Daily Mashriq

پاک شاہینوں فضاء کے شہر یاروں کو سلام

پاک شاہینوں فضاء کے شہر یاروں کو سلام

ہم نے کل6ستمبر کو یوم دفاع پاکستان مناتے ہوئے آپ کو بتایا تھا کہ1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ہم آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے لیکن پاک بھارت جنگ کے دوران ہم نے اپنے اساتذہ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کتابیں کاپیاں طاق پر رکھ دیں اور جہاں شہری دفاع تنظیم کے باوردی رضاکار بنکر اس جنگ میں حصہ لینے لگے وہاں اپنے ہم مکتبوں کے ساتھ مل کر پاک بھارت جنگ کے متاثرین کے لئے گھر گھر اور دکان دکان پھر کر چندہ اکٹھا کرنے میں مگن ہوگئے ۔ہمارا دن چندہ اکٹھا کرنے میں گزرتا اور رات بھر شہری دفاع کے رضاکار کی حیثیت سے اپنے محلے کی گلیوں میں پہرہ دیتے رہتے۔ سترہ روزہ پاک بھارت جنگ کے دوران ہم نے جہاں بہت سا چندہ جمع کرکے اپنی اسکول انتظامیہ کے حوالے کیا وہاں ہم نے اپنے محلے کے رہائشیوں سے بلیک آؤٹ کی پابندی کرانے میں کسی قسم کی رعایت نہ برتی۔ جہاں کہیں روشنی کی ایک آدھ رمق دکھائی دیتی وہاں ہم اپنی رٹ قائم کرنے پہنچ جاتے اور اہلیان محلہ سے بلیک آؤٹ کی پابندی کروانے کی کوشش کرتے ہوئے ان کے دروازوں پر دستک دیتے۔ ماچس کی ایک تیلی جلانے کی گنجائش نہیں تھی۔ جس کی رمق پاکر دشمن کے طیارے خاکم بدہن ہمارے شہروں کو ملبے کے ڈھیر بنا سکتے تھے۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ دشمن کے طیاروں کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے پاک وطن کی فضاؤں میں ہمہ وقت چوکس چوبند رہنے والے پاک وطن کے شاہین محو پرواز ہیں اور وہ ہر اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں۔بھارت 65کی جنگ میں ہماری آزادی کا دشمن بن کرہماری قوت ایمانی کو للکار بیٹھا اور پھر اس نے دیکھ لیا کہ ساری پاکستانی قوم نہ صرف بیدار ہے بلکہ اس قوم کا بچہ بچہ سیسہ پلائی دیوار بن کر باطل قوتوں کا مقابلہ کرنا جانتا ہے۔ کل چھ ستمبر کو ہم یوم دفاع پاکستان ملی جوش اور جذبے سے منا رہے تھے اور آج 7ستمبرکا دن پاک فضائیہ کے کارناموں کو یاد کرنے اور پاکستان کی فضائی افواج کے شہیدوں اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کر نا چاہتے ہیں ۔ ویسے تو پاک وطن کی فضائی فوج نے 6ستمبر ہی کو پاکستان کی بری اور بحری افواج کے شانہ بشانہ لڑ کر دشمن کو ناکوں چنے چبوا دئیے تھے اور پٹھان کوٹ‘ آدم پور اور ہلواڑہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے‘ دشمن کے22 طیارے اور متعدد ٹینک‘ بھاری توپیں اور دوسرا اسلحہ تباہ کردیا تھا۔ لیکن آج یعنی جنگ کے اگلے روز7 ستمبر 1965ء کو تو پاک فضائیہ نے ثابت کردیا تھا کہ یہ دن پاک فضا ئیہ کے لئے فتح و کامرانی کا دن بن کر طلوع ہوا ہے ۔ 7ستمبر کو دشمن کے طیاروں نے سرگودھا ائیر پورٹ پر حملہ کیا جس کی پاک فضائیہ کی طرف سے جوابی کارروائی نے انہیں دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔ اس دوران دشمن کے متعدد طیارے شاہینون کے نشانے پر آکر اپنے انجام کو پہنچے۔ بات دشمن کے الٹے پاؤں بھاگنے پر ختم نہیں ہوئی آنے والے لمحات نے اس بات کی گواہی دی کہ پاک فضائیہ نے جوابی حملہ کرکے لدھیانہ‘ جالندھر‘ بمبئی اور کلکتہ کے ہوائی اڈوں پر موجود دشمن کے31 طیارے تباہ کردیے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے خلاف اپنی کارروائی6 ستمبر کو شام 5بجے کے بعد شروع کی تھی اور7 ستمبر کو شام 5بجے سے پہلے وہ دشمن کے 53طیارے تباہ کرکے اس کے خلاف ناقابل شکست فضائی برتری ثابت کرچکی تھی۔ 1965کی پاک بھارت جنگ پر تبصرہ کرنے والے گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان کے دشمنوں نے اس ملک اور قوم کے خلاف جنگ کا آغاز 6ستمبر کو لاہور کے قصبے باٹا پور پر کئے جانے والے فضائی حملے سے کیا تھا ، جب کہ یہ جنگ افوج پاک فضائیہ نے اپنی قوت ایمانی کی طفیل 7 ستمبر ہی کو جیت لی تھی۔ ثابت کر لیا تھا کہ

صحرا است کہ دریا است

تہ بال و پر ماست

شہری دفاع کے قومی رضاکار کی حیثیت سے ان دنوں ہم نے اپنے شہروں اور دیہاتوں میں جگہ جگہ خندقیں کھود رکھی تھیں تاکہ دشمن کی فضائیہ کے حملہ آور ہوتے ہی ان خندقوں میں پناہ لی جائے ۔ جن لوگوں کے دلوں پر جنگ کا خوف طاری تھا وہ پہلے ہی سینکڑوں کی تعداد میں جتھوں کے جتھوں کی صورت اپنا بوریا سمیٹے شہر سے نکل رہے تھے۔ مگر بقول کسے

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

کے مصداق جس کی جہاں موت لکھی تھی وہیں وہ ملک الموت کے ہاتھوں دبوچ لیا گیا۔ ایسا ہی ایک واقعہ پشاور کی نواحی بستی ’نوی کلی‘ میں پیش آیا۔ جہاں لاہور سے جنگ کے خوف سے نقل مکانی کرکے آنے والی ایک فیملی نے قیام کیا۔ لیکن دوسری ہی شب بھارتی فضائیہ جب پشاور کے ہوائی اڈے پر حملہ آور ہوئی تو پاک فضائیہ کے شاہینوں کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں بھاگتے ہوئے وہ اپنے بم ’نوی کلی‘ کے اس مکان پر پھینک گئی جس میں جنگ کے خوف سے مقیم لاہوری فیملی لقمہ اجل کو لبیک کہہ گئی۔ہم پشاور کی گلیوں میں قومی رضاکار کی وردی پہنے ڈیوٹی کر رہے تھے اور اپنی آنکھوں سے دشمن کے جہازوں کو پاک فضائیہ کے غیظ و غضب کا نشانہ بن کر گرتا دیکھ رہے تھے۔ آج یوم فضائیہ ہے اور ہماری زندگی کی چڑھتی جوانی کی چشم دید گوا ہیاں اقبال کے شاہینوں کو دست بستہ سلام عرض کرتی ہیں

پاک شاہینوں فضاء کے شہر یاروں کو سلام

آسمانوں پر زمیں کے چاند تاروں کو سلام

متعلقہ خبریں