Daily Mashriq


یکساں یونیفارم رائج کرنے کی ضرورت

یکساں یونیفارم رائج کرنے کی ضرورت

خیبر پختونخوا کے سرکاری سکولوں میں ملیشیا یعنی سیاہ رنگ کے شلوار قمیص کیساتھ ساتھ سفید اور دوسرے رنگ کے کپڑے اور شرٹ پتلون متعارف کرانے کی جو منظوری دی گئی ہے وہ بالکل واضح نہیں۔ بہرحال اس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ طالب علموں کو تین قسم کے لباس یعنی وردی پہننے کی اجازت ہوگی۔ اعلامیہ کے مطابق اس سلسلے میں پیرنٹس ٹیچرز کونسل کو اپنے متعلقہ سکول کیلئے مذکورہ ہدایات کی روشنی میں کسی ایک قسم کے یونیفارم کی منظوری کا اختیار ہوگا جبکہ ملیشیا کپڑے بھی رائج رہیں گے۔ ہمیں اس بات سے غرض نہیں کہ کس رنگ کا یونیفارم طلبہ کیلئے موزوں ہوگا اور کس رنگ کے یونیفارم کی کیا خاصیت اور فوائد ہیں۔ ہم اس امر پر معترض ہیں کہ سرکاری سکولوں میں تین مختلف رنگوں اور ہیئت کی وردی متعارف ہوگی۔ ایک سرکاری سکول کے طالب علم ملیشیا دوسرے سفید اور تیسرے پینٹ شرٹ میں ملبوس ہوں گے جس سے یکسانیت نہیں رہے گی جبکہ یونیفارم کا مقصد ہی جداگانہ تشخص اور پہچان ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کی جتنی شاخیں ملک بھر میں جہاں جہاں بھی ہیں ان کا یونیفارم یکساں ہے اور معروف سکولوں کے طلبہ کو ان کے یونیفارم سے بخوبی پہچانا جاسکتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یونیفارم کا فیصلہ پیرنٹ ٹیچرز کونسل پر چھوڑنے کی بجائے سرکاری طور پر کیا جائے اور سرکاری سکولوں میں یکساں یونیفارم رائج کیا جائے۔

کیا اور کوئی طریقہ نہیں ؟

نشترآباد اور گل بہار کے مکینوں کو سالہا سال سے درپیش نکاسی آب کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے مزید گمبھیر بنا دیا گیا اور پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کیلئے لاہور اڈہ سے فردوس تک بچھائی جانے والی گیس پائپ لائن کو نکاسی آب کے نالے سے گزار کر رہی سہی کسر بھی پوری کر دی گئی جس کے باعث گل بہار، نشترآباد، حسین آباد اور دیگر علاقوں کے 5ہزار گھرانوں میں تشویش کی لہر دوڑ جانا فطری امر ہے۔ بی آر ٹی منصوبے سے گیس پائپ لائنوں کا متاثر ہونا اور اس ضمن میں بروقت اقدامات سے کوتاہی الگ معاملہ ہے۔ محولہ مسئلے کے باعث شہریوں کے خدشات دور کرنے کیلئے نالی کے فرش کے نیچے سے پائپ کیلئے کھدائی کر کے اس طرح گزارا جائے کہ نالی کی سطح متاثر نہ ہو اور نکاسی آب کے انتظام پر اثر نہ پڑے۔

متعلقہ خبریں