Daily Mashriq


اپنی ذات میں تنہا عمران خان

اپنی ذات میں تنہا عمران خان

ملک کھیل کا میدان ہوتا ہے نہ عوام تماشائی کہ جب چاہا تماشہ لگالیا۔چار برس ہوئے ہیں جب ڈیڑھ کروڑ سے زائد ووٹروں نے نوازشریف کو اپنا وزیراعظم چنا۔یہ سارے ووٹراٹھارہ سال سے اوپر کے عاقل اور بالغ تھے۔یہ سب ووٹ کو ملک اور قوم کی مقدس امانت سمجھ کر لائنوں میں لگے تھے اور اس مقدس امانت کو بیلٹ باکس کے سپرد کر کے ہی اپنے گھروںکو واپس لوٹے تھے۔ان میں سے کسی کو اس بات سے کوئی غرض نہ تھی کہ وہ جسے ووٹ دے کر آ رہے ہیں وہ صادق اور امین ہے یا نہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو پتہ تھا کہ اس سرزمین پر رہنے والا کوئی بھی صادق اور امین نہیں ہے۔وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جس ضیاء الحق کی ''مہربانی'' سے صادق اور امین کی شقیں آئین میں آئیں وہ خود کتنا صادق اور امین تھا۔ایک گھس بیٹھیا جس نے آئین کو اپنے بھاری بھرکم بوٹوں تلے روندا،اپنے حلف کو توڑا،اپنی صداقت اور امانت پر سوالیہ نشان چھوڑا اور گیارہ سال تک ملک کا سیاہ و سفید بن کر عدالت عظمیٰ کے دئیے ہوئے پی سی او کے زور پر دستور پاکستان کے ساتھ کھلواڑ کرتا رہا۔ان ڈیڑھ کروڑ لوگوں میں سے ہر ایک پاکستان کا اتنا ہی شہری ہے جتنا کوئی جج ،جرنیل یا بیوروکریٹ۔لیکن چند روز پہلے جب عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ ان کا بنایا ہوا وزیراعظم صادق اور امین نہیں اس لئے نا اہل ہے تو وہ حیران ہو کر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے جس شخص کو وزیراعظم بنانے کا اختیار آئین پاکستان نے دیا تھا،وہ یکا یک نا اہل کیسے ہو گیا؟نواز شریف کے خلاف پٹشنرز تین تھے۔عمران خان،شیخ رشید جسے کچھ عرصہ پہلے تک عمران ''شیدا ٹلی'' کہتے تھے اور پاکستان کے واحد صادق اور امین سراج الحق۔عمران خان کا عالم یہ ہے کہ خود اپنے بارے میں کہتے ہیں پرانے قصوں کو جانے دو۔شیخ رشید جو خود ہی پارٹی اور خود ہی لیڈر ہیں اور جن کے بارے میں مشہور ہے کہ جب ان سے شادی کا سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب دودھ مل جاتا ہو تو بھینس پالنے کی کیا ضرورت ہے۔ ایسے بلا کے سچے اور امانت دار کہ ملک نور اعوان سے برسوں پہلے گاڑی منگوائی اور برسوں بعد بھی یہ بائیس لاکھ ڈکار کر سر عام کہتے ہیں کون سے پیسے اور کہاں کے پیسے؟۔میں کسی بھی شخص کی ذاتی زندگی پر بات کرتے ہوئے احتیاط سے کا م لیتا ہوں لیکن لیڈر چونکہ پبلک پراپرٹی ہوتا ہے اس لئے عائلی زندگی میں اس کا غیر متوازن ہونا قابل گرفت ہوتا ہے۔جمائما بی بی سے عمران خان نے نکاح کیا تو مجھ ایسے لوگوں کو بے پناہ خوشی ہوئی کہ ہمارے کرکٹ کے ہیرو کا گھر بس گیا لیکن جب جمائما کو طلاق ہوئی تو ہم ایسوں کو بہت دکھ ہوا۔بیوی کے ساتھ نباہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو بے شمار لوگ اس خاطر اس کے ساتھ گزارا کر لیتے ہیں کہ بچوں کی زندگی پر برا اثر نہ پڑے لیکن عمران خان اس معاملے میں غیر متوازن ثابت ہوا۔آج جب جمائما بی بی عمران کا دفاع کرتی ہے تو میں سوچتا ہوں عورت مشرق کی ہو یا مغرب کی اس کی فطرت میں مرد کے مقابلے میں زیادہ وفا ہے۔ ابھی چار پانچ روز پہلے میں عمران کو سن رہا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ ان نون لیگ والوں نے تو جمائما کو بھی نہیں بخشا تھا۔وہ بے چاری تو بہت بھلی خاتون تھی۔انہوں نے اس کے ساتھ یہ کیا وہ کیا۔میں نے حیرت سے انگلی دانتوں میں داب لی اور سوچنے لگا کیا عمران کو یہ بات بھول گئی کہ اس بے چاری کے ساتھ خود اس نے کیا کیا تھا؟ اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔اکیس سال کی وہ عمران پر جان دینے والی اتنی اچھی لڑکی پاکستان کی بہو بن کر آئی تھی اور کس دل کے ساتھ واپس گئی؟پتہ نہیں کیوں کبھی یوں لگتا ہے کہ عمران خان کو خود کے سوا کوئی عزیز نہیں ہے اور وہ زیادہ لمبے عرصے کے لئے کسی کے ساتھ نہیں چل سکتا۔اور وہ ہماری بھابی ریحام خان جس کے ساتھ بڑے چاہ سے عمران نے بیاہ رچایا تھا اسے عمران کے ساتھیوں کا حسد لے ڈوبا۔ جہانگیر ترین کو نہ جانے کیوں اس کا وجود کھلتا تھا؟ شیخ رشید جس کی نہ کوئی بیوی ہے نہ بچے کیسے گوارا کرتا کہ عمران کے کانوں میں اس کے علاوہ بھی کوئی سرگوشیاں کرے؟اور بے چارہ نعیم الحق بھی تو تنہا تھا اسی لئے گلا لئی کوشادی کے میسیج بھیج رہا تھا۔ان سب کو کیسے گوارا ہوتا کہ عمران کا بھی ایک بستا ہوا گھر ہو جس میں وہ خوش اور مگن رہے۔اور سب سے بڑھ کر وہ کہ جو شیخ رشید کو لوڈ کر کے بنی گالہ بھیجتے ہیں کیسے اسے نارمل زندگی گزارنے دیتے کہ انہیں ایک حکومت گرانے کے لئے شعلہ جوالہ بنا چوبیس گھنٹے فارغ عمران کی ضرورت تھی سو ان سب نے مل کر ایک شرمیلے،معتدل اور متوازن شخص کوغیر متوازن بنا دیا اور اس پر اتنا لوڈ ڈالا کہ وہ عائلی زندگی کی پٹری سے ہی اتر گیا۔اب عائشہ گلالئی جو کہہ رہی ہے ممکن ہے وہ بھی ناتمام حسرتوں کی کوکھ سے جنم لینے والا کوئی فسانہ ہی ہو۔ممکن ہے کسی لمحے واقعی عمران نے اسے شریک حیات بنانے کا سوچا ہو کہ اس کی پہلی دو شادیاں بہرحال اس امر کی دلیل ہیں کہ وہ شیخ رشید کی طرح ساری عمر کنوارا رہ کر اور گنجے سر پر وگ لگا کر گزارا کرنے کا خوگر نہیں بلکہ ازدواجی زندگی کی اہمیت کو سمجھنے والا آدمی ہے لیکن جو خون چوسنے والی جونکیں اسے چمٹی ہوئی ہیں وہ اس کا سارا خون نچوڑ کر ہی دم لیں گی۔اگر گلا لئی کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا تو اس میں برا کیا تھا؟لیکن ایک دن یہ سچ بھی سامنے آئے گا کہ جن رازدانوں نے اس کی پچھلی شادیوں کو ناکام بنایا انہوں نے ہی اس کو اور گلالئی کو قریب نہ آنے دیا کہ انہیں اکیلا اور فارغ البال عمران چاہئے جو دوسروں پر سنگ باری کرتا کرتا اپنا گھر بھی اجاڑے رکھے۔کاش کہ عمران کو یہ بات سمجھ آجائے مگر کون جانے اب اس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ بچا بھی ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں