Daily Mashriq

7 ستمبر کو قومی اسمبلی میں کیا ہوا تھا ؟

7 ستمبر کو قومی اسمبلی میں کیا ہوا تھا ؟

7ستمبر پاکستان کی آئینی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،21دن قومی اسمبلی کی مسلسل کارروائی جس میں فریقین نے مکمل آزادی کے ساتھ اپنا مؤقف خصوصی کمیٹی کے سامنے رکھا، اس پر13دن جرح ہوئی، باقی آٹھ دن مختلف ممبران اسمبلی کے بیانات اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کے بیانات اور دلائل شامل تھے۔ اس طرح قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر7 ستمبر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں قادیانی لاہوری گروہوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔قادیانی ایشو اسمبلی میں کیوں کر زیربحث آیا؟ قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی میں کیوں تبدیل کیا گیا ؟ کیا قومی اسمبلی کی اکیس روزہ کارروائی یک طرفہ تھی؟ کیا کسی کے اسلام اور کفر کا فیصلہ پارلیمنٹ کرسکتی ہے ؟ کیا21 روزہ کارروائی میں انصاف ہوتا ہوا نظر آیا؟ قومی اسمبلی میں اس مسئلہ پر پیش کی گئی ممبران اسمبلی کی جانب سے ایک تحریک اور ریزولوشن میں کیا غلطی تھی؟ اٹارنی جنرل آف پاکستان یحییٰ بختیار کا کیا کردارتھا ؟ ان تمام سوالات کے جوابات21 روزہ کارروائی میں موجود ہیں۔قومی اسمبلی کے21روزہ کارروائی ان کیمرہ سیشن (خفیہ کارروائی) تھی،اس ساری کارروائی کی آڈیو ریکار ڈنگ کو بعدازاں پیپر پر منتقل کرکے سربمہر رکھا گیا اور اس کو آفیشل سیکرٹ قرار دیا گیا، سیکرٹ ایکٹ کے تحت کوئی بھی دستاویز30 سال تک خفیہ رہ سکتی ہے۔ 2012 میں اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے38برس بعد ’’ خصوصی کمیٹی برائے قادیانی مسئلہ ‘ ‘ کا خفیہ ریکارڈ اوپن کرنے کی منظوری دی، حکومت پاکستان نے اس ساری کارروائی کو21 حصوں میں لفظ بہ لفظ شائع کیا جو کہ اب ویب سائٹ پر بھی موجود ہے ۔اوپر اٹھائے گئے سوالات کے جوابات کارروائی میں سے عوام کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہوں، قادیانی مسئلہ اسمبلی میں کیوں زیر بحث آیا ؟اس کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ29 مئی1974کو قادیانی گروہ کے افراد نے مرزا طاہر احمد کی قیادت میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ پر چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر حملہ کیا، اس کے ردعمل میں پاکستان میں ایک تحریک چلی اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اعلان کیا کہ قادیانی مسئلہ قومی اسمبلی میں فیصلے کے لیے پیش کریں گے جو منصفانہ ، آزادانہ فیصلہ قومی اسمبلی کے اراکین کریں گے وہ جمہوری فیصلہ سب کے لیے قابل قبول ہوگا ، اس اعلان کے بعد قادیانی جماعت نے وزیراعظم پاکستان کو درخواست بھجوائی کہ اسمبلی میں ہمارے عقائد پر بحث ہونا ہے ہمیں بھی قومی اسمبلی میں پیش ہونے کا موقع دیا جائے ، وزیراعظم پاکستان نے قائد حزب اختلاف مفتی محمود سے مشاورت کے بعد قادیانیوں اورلاہوری دونوں گروپوں کے سربراہوں کو ان کی درخواست پر قومی اسمبلی میں آکر اپنا مؤقف پیش کرنے کی اجازت دی۔قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی میں کیوں تبدیل کیا گیا ؟ اب مسئلہ یہ درپیش آیا کہ قادیانیت لاہوری گروپ کو اجازت دینے کے بعد اور ان پر سوالات (جرح) کرنے کے لئے اٹارنی جنرل یہ سب ممبران اسمبلی نہ تھے اس مشکل کو حل کرنے کے لیے قومی اسمبلی کو ’’خصوصی کمیٹی برائے بحث قادیانی مسئلہ‘‘میں تبدیل کر دیا گیا، قومی اسمبلی کے سپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان اس خصوصی کمیٹی کے چیئرمین قرار پائے۔ یہ اعتراض لاعلمی کی وجہ سے زبان زد عام ہے کہ یہ یک طرفہ کارروائی تھی، قومی اسمبلی کی کارروائی کے مطابق مرزا ناصر احمد قادیانی سربراہ نے اپنی مرضی وچاہت سے پانچ اگست کو خصوصی کمیٹی کے سامنے اپنا بیان پڑھا ، قادیانی گروپ لیڈر نے قومی اسمبلی کے ہر رکن کو اس کی ایک ایک مطبوعہ کاپی دی، اس بیان پر پانچ اگست سے10اگست تک اور پھر20 سے24 اگست کل11 دن مرزا ناصر احمد چیف قادیانی گروہ پر اٹارنی جنرل آف پاکستان یحییٰ بختیار نے جرح کی۔ ممبران قومی اسمبلی نے بذریعہ اٹارنی جنرل قادیانیوں لاہوری گروپ کے سربراہ سے قادیانی دھرم کے متعلق مختلف سوالات کیے ، کسی بھی ممبر کو ڈائریکٹ سوال کرنے کی اجازت نہ تھی۔دوران جرح مرزا ناصر احمد نے یہ تسلیم کیا کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو بغیر شریعت کے آخری نبی اور مسیح موعود مانتے ہیں اور مرزا غلام احمد قادیانی نے اس بات کا دعویٰ خود بھی کیا۔ ایک اعتراض جو آج کل زبان زد عام ہے کہ کیا پارلیمنٹ کسی کے مذہب کے متعلق فیصلہ کرسکتی ہے، اٹارنی جنرل آف پاکستان نے مرزا ناصر احمد کے اوپر 11 دنوں اور لاہوری گروپ پر دو دن کی جرح سے یہ بات دونوں گروہوں کے سربراہان سے منوائی کہ پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے کہ وہ کسی کے مذہب کے متعلق فیصلہ کر سکیں اس کے لیے اٹارنی جنرل نے بہت آسان فہم انداز میں نہ صرف مثالیں دیں بلکہ ان پر جرح بھی کی جس پر مرزا ناصر احمد کو یہ بات تسلیم کرنا پڑی، اٹارنی جنرل کی دی ہوئی ایک مثال یہاں ذکر کر دیتا ہوں، مرزا ناصر احمد سے اٹارنی جنرل نے سوال کیا کہ ایک شخص زکوٰۃ کو رکن اسلام نہیں مانتا اور پھر وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں مسلمان ہوںکیا ایسے شخص کے کاغذات الیکشن کمیشن رد کر سکتا ہے؟ مرزا ناصر نے جرح کے بعد یہ بات تسلیم کی کہ بالکل حکومت نہ صرف قانون سازی کر سکتی ہے بلکہ الیکشن کمیشنر کاغذات بھی اس پررد کر سکتا ہے۔13دن کی جرح کے بعد29 اور30 اگست کو قائد حزب اختلاف مفتی محمود نے اپنا بیان مکمل کیا جو ملت اسلامیہ کا مؤقف اور چار ضمیمہ جات پر مشتمل تھا، ضمیمہ نمبر1فیصلہ مقدمہ بہاولپور، ضمیمہ نمبر2فیصلہ مقدمہ راولپنڈی، ضمیمہ نمبر3فیصلہ مقدمہ جیمس آباد ، ضمیمہ نمبر4فیصلہ مقدمہ ڈی جی گھوسلہ گرداسپوریہ تمام مسودہ قائد حزب اختلاف مفتی محمود نے دو دن میں مکمل کیا۔30 اگست کے اجلاس کے آخری حصے اور31اگست کے اجلاس میں مولانا غلام غوث ہزاروی نے اپنی طرف سے ایک علیحدہ محضرنامہ تیار کیا جس کو مولاناعبدالحکیم نے پڑھا ، دو تین اور پانچ ستمبر کو اراکین اسمبلی سردار مولا بخش سومرو ، (بقیہ صفحہ7)

متعلقہ خبریں