Daily Mashriq

پشاور میں ڈینگی سے اموات افواہ قرار، ڈپٹی ڈی ایچ او سمیت3ملازمین فارغ

پشاور میں ڈینگی سے اموات افواہ قرار، ڈپٹی ڈی ایچ او سمیت3ملازمین فارغ

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور کے نواحی دیہات میں ڈینگی بخار سے تین افراد کی موت اور ہر گھر میں 2سے زائد مریضوں کی تشخیص کو محکمہ صحت نے افواہ قرار دیتے ہوئے ابتک صوبہ بھر میں465ڈینگی متاثرین کی تصدیق کردی ہے جبکہ غفلت برتنے پر ڈپٹی ڈی ایچ او پشاور سمیت تین عہدیداروں کو فارغ کردیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور کے ترجمان نے پشاور میں ڈینگی کے پھیلنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی رپورٹس کی تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ مذکورہ رپورٹس حقائق کے برعکس ہیں، ڈینگی سے کوئی بھی موت واقع نہیں ہوئی ۔ اُنہوںنے کہاکہ ڈینگی کے تصدیق شدہ کیسز کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے جوبیس فیصد سے کم ہو کر اب تقریبا ً پانچ فیصد پر پہنچ چکی ہے۔جولائی اور اگست 2019 کے دوران پشاور کے مختلف علاقوں میں 2632 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے تصدیق شدہ آئی جی جی / آئی جی ایم کیسز کی تعداد صرف 408 تھی اور ڈینگی سے کوئی بھی موت واقع نہیں ہوئی ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ستمبر2019 کے دوران اب تک پشاور کے حساس ترین علاقوں سے 1944 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں جن میں تصدیق شدہ آئی جی جی/ آئی جی ایم کیسز کی تعداد 78 ہے اور ابھی تک کوئی بھی موت واقع نہیں ہو ئی ۔ واضح رہے کہ ڈینگی بخار سے پشاور کے نواحی علاقوں شیخان، شیخ محمدی، ماشوخیل، سلیمان خیل، سربند، سنگو ،مشترزئی اور پشتہ خرہ میں رواں برس ڈینگی مچھروں کی شکایات ہیں تاہم جمعہ کے روز ڈینگی بخار سے اموات کی اطلاع جاری کی گئی جس میں تین افراد کے جاں بحق اور سینکڑوں افراد کے متاثر ہونیکا دعویٰ کیا گیا تھا جسے محکمہ صحت کے حکام نے جھوٹا ثابت کردیا ہے اس سلسلے میں گزشتہ شام ہیلتھ سیکرٹریٹ میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر ارشد خان نے ہنگامی بنیادوں پر پریس بریفنگ کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ وزیر صحت کی ہدایت پر وہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر پشاور، ڈپٹی کمشنر، وکٹر کنٹرول اینڈ ملیریا کنٹرول پروگرام کے سربراہ، ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ اور دیگر حکام نے مذکورہ دیہات کا دورہ کیا جہاں پر اموات کی تصدیق نہیں ہوئی انہوں نے بتایا کہ کوہاٹ، مردان،ہزارہ اور ملاکنڈ میں ملیریا اور دیگر مچھروں کی شکایات اس خطے کی موسمی صورتحال کی وجہ سے 2017میں ایک لاکھ20ہزار سے زائد افراد ڈینگی کیلئے مشتبہ تھے جن میں سے24ہزار میں محکمہ صحت نے تصدیق اور70افراد کی موت ہوئی تھی اس کے مقابلے میں رواں برس مذکورہ اضلاع سے 20ہزار کے لگ بھگ ڈینگی کیسوں کی توقع تھی جس کیلئے انتظامات بھی کئے گئے تھے لیکن سال کے پہلے مہینے سے ہی انتظامات کئے گئے تھے جس کیو جہ سے ابتک صرف12سو افراد میں این ایس ون ٹیسٹ کے ذریعے ڈینگی کی تشخیص ہوئی اور ان میں سے465افراد میں ڈینگی کی تشخیص ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ لوگ افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ اپنی صفائی اور ارد گرد کے ماحول کا خیال رکھیں انہوں نے کہا کہ کسی مریض میں ڈینگی کی تشخیص کرنا مستند ڈاکٹر کاکام ہے کسی اور کو اس سلسلے میں ڈینگی ڈکلیئر کرنیکا اختیار نہیں ہے شیخان ہسپتال کی لیڈی ڈاکٹر کو ڈیوٹی سے غیر حاضری پرتبدیل اورایل ایچ وی کو ضلع بدر کرکے کوہستان تبدیل کردیا ہے جبکہ ڈپٹی ڈی ایچ او پشاور ڈاکٹر ملک نیاز کو بھی ڈائریکٹوریٹ تبدیل کردیا ہے انہوں نے بتایا کہ ڈینگی کے نتیجے میں امسال کوئی ہنگامی صورتحال کا امکان نہیں تین چوتھائی سیزن گزرگیا ہے 15اکتوبر تک محکمہ صحت کی ٹیموں کو کام کی ہدایت کردی ہے مذکورہ ٹیمیں پشاور کے نواحی علاقوں میں مقررہ تاریخ تک موجود رہیں گی۔

متعلقہ خبریں