Daily Mashriq


طالبان کو پیشکش قبول کرلینی چاہئے

طالبان کو پیشکش قبول کرلینی چاہئے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات میں طالبان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امن کی اس پیشکش کا مثبت جواب دیں اور مزید تاخیر کئے بغیر امن عمل کا حصہ بنیں۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دہشتگردی کو دونوں ممالک کیلئے مشترکہ خطرہ قرار دیتے ہوئے اپنی اپنی سرزمین ایک دوسرے کیخلاف غیر ریاستی سرگرمیوں کیلئے استعمال نہ ہونے دینے پر بھی اتفاق کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے بھی مذاکرات کئے۔ انہوں نے افغانستان کے عوام کیلئے40ہزار ٹن گندم بطور تحفہ دینے اور افغان معیشت کو سہارا دینے کیلئے افغان مصنوعات پر عائد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی بھی صفر کرنے کا اعلان کیا۔ حزب وحدت کے رہنما استاد محمد محقق، حزب اسلامی کے قائد گلبدین حکمت یار اور استاد محمد کریم خلیلی سمیت مختلف افغان رہنماؤں نے بھی وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں۔ واضح رہے کہ افغانستان میں قیام امن کی مساعی کے سلسلے میں پاکستان کے فوجی اور سیاسی رہنماء باقاعدگی سے کابل کے دورے کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرد مہری پر مبنی تعلقات میں اس وقت تبدیلی آئی جب پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس سال فروری میں افغانستان کا دورہ کیا۔ کافی تلخیوں اور تاخیر کے بعد ہونیوالے اس دورے میں جنرل باجوہ نے افغانستان اور امریکہ دونوں کو علاقائی سکیورٹی معاملات پر مشترکہ اور تسلسل کیساتھ کوششوں کی پیشکش کی تھی۔ اگرچہ افغان قیادت کی جانب سے پاکستانی مساعی کو ہمیشہ شک وشبے اور عدم اعتماد کیساتھ دیکھنے کی روایت رہی ہے اس طرح کی مساعی کی جب مثبت نتائج سامنے آنے لگتے ہیں تو اچانک کابل کا لب ولہجہ تبدیل ہوتا ہے یا پھر کوئی ایسا بڑا واقعہ رونماء ہوتا ہے جس کے باعث سارے کئے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے۔ اس پس منظر کے باوجود وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور افغان صدر اشرف غنی کی ملاقات کے علاوہ وزیراعظم کی افغان چیف ایگزیکٹو اور دیگر عمائدین سے ملاقات کے مندرجات کے حوالے سے مثبت اور پراعتماد نہ ہونے کی اسلئے کوئی وجہ نہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک کو اب اس امر کا ادراک ہو چکا ہے کہ باہم تعاون اور اتفاق کے خواہ جتنی بھی کوششیں کی جائیں نتیجہ خیز نہیں ہوتے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے افغانستان کا دورہ کرکے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی جس نئی فضا کی بنیاد رکھی تھی اس کے بعد سے پاکستانی حکام کا دورہ کابل تسلسل سے جاری ہے لیکن افغان صدر اور چیف ایگزیکٹو اب تک پاکستان کا دورہ کرنے پر آمادہ نہیں اس طرح سے اعتماد سازی کی فضا کو آگے بڑھانے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ بہرحال وزیراعظم پاکستان اور افغان صدر کا طالبان کو مشترکہ طور پر مذاکرات کی دعوت سنجیدہ معاملہ ہے۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان سے مذاکرات کا آغاز ہی مسئلے کے حل کی جانب وہ پہلا ٹھوس قدم ہوگا جس سے افغانستان میں داخلی امن واستحکام اور خطے میں امن کی فضا کے قیام کی سنجیدہ توقعات وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر جن جن افغان زعماء سے ملاقات اور بات چیت کی ہے ان کی وساطت سے طالبان سے امن مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی میں طالبان کا افغان حکومت سے مذاکرات پر آمادگی ایک مشکل معاملہ ہے اسلئے کہ افغان طالبان کا ہر بار یہی مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی میں وہ کسی طور مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ افغانستان سے متعلق تمام فریقوں کو اس امر پر اتفاق کرنا ہوگا کہ افغان تنازعے کا کوئی بھی فوجی حل نہیں اگر ایسا ہوتا تو معلق پلڑا کبھی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف جھکنے کی بجائے اب تک کسی ایک سمت جھک چکا ہوتا۔ ایسا ہونا ممکن بھی نظر نہیں آتا لیکن دوسری جانب یہ بھی ممکن نہیں کہ غیر ملکی افواج کی چھتری تلے بے اختیار حکومت سے معاملات طے کرنے کا آغاز کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے ایسا فارمولہ وضع کرنے کی ضرورت ہے کہ افغان حکومت کی قدر ووقعت بڑھے اور اس امر کا یقین ہوسکے کہ افغانستان حکومت اپنے فیصلے خود کرنے اور وعدے پورے کرنے کی قوت وصلاحیت رکھتی ہے۔ ان پیچیدگیوں کے سلجھانے کی راہ پاک افغان حکومتوں اور قیادت کے درمیان ہم آہنگی واعتماد سے ہی نکل سکتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے درمیان اعتماد کے رشتے مضبوط ہونے پر ہی ایسے عملی اقدامات ممکن ہوں گے جس سے ایک تو مذاکرات کا ماحول پیدا ہوگا دوم یہ کہ ایسے اقدامات ممکن ہوں گے جس کے ذریعے طالبان قیادت کو مذاکرات کی میز پر لایا جاسکے گا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیراعظم پاکستان اور افغان صدر کی ملاقات کے جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور بہتری کے سفر کا آغاز ہوگا۔

متعلقہ خبریں