Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

عبید بن عمیرؒ سے منقول ہے کہ حضرت ابراہیمؑ لوگوں کی مہمان نوازی کیا کرتے تھے بلکہ مہمان نوازی کی بنیاد ہی حضرت ابرہیمؑ نے ڈالی تھی۔ ایک دن آپؑ کسی انسان کی تلاش کرنے نکلے مگر کسی کو نہ پایا، جب گھر واپس لوٹے تو اپنے گھر میں ایک شخص کو پایا، اس سے کہا: اللہ کے بندے! میرے گھر میں میر ی اجازت کے بغیر کیسے داخل ہوئے؟ اس نے کہا: میں موت کا فرشتہ ہوں، اللہ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کی طرف مجھ کو بھیجا ہے کہ اسے خوشخبری دوں کہ اللہ نے اسے اپنا خلیل (دوست) بنا لیا ہے، انہوں نے کہا وہ کون ہے؟ بخدا اگر تم مجھے بتا دو اس کے بارے میں اور وہ دوردراز کے کسی شہر میں رہتا ہو تب بھی اس کے پاس حاضر ہوں گا اور اس کا خادم ہو جاؤں گا۔ اس نے کہا: وہ بندے آپ ہیں، حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا: میں؟ اس نے کہا: آپ، انہوں نے پوچھا: اللہ نے مجھے اپنا خلیل (دوست) کیوں بنایا؟ فرشتے نے کہا: اس لئے کہ آپ لوگوں کو دیتے ہیں اور ان سے مانگتے نہیں۔ (حلیتہ الاولیاء جلد چہارم)

صاحب قلیوبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابویزید بسطامیؒ ایک دن اس حال میں باہر نکلے کہ ان پر گریہ وزاری کا اثر تھا۔ کسی نے آپ سے اس کا سبب پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ قیامت کے دن ایک بندہ موقف (کھڑے ہونے کی جگہ) حساب کی طرف اپنے مخاصم اور مخالف کیساتھ آئے گا اور کہے گا کہ اے میرے رب میں قصاب تھا، پس یہ شخص میرے پاس آیا اور مجھ سے گوشت کا بھاؤ چکایا اور اپنی انگلی میرے گوشت پر رکھی، حتیٰ کہ اس کی انگلی نے گوشت پر نشان کروایا اور اس نے گوشت نہیں خریدا اور میں آج اسی قدرکا محتاج ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ مدعا علیہ کی نیکیوں میں سے مدعی کے حق کے بقدر اس کو دیا جائے۔ پس یہ اس کے ترازو میں رکھا جائے گا۔ چنانچہ اس کے ترازوکا پلڑا غالب ہو جائے گا اور اس کو جنت کا حکم دیا جائے گا اور اس کے مخاصم اور مدعا علیہ کا ترازو اسی قدر کم ہو جائے گا اور اس کو دوزخ کا حکم دیا جائے گا۔ پس مجھے معلوم نہیں کہ اس دن میرا کیا حال ہوگا۔

(انمول موتی جلد:2)

علامہ ابن قیمؒ فرماتے ہیں، حضرت ابوالحسن بوشجیؒ اور حضرت حسن حدادؒ، حضرت ابوالقاسم منادیؒ کی عیادت کرنے آئے۔ ان لوگوں نے آتے ہوئے راستے میں آدھے درہم کا ایک سیب ادھار خریدا۔ جب وہ دونوں داخل ہوئے تو وہ پکار اُٹھے: یہ کیسی ظلمت چھا گئی؟ تو وہ دونوں باہر نکل گئے اور کہنے لگے، ہو نہ ہو یہ اس سیب کے قیمت کی وجہ سے ہے۔ پس ان دونوں نے جا کر اس کو سیب کی قیمت ادا کی۔ پھردوبارہ حضرت منادیؒ کی خدمت میں آئے، وہ ان دونوں کوغور سے دیکھ رہے تھے۔انہوں نے فرمایا: تم دونوں مجھے اپنا معاملہ بتلاؤ۔ ان دونوں نے قصہ سنایا تو حضرت منادیؒ نے فرمایا: ہاں بات یہ ہے کہ تم دونوں میں سے ہر ایک کا خیال تھا کہ دوسرا قیمت دیدے گا، جبکہ دکاندار تم دونوں سے تقاضا کرنا چاہتا تھا۔

متعلقہ خبریں