڑی کو تباہ کرنے کا ٹاسک سونپا گیا، انہوں نے اس گاڑی پر کئی حملے کئے اور اسے بھک سے اڑا دیا جبکہ اسی مشن میں علاؤالدین کا جہاز تباہ ہوتی ہوئی گاڑی کے شعلوں کا نشانہ بنا اور انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔ یہ تھی وہ مختصر سی روداد جو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنے خون سے لکھی۔ قوم کو ان پر ہمیشہ فخر رہے گا۔

مزیدخبریں