مشرف کی موشگافی' آمریت و جمہوریت

مشرف کی موشگافی' آمریت و جمہوریت

دنیا میں مختلف نظام ہائے حکومتیں رائج رہی ہیں۔ ایک بنیادی تقسیم اس حوالے سے اسلامی اور غیر اسلامی کی ہے۔ انبیاء کرام میں جن کو حکومتیں ملیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کے مطابق شریعت الٰہی کا نفاذ کیا اور جن کی دعوت و تبلیغ اور رشد و ہدایت کے ذریعے بنی نوع انسان اور اپنے زمانے کے حکمرانوں کو شریعت الٰہی کے نفاذ اور حکومت و ریاست بنانے کا فریضہ عطا ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری سانس تک وہ مقدس فریضہ سر انجام دیا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے حضرت یوسف علیہ ا لسلام کو مصر کی بادشاہت ملی تو مصر میں بتدریج شریعت کا نفاذ فرمایا اور یہی سلسلہ حضرت موسی سے ہوتے ہوئے حضرت سلیمان پر ایک نئے انداز بادشاہت و حکمرانی میں سامنے آیا۔خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین و دنیا کے سارے امور کے بارے میں قرآن و سنت کی مکمل ترین صورت میں جو علم و ہدایت انسانیت کو عطا فرمائی اس میں قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے بلا تفریق زمان و مکان و انفرادی و اجتماعی معاملات کو احسن طریقہ سے چلانے کے اصول و قوانین اور احکام موجود ہیں۔ عالم اسلام میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین کی صورت میں ایک سلسلہ حکومت و ریاست رائج ہوا جو من و عن قرآن و سنت کے مطابق تھا۔ قرآن و سنت کے مطابق حکمرانی کا پہلا اور بنیادی اصول یہ یہ ہے کہ حکمران اپنے تمام احکامات و اقدامات (ریاستی امور) میں قرآن و سنت اور اجماع کا پابند ہوگا۔ وہ اپنی یعنی اپنی کابینہ (پارلیمنٹ) کی طرف سے کوئی ایسا قانون نہ بنا سکے گا اور نہ ہی نافذ کر سکے گا اور نہ ہی کوئی ایسا اقدامات کرنے کا مجاز ہوگا جو قرآن و سنت کے واضح و صریح احکام کے خلاف ہو۔ اسی بات سے دنیا کے دیگر نظام ہائے حکومتوں کے ساتھ اسلامی طرز حکمرانی کا جوہری اختلاف ہے۔ اسلامی نظام حکومت میں حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور حکمران اللہ تعالیٰ کا خلیفہ یعنی نائب ہوتا ہے۔ خلیفہ ( حکمران) کے تقرر کے لئے تب شوریٰ کا نظام تھا اور بیعت بمنزلہ ووٹ ہوا کرتی تھی۔ خلیفہ ریاستی امور میں مجلس شوریٰ کے مشوروں کا پابند ہوتا ہے۔ اگر کوئی حکمران اپنی شوریٰ سے مشورہ نہ کرے یا اس کے صائب مشوروں کو قبول کرکے عمل نہ کرے تو فقہاء اسلام نے اس کی معزولی کو جائز قرار دیا ہے۔ شوریٰ (پارلیمنٹ) سے مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ '' میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ کسی کو اپنے صحابہ سے مشورہ کرنے والا نہیں دیکھا۔'' ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے فرمایا کہ '' اگر کسی مشورے میں آپ دونوں ایک بات پر متفق ہو جائیں تو میں آپ کی مخالفت نہیں کروں گا''۔دوسری طرز حکمرانی دنیا میں بادشاہت کی ہے جو تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ جاری رہنے والا سیاسی و انتظامی' نظام ہے جو آج تک اپنی مختلف صورتوں میں نافذ چلا آرہا ہے۔ بادشاہت کی مختلف اقسام میں سے بعض ظالم و جابر اور مطلق العنان ہوتی ہیں۔ انسانی تاریخ میں اس کی لعنت و پھٹکار ہی ہوتی رہی ہے اور بعض ایسی رہی ہیں کہ اگرچہ وہ محبوب و ممدوح تو نہیں ہوتیں لیکن کسی نہ کسی حد تک قابل قبول ہوتی ہیں۔ مثلاً دنیا میں شورائی بادشاہت یا آمریت' مذہبی پیشوائوں یعنی پاپائیت کی بادشاہت اور چند ایک دستوری بادشاہتیں بھی ہوتی ہیں اور آج بھی جمہوریت کی ماں برطانیہ میں قائم ہے۔مغرب میں پاپائیت یا چرچ کے خلاف احتجاج کچھ ایسے انداز سے ہوا کہ دو چیزوں کو ایسا بدنام کیا کہ آج ان کا کوئی نام نہیں لے سکتا۔ حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔ پاپائیت مذہب کی ایک محرف و انسانیت سوز صورت میں پورے یورپ میں رائج تھی اور جب پروٹسٹنٹ کی تحریک کامیاب ہوئی تو مذہب کے خلاف اتنا شدید رد عمل آیا کہ اس کو ریاست سے کلی طور پر بے دخل کرکے اسے انسان کا ذاتی و انفرادی معاملہ بنا کر رکھ دیا۔ امریکہ و فرانس میں جمہوریت کا غلغلہ اور پروپیگنڈا اس زور سے کیا گیا کہ بادشاہت اور ملوکیت کو بغیر کسی جانچ پرکھ کے مطلق شر ہی سمجھا گیا۔ اسی پروپیگنڈے کا اثر ہے کہ آج عالم اسلام کے دانشور' حکمران اور صحافی حضرات وغیرہ سٹریو ٹائپ جملہ کہ ''اسلام میں ملوکیت نہیں ہے'' اور بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے اچھی ہوتی ہے ' عام ہے۔ حالانکہ یہ بھی آدھا سچ ہے جس طرح شورائیت اور جمہوریت اور بادشاہت ایک طرز حکمرانی ہے اور یہ سب نظام اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور برے بھی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے ووٹوں سے قائم حکومت کے خاتمے پر لوگ مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور یہ لوگ اچھے بھلے جمہوریت کے دعویدار بلکہ ٹھیکیدار ہوتے ہیں۔ اسی طرح بادشاہت اور آمریت اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی۔ مفید بھی اور نا پسندیدہ بھی۔ عالم اسلام اور پاکستان میں بھی آمریت کے حوالے سے یہی بات کہی جاسکتی ہے۔ نہ تو پرویز مشرف کی یہ بات صحیح ہے کہ پاکستان میں جو اچھائیاں اور ترقی ہے وہ ڈکٹیٹروں کے طفیل ہیں اور نہ ہی جمہوریت پسندوں کی یہ بات کلی طور پر صحیح ہے کہ جمہوری حکومتوں نے پاکستان کو جنت بنایا ہے۔ خوبیاں بھی دونوں ادوار میں رہی ہیں اور خامیاں بھی۔ آمروں اور سیاستدانوں نے مل کر وطن عزیز اور عوام پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ خامیوں اور عیوب سے کوئی نظام حکومت مبرا نہیں۔ جمہوریت اور لا دین مغربی جمہوریت میں ہزار خامیاں ہیں لیکن استبدادی آمریت سے اچھی ہوتی ہے کیونکہ ووٹ کے ذریعے تبدیلی کا حق عوام کے پاس ہوتا ہے لیکن کیا پاکستان میں صحیح طور پر ووٹ کے ذریعے تبدیلی ممکن ہے' یہ طویل بحث ہے۔ خامیوں اور عیوب سے پاک نظام شریعت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ انسانیت کے سارے مسائل کا حل اسی میں ہے اگر ہم اپنے اپنے ملکوں میں اسلام کاشورائی نظام خلافت نافذ کرنے کے لئے سنجیدہ ہو جائیں ورنہ بحثیں جاری رہیں گی اور انسانیت ہلکان ہوتی رہے گی۔

اداریہ