Daily Mashriq


مرحوم تاج محمد خان لنگاہ۔ کچھ یادیں چند باتیں

مرحوم تاج محمد خان لنگاہ۔ کچھ یادیں چند باتیں

موسم کیساتھ سیاست کا میدان بھی گرم ہے۔ عمران خان سندھ میں رکنیت سازی کی مہم کے دوران زبان دانی کے مظاہروں میں مصروف ہیں۔ گھوٹکی میں بلاول نے ان پر پبھتی کستے ہوئے کہا ان کے انگوٹھے پر ابھی پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں ووٹ دینے کی سیاہی موجود ہے۔ اپنے کامریڈ میاں نواز شریف نے کل احتساب عدالت کے باہر فرمایا' نیب قوانین کو اگلی حکومت تک معطل کر دیا جائے۔ وزیراعظم عباسی اور افغان حکام کے درمیان پاک افغان 7نکاتی امن پلان پر وزیراعظم کے دورہ کابل میں ''سنجیدہ'' گفتگو ہوئی۔ مبارک ہو رعایا کو بجلی تقسیم کرنیوالی کمپنیوں نے اعتراف کر لیا ہے کہ 6سے آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوئی۔ فقیر راحموں کہتے ہیں جب تک پاور کمپنیوں کو پچھلے پانچ سال میں کی گئی ادائیگیوں کا آڈٹ نہیں ہوگا لوڈشیڈنگ کے ہتھیار سے وہ بلیک میل کرتی رہیں گی۔ گرما گرم موسم اور خبروں کے درمیان فقیر راحموں نے یاد دلایا کہ آج سات اپریل ہے اور سرائیکی وسیب کے رہبر بیرسٹر تاج محمد خان لنگاہ کی برسی ہے۔ تاج محمد خان لنگاہ پرانے ضلع ملتان اور حالیہ لودھراں کے تاریخی قصبے (اب تحصیل ہے) کروڑ پکا کے قریب اپنے آبائی گاؤں کے قبرستان میں مدفون ہیں۔ اسی بستی کی خاک سے وہ اُٹھے، ان کے والد درمیانے درجہ کے ترقی پسند زمیندار تھے۔ ہونہار بیٹے نے پرائمری تعلیم سے لندن کی بیرسٹری تک ہمیشہ اعلیٰ پوزیشن حاصل کی۔ 1960ء کی دہائی کا زمانہ تھا' ذوالفقار علی بھٹو' ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہو کر سیاسی ملاقاتوں اور مشاورت میں مصروف تھے۔ لندن میں دونوں کی ملاقات ہوئی اور پھر سماجی تعلق' دوستی اور سیاسی تعلق میں تبدیل ہوگیا۔ لنگاہ صاحب پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور تین جماعتی چناؤ (انتخابات) میں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ انہوں نے اپنے دورہ چین پر ایک سفرنامہ بھی لکھا تھا سانحہ اتحال سے مہینہ قبل کی آخری ملاقات میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سوانح عمری لکھیں گے تاکہ اس ملک اور خصوصاً سرائیکی وسیب کے نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کو تاریخ کے اس رخ سے آگاہ کرسکیں جو رجعت پسندوں کے پروپیگنڈے سے مسخ ہوچکا۔ زندگی نے وفا نہ کی اور وہ دنیا سرائے سے رخصت ہوگئے۔ زندگی بھر ترقی پسند افکار کا پرچم اُٹھائے انہوں نے پرعزم جدوجہد کی۔

1970ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے انہیں کونسل مسلم لیگ کے سربراہ میاں ممتاز احمد خان دولتانہ کے مقابل میدان میں اُتارا۔ اس معرکہ میں انہوں نے 70ہزار سے زیادہ ووٹ لئے مگر کامیابی دولتانہ کے حصے میں آئی۔ عام تاثر یہ تھا کہ مہاجرین اور آبادکاروں کے ایک موثر دھڑے نے آخری وقت میں دولتانہ کے کیمپ میں جا کر پانسا پلٹا۔ وہ پاکستان کے آئین کی تیاری کیلئے بھٹو صاحب کی خصوصی مشاورتی کمیٹی کے رکن تھے اور اس حیثیت سے ان کی خدمات کا اعتراف خود ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کیا۔ 1977ء میں انہوں نے خورشید حسن میر کیساتھ ملکر عوامی جمہوری پارٹی کی بنیاد رکھی، کمیونسٹ پارٹی کی طرز پر قائم ہونیوالی اس جماعت کو ترقی پسند حلقوں میں پذیرائی ملی مگر عوامی حلقوں میں جگہ نہ بنا سکی۔ 1980ء کی دہائی کے آغاز پر انہوں نے خود کو سرائیکی صوبہ کے قیام کی جدوجہد کیلئے وقف کر دیا۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سرائیکی علاقوں کے سیاسی کارکنوں اور زعما کی مشاورت سے قائم ہونیوالے سرائیکی صوبہ محاذ کے سربراہ منتخب کر لئے گئے اس محاذ کی سیاسی اور عوامی کامیابی کا ثبوت یہ تھا کہ صوبہ بہاولپور کی تحریک کے بانیوں ریاض ہاشمی ایڈووکیٹ اور سیٹھ عبیدالرحمن نے سرائیکی قومی جدوجہد میں شرکت کیلئے بہاولپور صوبہ محاذ کو سرائیکی صوبہ محاذ میں ضم کر دیا۔ سرائیکی صوبہ محاذ کی سیاسی اور عوامی مقبولیت نے مارشل لاء حکومت کے اوسان خطا کر دئیے۔ اولین مرحلہ میں سرائیکی صوبہ محاذ کا حصہ بننے والی سیاسی ومذہبی جماعتوں میں سے کچھ نے فوجی حکومت کی خوشنودی کیلئے محاذ کی پشت میں خنجر گھونپا۔ جے یو آئی (س) کے قاری نورالحق قریشی ایڈووکیٹ اپنی جماعت کی ناراضگی کے باوجود سرائیکی صوبہ محاذ کیساتھ چلتے رہے۔ یہ وہ حالات تھے جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے تاج محمد خان لنگاہ نے دوستوں اور ہم خیالوں کے مشورے سے پہلی سرائیکی قوم پرست جماعت' سرائیکی پارٹی کی ملتان میں بنیاد رکھی اور قومی جدوجہد کا نئے جذبے سے آغاز کیا۔ تاج محمد خان لنگاہ شرافت اور دیانت میں اپنی مثال آپ تھے۔ پیپلز پارٹی سے سرائیکی پارٹی کے قیام تک کے سفر میں انہوں نے موروثی جائیداد فروخت کرکے سیاسی عمل میں شرکت کی پچھلی دہائی میں جب ان کا انتقال ہوا تو ایک مکان، دو اڑھائی ایکڑ زرعی اراضی ہی باقی بچی تھی۔ پاکستانی سیاست کے جس دور میں لنگاہ میدان سیاست میں اترے وہ سیاست برائے خدمت کا دور تھا اور سیاسی کارکنوں ورہنماؤں کی غالب اکثریت اپنی جیب سے خرچ کرکے سیاسی عمل میں کردار ادا کرتی تھی۔ لگ بھگ 40برس میدان سیاست میں سرگرم عمل رہنے والے تاج محمد خان لنگاہ نے سیاسی سفر اور جدوجہد کے اخراجات پورے کرنے کیلئے اپنی چار مربع اراضی فروخت کر ڈالی۔ ان کی شرافت' دیانت اور پُرعزم جدوجہد سیاسی کارکنوں اور سرائیکی قوم پرستوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو سرائیکی پارٹی سرائیکی قومی تحریک کی بانی جماعت ہے اس جماعت نے وفاق پاکستان کے اندر اپنی قومی شناخت کے حصول اور صوبائی اکائی کے قیام کیلئے جو جدوجہد کی وہ ہمیشہ یاد رہے گی۔ سرائیکی قوم پرست سیاست کے میدان میں آج سرگرم عمل شخصیات اور جماعتوں کیلئے تاج محمد خان لنگاہ رہبر کا درجہ رکھتے ہیں۔ وضع دار' دوست نواز' ترقی پسند' صاحب مطالعہ اور اُجلے قوم پرست تھے۔ اپنی قوم اور وسیب کا مقدمہ انہوں نے ہر اس جگہ پیش کیا جہاں انہیں موقع ملا۔ طالب علم کو یہ شرف حاصل ہے کہ مرحوم تاج محمد خان لنگاہ ذاتی دوست اور مہربان تھے۔ ہم نے کچھ عرصہ عوامی جمہوری پارٹی میں اکٹھے کام کیا۔ انہوں نے اپنی قوم اور وسیب کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ ہمارے ایک اور مشترکہ مرحوم دوست سید حسن رضا بخاری کہا کرتے تھے کاش سرائیکی جماعتوں نے نئی نسل کے سیاسی کارکنوں کی تربیت کیلئے کوئی باقاعدہ ادارہ قائم کیا ہوتا تاکہ قوم پرست سیاست کو تربیت یافتہ نوجوان کارکن دستیاب رہتے۔ حق تعالیٰ مغفرت فرمائے آزاد مرد تھے تاج محمد خان لنگاہ۔

متعلقہ خبریں