Daily Mashriq


بھارت اور افغانستان اس پیشکش سے فائدہ اٹھائیں

بھارت اور افغانستان اس پیشکش سے فائدہ اٹھائیں

وفاقی وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات کا خواہش مند ہے، خاص طور پر بھارت اور افغانستان سے، جو پاکستان کی جانب سے دیرپا امن کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا مثبت جواب نہیں دے رہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بھارت اور افغانستان کے لیے اہم وقت ہے کہ وہ اچھے ہمسایوں کی طرح پیش رفت کرتے ہوئے پاکستان کی امن کوششوں کے آغاز کا مثبت جواب دیں اور الزامات لگانا بند کریں۔وفاقی وزیر خارجہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت مستقل لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کررہا ہے اور شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے، اس کے علاوہ بھارت، افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں میں مدد کررہا ہے جس کا مقصد ملک کو معاشی اور سیاسی طور پر غیر مستحکم کرنا ہے۔پاکستان کے نئے وزیر خارجہ کی بھارت اور افغانستان کو اچھے تعلقات کی پیشکش پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں بلکہ اس کا تسلسل ہے البتہ اسے پاکستان کی نئی حکومت کی ایک سنجیدہ کوشش سے ضرور تعبیر کیا جا سکتا ہے جس کا دونوں پڑوسی ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔ ہمارے تئیں اس کی زیادہ ضرورت پاکستان کے مقابلے میں ان دونوں ممالک کو ہے کیونکہ بھارت ، چین کے ساتھ ڈوکلام کے تنازعے میں گھرا ہوا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اسے مشکل کا سامنا ہے ۔ چین نے بھو ٹان کے سرحدی راستے پر بھارت کو خواہ مخواہ ٹانگ اڑانے سے باز نہ آنے پر جنگ کی دھمکی دے دی ہے جبکہ افغانستان میں امریکہ مزید فوج تعینات کرنے اور افغانستان کے قیمتی معدنیات پر ہاتھ صاف کرنے کی تیاری میں ہے ان حالات میں دونوں ممالک کا پاکستان کے ساتھ خواہ مخواہ کی مخاصمت کوئی دانشمندانہ پالیسی نہیں دونوں ممالک کی محولہ مشکلات سے قطع نظر پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے روابط رکھنے کی پالیسی رکھتا ہے مگر بد قسمتی سے اس کا مثبت جواب نہیں ملتا ۔ بھارت اور افغانستان پا کستان کے حوالے سے مخاصمانہ جذبات ہی نہیں رکھتے بلکہ دونوں پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ اور پاکستان میں حالات خراب کرنے اور بدامنی پھیلانے کی کوششوں میں ملوث رہتے ہیں ۔ حالانکہ اگر دونوں ممالک اپنے داخلی مسائل پر توجہ دیں اور پاکستان کو اپنا کام کرنے دیں تو خطے میں حالات ہی تبدیل ہو جائیں ۔ دونوں ممالک کو پاکستان کے وزیر خارجہ کی تازہ پیشکش پر ایک مرتبہ پھر غور کرنا چاہیئے اور اچھے ہمسایوں کے تعلقات کے قیام کا موقع نہیں گنوانا چاہیئے ۔

پختون ثقافت و روایات ہی کا خیال کیجئے

خیبر پختونخوا میں جو روایتی پختون اور اسلامی معاشرہ قائم تھا اور پختون روایات اور اقدار کے باعث یہ ایک قابل فخر معاشرہ گردانا جاتا تھا جہاں بزرگوں کا احترام ، خواتین کی عزت اور بچوں پر شفقت کے ساتھ معاشرے کے بزرگوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے جیسے اصلاحی اقدامات معاشرے میں ہم آہنگی اور پر سکون زندگی گزارنے کا باعث سمجھے جاتے تھے اب بد قسمتی سے بڑی حد تک یہ صفا ت پختون معاشرے سے رخصت ہو چکی ہیں اس میں بدلتے زمانے اور جنریشن گیپ کے باعث سامنے آنے والے مسائل تو فطری ہیں لیکن پختون معاشرے سے اب وہ بنیادی اقدار بھی رخصت ہو چکے ہیں جس کی بناء پر پختون معاشرے کو ایک بہتر معاشرہ سمجھا جاتا تھا ۔ بدلتی دنیا میں پختون معاشرہ کس قدر تیزی سے بدل گیا ہے اس کا اندازہ حال ہی میں ملکی سطح پر پیش آنے والے ایک ایسے واقعے سے سامنے آیا ہے جس میں پختون معاشرے کے کرداروں کا اپنی روایات اور اقدار کے مظاہرے کی بجائے الزام تراشی اور بہتان طرازی پر اتر آنا ہے۔ آئے روز اخبارات میںطرح طرح کے الزامات پر مبنی پریس کانفرنس کے ذریعے اس مسئلے کو حل تو نہیں کیا جا سکتا البتہ رہے سہے معاشرتی اقدار کا جنازہ نکل سکتا ہے ۔ کسی کی محبت اور کسی سے نفرت میں اس قدر آگے جانے سے گریز کیا جائے جس کے نتیجے میں مخاصمت کی فضا پیدا ہو۔ معاملے کے فریقین کے درمیان معاملات تو طے ہوں گے لیکن غیر فریقوں کے پیدا کردہ منافرت اور مسائل بر قرار رہیں گے ۔ بہتر ہوگا کہ ایسے معاملات جن کی نہ تو سیاسی و معاشرتی فوائد ہیں اور نہ ہی دین اسلام میں اس کی گنجائش ہے اس سے گریز اور پہلو تہی کی جائے کجا کہ جلتی پر تیل کا کام کیا جائے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ اس معاملے کا جلد احساس ہو جائے گا اور ایسے معاملات سے گریز کیا جائے گا جس کی نہ تو ہمارے دین میں گنجائش ہے اور نہ ہی معاشرے میں ۔

متعلقہ خبریں