Daily Mashriq


تجویز مناسب مگر وقت موزوں نہیں

تجویز مناسب مگر وقت موزوں نہیں

سابق وزیراعظم نواز شریف نے تجویز دی ہے کہ نیب کے قوانین کو عام انتخابات کے انعقاد تک معطل کر دیا جائے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے جن معاملات کی نشاندہی کی ہے ان کے حوالے سے دو رائے نہیں لیکن چونکہ ان معاملات کا زیادہ تعلق سیاست سے متعلق ہے لہٰذا اس ضمن میں اصلاح کی ذمہ داری بھی عدلیہ سے زیادہ خود سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے۔ جن معاملات میں عدالت کی مداخلت کی گنجائش ہے اس پر عدالت عظمیٰ میں عدالتی کارروائی جاری ہے۔ خود چیف جسٹس نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ ان معاملات کو ادھورا نہیں چھوڑا جائے گا۔ جہاں تک نیب کے حوالے سے معاملات کا تعلق ہے اس میں سابق وزیراعظم اور ان کی جماعت ازخود ایک فریق ہیں اسلئے اس حوالے سے ان کے بیانات کو تصویر کا ایک رخ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ نیب سے سیاسی جماعتوں کے گلے شکوے اور شکوہ شکایات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ کن کیخلاف کارروائی سے کس سیاسی جماعت کو نقصان پہنچتا ہے یہ سوچنا احتساب کے ادارے کا کام نہیں البتہ نیب کی ذمہ داری یہ ضرور ہے کہ وہ احتیاط کیساتھ ہاتھ ڈالے اور کسی کیخلاف کارروائی سے قبل ٹھوس ثبوت حاصل کرنے پر توجہ دی جائے۔ جہاں تک نیب قوانین کو عام انتخابات تک معطل کرنے کا سوال ہے ایک خاص تناظر میں اس تجویز پر غور ممکن ہے لیکن چونکہ نیب میں خود بیان دہندہ کیخلاف کارروائی جاری ہے اسلئے ان کی اس تجویز پر عملدرآمد ممکن نہیں۔ اس طرح کا طریقہ کار اگر معمول کے دنوں میں طے کیا گیا ہوتا اور موجودہ حکومت اس حوالے سے قانون سازی اور طریقہ کار وضع کر چکی ہوتی تو اس وقت اس تجویز کی ضرورت نہ پڑتی۔ ہمارے تئیں ان حالات میں اس تجویز پر عملدرآمد تضادات کا باعث ہوگا۔ البتہ عام انتخابات 2018ء کے انعقاد کے بعد اگر اس معاملے پر آئندہ کیلئے اتفاق ہو جائے تو یہ موزوں ہوگا۔ چیف جسٹس سے آئندہ عام انتخابات کو بروقت ممکن اور شفاف بنانے سے متعلق توقعات عدالت عظمیٰ پر اعتماد ہے۔ مقام اطمینان امر یہ ہے کہ ہر وقت تنقید کے تیر برسانے والوں نے اعتماد وابستہ کر کے اور توقع ظاہر کر کے حقیقت پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ یقیناً انتخابات کا بروقت انعقاد اور مارشل لاء کی لعنت کو روکنے سے متعلق عدالت عظمیٰ ہی سے توقعات ہیں جن پر عدالت کے پورا نہ اُترنے کی کوئی وجہ نہیں۔

متعلقہ خبریں