اخلاقیات کمیٹی کا قیام اور ضرورت

اخلاقیات کمیٹی کا قیام اور ضرورت

اگر چہ پاکستان تحریک انصاف کی خاتون ممبر قومی اسمبلی کی پارٹی چیئر مین پر الزام اور بہتان کا معاملہ قومی اسمبلی میں بیس رکنی اخلاقیات کمیٹی کے قیام کی فوری وجہ اور محرک بنی جو اس معاملے کی چھان بین کرے گی جس کے بعد یہ کمیٹی تحلیل نہ ہوگی بلکہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بجا طور پر اس کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے اس کمیٹی کو مستقل حیثیت دے دی ہے ۔ گو کہ اس طرح کے معاملات پردہ پوشی اور احتراز کے ہوتے ہیں یہ ضرورت اور اس کی اہمیت اپنی جگہ لیکن جہاں معاملات طشت از بام کر دیئے جائیں تو اس معاملے کا حل تلاش کرنا معاشرے اور قانون کی ذمہ داری بن جاتی ہے اس طرح کے معاملات میں کسی فریق کے لئے عدالت سے رجوع کا اختیار کرنے پر مجبور ہونے کا راستہ اس کے ساتھ انصاف نہیں بہر حال ایسا ہے نہیں بلکہ اس ضمن میں قوانین بھی موجود ہیں اور طریقہ کار بھی وضع ہے مگر درحقیقت عملی طور پر تعلیمی اداروں ، ہسپتالوں جیسے خواتین کیلئے موزوں سمجھے جانے والے اداروں سمیت سرکاری و نجی اداروں میں خواتین کو بہت کچھ سہنا پڑتا ہے ضروری نہیں کہ ہر جگہ ان کو اس طرح سے ہراساں کیا جائے ، جو قانون کے دائرے میں آتا ہو اور جس پر ادارے کے سر براہ سے شکایت کی ضرورت پڑے اور وہ اس پر کمیٹی بنادے ۔ سرکاری و نیم سرکاری اور نجی دفاتر میں کسی خاتون کو داخل ہونے سے گھر روانگی تک مختلف قسم کی ہراسانیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس مجموعی معاشرتی رویے سے قطع نظر بہر حال پارلیمنٹ تک پہنچنے والی خواتین سیاسی عمل اور جدوجہد سے گزرنے کے باعث زیادہ با اعتماد سمجھی جاتی ہیں اور وہ دوسری خواتین کے مقابلے میں زیادہ خود اعتماد اور حوصلہ مند ہوتی ہیں لیکن اس کے باوجود پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر ان خواتین کو جن القاب و آداب سے یاد کیا جاتا ہے ان کو بھی اخلاقیات کمیٹی کے دائرہ اختیار میں شامل کرنے اور سوائے سہواً کوئی لفظ منہ سے نکل جانے پر اس پر فوری معذرت کو خوش دلی سے قبول کرنے کی گنجائش رکھنے کے علاوہ عملاً اور مبنی بر استہزا قسم کے جملوں اور تمثیلات پر بھی اخلاقیات کمیٹی کارروائی کرے ۔ اس سے زیادہ افسوسناک صورتحال کیا ہو گی کہ ملکی ایوان میں اخلاقیات کمیٹی کے قیام کی ضرورت محسوس کی گئی اس ضمن میں کسی ایک جماعت کو مطعوں کرنا مناسب نہ ہوگا ۔ البتہ دینی جماعتوں اور قدامت پسند قبائلی معاشرے کے ارکان اور قوم پرست جماعتوں کا ریکارڈ اسمبلی میں خواتین کے معاملے میں بہتر رہا ہے ۔ جن سیاستدانوں کے مشاغل سے آگاہی نہیں یا وہ ان کی نجی اور اخفاء کی زندگی کے معاملات ہیں وہ اپنی جگہ ایسے سیاستدانوں کی کمی نہیں جن کی کہانیاں زبان زد خاص و عام ہیں معلوم نہیں ''پارلیمنٹ سے بازار حسن تک '' نامی کتاب کے مواد میں کس حد تک حقیقت ہے اور کتنی فسانہ طرازی، لیکن اس کی اشاعت کے بعد بھی یہ سلسلہ رکا نہیں ۔ خود قومی اسمبلی کے ممبر جمشید دستی پارلیمنٹ لاجز کی سر گرمیوں کی سپیکر قومی اسمبلی سے باقاعدہ شکایت کر چکے ہیں مگر ان کو دبا دیا گیا بہت سے واقعات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جو پولیس کیس بنے۔ خیبر پختونخوا سے قبائلی پس منظر رکھنے والی خاتون رکن اسمبلی کے انکشافات و الزامات کے بعد سے ارکان پارلیمان کی ستائی خواتین سامنے آنے کی ہمت کرنے لگی ہیں جس سے اخلاقیات کمیٹی کی آئندہ کی مصروفیات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ روایتی معاشرے میں خواتین کی جانب سے ہراساں کئے جانے، دھوکہ دہی اوراپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی یہاں تک کہ ظلم کو بھی سامنے لانے سے کترانے کا دستور مروج ہے خاندان کے بڑے اور مرد حضرات بھی اس طرح کے معاملات میں پردہ پوشی کو ترجیح دیتے ہیں۔ معاشرے میں قتل و انتقام کا طریقہ بہر حال اختیار کیا جاتا ہے مگر یہ بھی قانون سے بغاوت اور اپنی جگہ از خود سنگین غلطی ہوتی ہے اگر ان انتہائی اقدامات پر مجبور کر دینے والے حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس کے سوا کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا مگر بہر حال اس کی نہ تو وکالت کی جا سکتی ہے اور نہ قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور ظلم پر مبنی جرگہ کے فیصلوں کی کوئی توجیہہ پیش کی جا سکتی ہے ۔ اگر معاشرے میں فرد اور افراد کو انصاف اور تحفظ ملے تو مرد و خواتین کو انتہائی اقدامات پر مجبور ہی نہ ہو نا پڑے ۔ اسے افسوسناک ہی قرار دیا جائے گاکہ بعض خواتین بھی اب مردوں سے پیچھے نہیں اور افسوسناک معاملا ت میں ان کا بھی برابر کا کردار نکل آتا ہے ۔ اگر حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو اس طرح کے معاملات یکطرفہ کم ہی ہوتے ہیں ۔ قومی اسمبلی کے کسی رکن کی اہلیت کیلئے جو معیار مقرر ہے اب اس میں اخلاقیات کو اولیت ملنے لگی ہے اس ضمن میں ضروری قا نون سازی کے لئے بھی اخلاقیات کمیٹی کو سوچنا پڑے گا کیونکہ جس نوعیت کے معاملات ان کے سامنے آتے جائیں گے اس سے از خود قانون سازی کی ضرورت بھی محسوس ہوگی ۔ اخلاقیات کمیٹی کے سامنے جو پہلا مقدمہ جانے والا ہے وہ ایک ٹیسٹ کیس ہی نہیں بلکہ اس کے ملکی سیاست پر اثرات یقینی ہیں ۔ یہ اس کمیٹی کا امتحان ہوگا کہ وہ اس ضمن میں ایسا کیا کردار ادا کرتی ہے اور اس کی روشنی میں ایسے کیا اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں جس سے ایوان میں مستورات کا تحفظ یقینی بن جائے اور سیاسی جماعتوں میں خواتین کو تحفظ ملے ۔

اداریہ