Daily Mashriq


قدر وقیمت میں ہے خون جن کا حرم سے بڑھ کر

قدر وقیمت میں ہے خون جن کا حرم سے بڑھ کر

9/11 سے لیکر آج تک افغانستان میں بڑے بڑے انسانی المئے رونما ہوئے۔ ہر المناک واقعہ وہاں کے لوگوں کے علاوہ پاکستانیوں کیلئے بھی قیامت صغریٰ سے کم نہیں تھا۔ اسی لئے اس قسم کی ہر دردناک اور انسانیت سوز واقعے کی ٹھیسیس افغانستان اور پاکستان میں ہمیشہ محسوس کی جاتی رہیں ، ابھی ہم ایک واقعے کے ماتم اور افسوس سے اچھی طرح فارغ بھی نہیں ہو پاتے کہ دوسرا بلائے ناگہانی کی طرح نازل ہو جاتا ہے۔ گزشتہ چار عشروں سے جہاں افغانستان کا رواں رواں بلبلا اور کلبلا رہا ہے وہاں پاکستان بھی مندمل نہ ہونیوالے زخموں سے چور چور ہے۔

9/11 کی یہ المناک داستان اکیسویں صدی کی امت مسلمہ کیلئے نہ بھولے جانیوالی تاریخ میں شمار ہوگی۔ لیکن پچھلے دنوں قندوز میں مسجد ومدرسہ میں جو واقعہ پیش آیا اس نے تو شاید بڑے بڑے سنگدلوں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ہوگا۔ اس واقعے نے پرانے زخموں کو اس انداز میں ہرا کر دیا ہے کہ دشت آرچی کے دشت لیلیٰ بھی یاد آیا ہے۔ یہ واقعہ کئی لحاظ سے افغانستان میں رونما ہونیوالے قبل کے درد والمناک واقعات سے کئی طور الگ اور منفرد نوعیت کا ہے۔ ایک تو یہ کہ یہ اتنا المناک واقعہ ہے کہ امریکی افواج نے اعلان کیا کہ ''ہم اس میں ملوث نہیں۔'' اس سے صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ وہاں طالبان اور دہشتگرد موجود نہ تھے ورنہ امریکی افواج کیوں اس میں ملوث ہونے کی تردید کرتے۔ لیکن اس کے باوجود امریکی افواج براہ راست نہ سہی بالواسطہ طور پر تو اس لحاظ سے ملوث ہیں نا کہ افغانی ''سور ماؤں'' کی تربیت تو امریکہ اور بھارت ہی نے کی ہے۔ بھارت ہی نے افغان افواج کو ''کشمیری دہشتگردوں'' کو ٹھکانے لگانے کے گر ان کو بھی سکھائے ہوں گے جو افغانی پائلٹ اس عظیم گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، وہ باقی عمر انشاء اللہ آرام کی نیند نہیں سو سکیں گے۔ سفید گلاب کے مانند معصوم شہداء کے چہرے کوئی بھلا سکتا ہے۔ اُمت مسلمہ جس کے بارے میں ہمارا لبرل طبقہ ہم جیسے لوگوں کو طعنہ دیتا ہے کہ کہاں ہے اُمت مسلمہ؟ کیا واقعی معدوم ہو چکی ہے۔ او آئی سی زبانی ہمدردی اور احتجاج بھی نہیں کر سکتی۔ ابھی تو ہم شام میں کیمیاوی ہتھیارں سے شہید اور نیم بسمل تڑپتے بلکتے بچوں کے غم سے نہیں سنبھلے تھے کہ ستم بالائے ستم کا یہ واقعہ ہوا جس نے اُمت مسلمہ کے باشعور وباضمیر لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اُمت مسلمہ کو سر جوڑ کر اور تعصبات واختلافات کو ایک طرف رکھ کر اللہ ورسولۖ کے واسطے کیساتھ اپنی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کیلئے کچھ کرنا ہوگا ورنہ یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے گا۔ ترکی' سعودی عرب' ایران اور پاکستان مل کر بہت بڑا کام کر سکتے ہیں لیکن کیا سعودی عرب اور ایران آپس کی پراکسی جنگوں سے فارغ ہوسکیں گے؟ اس وقت اور نہیں تو اقوام متحدہ کیساتھ ملکر اس قسم کے واقعات کو روکنے کیلئے بات تو کی جاسکتی ہے۔ اچھا ہوا کہ اقوام متحدہ نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے کیونکہ افغان حکومت کے سورما دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مسجد ومدرسہ میں دہشتگرد آئے ہوئے تھے۔ پہلے یہ بات ثابت ہونی ہے لیکن بالفرض اگر وہاں دس پندرہ ''دہشتگرد'' آئے بھی تھے تو ان کو ختم کرنے کیلئے سو سے زیادہ بے گناہ معصوم سفید کپڑوں اور پگڑیوں میں ملبوس پھول بھی مسلنے تھے۔ کیا انسانیت کے ناتے اتنا صبر نہیں کیا جاسکتا تھا کہ یہ معصوم حفاظ قرآن اپنی اپنی سند ہاتھوں میں تھمائے تمتماتے چہروں کیساتھ اپنے والدین کے دلوں کو بھسم کرنے کے بجائے ٹھنڈا کرتے۔ لیکن شاید یہ خوشی ان کے والدین کی نصیب میں نہیں لکھی تھی۔ شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا مضبوط ایمان وایقان ہے کہ یہ سب شہید ہیں۔ ان کے والدین ان ہی معصوموں کے ہاتھوں جنت میں داخل ہوں گے۔ لیکن ان معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے مسلنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ زندگی بہت جلد ختم ہونیوالی ہے۔ ان معصوم شہداء کے بارے میں ان ظالموں و سنگدلوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جبار وقہار ضرور پوچھے گا کہ ''بای ذنب قتلت'' کس گناہ کی پاداش میں ان کو قتل کیا تھا، لیکن اس کیساتھ ستاون اسلامی ملکوں کے حکمرانوں سے بھی اللہ تعالیٰ قیامت کو ضرور پوچھے گا کہ جب میں نے تم لوگوں کو دنیا کے سارے مادی سے وسائل نوازا تھا کسی چیز کی کمی نہیں تھی اور تمہارا فرض تھا اپنے عوام کی دیکھ بھال اور حفاظت تو تم نے کیوں نہیں کیا۔ وقت قریب آچکا ہے' امت مسلمہ کو بیدار ہونا پڑے گا ورنہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے۔ جب امت میں کوئی رجل رشید نہیں اٹھتا تو پھر صبح موعود قریب آہی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں