بچے عطیہ خداوندی ہیں

بچے عطیہ خداوندی ہیں

دکانوں پر کام کرتے بچے ہوں یا بسوں کے چھوٹے چھوٹے کنڈکٹر یا پھر گندگی کے ڈھیروں میں سے چیزیں تلاش کرتے بچے !سب کی اپنی کہانیاں ہیں اور یہ بچوں کے حقوق سے بے خبر غربت اور مشقت کی چکیوں میں پستے رہتے ہیں ان کی اپنی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ہمیں یاد ہے ایک دن ہم نے ایک غریب نواز قسم کے ہوٹل میں اپنے سامنے چائے رکھنے والے ایک ننھے منے ویٹر سے کہا تھا کہ بیٹا تمہیں پتہ ہے کہ تمہاری عمر کے بچے کام نہیں کرتے تعلیم اور کھیل کودتمہارا بنیادی حق ہے تمہیں تو اس وقت کسی سکول میں ہونا چاہیے تو اس نے پہلے توبڑے عجیب سے انداز سے ہمیں دیکھا اور پھر ہمیں بہت ہی بے خبر اور معصوم سمجھتے ہوئے کہنے لگا جناب میرے ابو فوت ہوچکے ہیں اور میری ماں پڑوس کے گھروں میں برتن دھوتی ہے میرا بھائی ایک موٹر مکینک کے پاس ملازم ہے ایک دس سال کی بہن ہے جسے ماں اپنے ساتھ لے جاتی ہے وہ بھی مالکن کے چھوٹے موٹے کام کرتی رہتی ہے مالکن کے بچے بھی اس کے ساتھ کا فی مانوس ہو گئے ہیں وہ انہیں سارا دن گود میں اٹھائے پھرتی رہتی ہے ہم سب کی محنت سے ہی تو گھر کا چولہا جلتا ہے ہماری ماں کہتی ہے کہ سکول تو امیر لوگوں کے بچوں کے لیے ہوتا ہے غریب کے بچے کا وہاں کیا کام ہے۔ ہم خاموشی کے ساتھ سر جھکا کر چائے پینے لگے اس چھوٹے دانش ور نے ہمیں لاجواب کردیا تھا ہم اس بچے کو ریاست کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کیا کہتے پھر بات بہت لمبی ہو جاتی اس بیچارے کے ذمے بہت سے لوگوں کو چائے پلانا تھا ان کے سامنے سے برتن اٹھانا تھا اپنے کاندھے پر پڑے ہوئے بوسیدہ کپڑے سے میزوں کو بار بار صاف کرنا تھا۔ریاست کے نا خدا اپنی نازک مزاجی میں مشہور ہیں ان کی طرف انگلیاں اٹھیں تو ان کی طبع نازک بگڑ جاتی ہے وہ ہم جیسے قلم مزدوروں سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ایک طرف تو غریب گھرانوں کے محنت مزدوری کرنے والے بچے ہیں اور دوسری طرف ناز و نعم میں پلنے والے بچے اگر ان مختلف حالات میں پرورش پانے والے بچوں کے حوالے سے سوچا جائے تو دونوں کے حقوق کی حق تلفی ہوتی نظر آتی ہے اور آج کے کالم میں ہمارا ارادہ ان ہی بچوں کے حوالے سے بات کرنے کا تھا جو اچھے بھلے گھروں میں پرورش پاتے ہیں آپ اسے والدین کی بے خبری ، غفلت یا سستی کہیں یا اسے جو نام بھی دیں لیکن کوئی بھی ایسا عمل جو بچے کی شخصیت کے لیے باعث نقصان ہو بچے کے ساتھ برے برتائو میں شمار کیا جاتا ہے یہ برتائو بچے کے ساتھ گھر میں بھی ہو سکتا ہے کسی ادارے اور سکول میں بھی !سب سے پہلے ہم ایک خوشحال گھرانے کی مثال پیش کرتے ہیں جس میں بچے کی شخصیت کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ والدین کے پاس اللہ پاک کا دیا بہت کچھ ہوتا ہے وہ ہر وقت اپنے بچوں کو مرغن غذائیں کھلا کھلا کر موٹاپے کا شکار کر دیتے ہیںحد سے بڑھا ہو ا لاڈ پیار بچے کی شخصیت پر برے اثرات مرتب کرتا ہے وہ زندگی کو پھولوں کی سیج سمجھ لیتا ہے چونکہ اس کی ہر بات مانی جاتی ہے اس کی ہر خواہش پوری کی جاتی ہے اس لیے وہ اسی کو ہی زندگی سمجھ لیتا ہے اس طرح کے بچے سستی کاہلی اور تن آسانی کا شکا ر ہو کر عملی زندگی میںاپنا کردار بھر پور انداز سے ادا کرنے کے قابل نہیں رہتے وقت ایک سا نہیں رہتا جب ان کا واسطہ زندگی کے تلخ حقائق سے پڑتا ہے تو وہ کار زار حیات میں ان سختیوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے قابل نہیں ہوتے کچھ والدین ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں ہوتا وہ انھیں اپنی مصروفیت کی وجہ سے وہ محبت و شفقت نہیں دے پاتے جو بچوں کا حق ہے اور ان کی شخصیت کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایسے والدین بچوں کو علیحدہ کمرہ ٹی وی اور کمپیوٹر مہیا کر کے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہو گئے لیکن اس تنہائی اور علیحدگی کی وجہ سے بچوں کی شخصیت طرح طرح کے مسائل کا شکار ہو جاتی ہے ایک دوسری بہت بڑی غلطی جو اکثر والدین سے سرزد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنی حد سے بڑھی ہو ئی غیر ضروری مصروفیات کی وجہ سے اپنے بچوں کو نوکروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتے ہیںنوکروں کے اخلاقی مسائل کی وجہ سے بچوں کی شخصیت بری طرح مجروح ہوتی ہے بچوں کے حقوق کے حوالے سے والدین کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ بسا اوقات ان کی چھوٹی چھوٹی غلطیاں بچوں کی شخصیت کے بگاڑ میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں بعض والدین کو بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک جنون ہوتا ہے وہ اپنے بچوں کو ہر لحاظ سے مکمل دیکھنا چاہتے ہیں وہ ہر وقت بچوں کی حرکات و سکنات پر گہری نظر رکھتے ہیں ان کی معمولی سی غلطی بھی ان سے برداشت نہیں ہوتی اور انھیں ہر وقت ہدف تنقید بناتے رہتے ہیںاس حد سے بڑھی ہوئی تنقید سے بچے کی شخصیت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچتا ہے ان کا اپنی شخصیت سے اعتماد اٹھ جاتا ہے وہ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں ان کے ذہن میں یہ غلط خیال جڑ پکڑ لیتا ہے کہ وہ کوئی کام بھی سلیقے سے نہیں کرسکتے بعض گھروں میں تو بچوں کا ہر بات پر مضحکہ اڑایا جاتا ہے ان کے طرح طرح کے نام رکھے جاتے ہیں ان حرکات سے بچے نفسیاتی اور جذباتی طور پر بہت زیادہ نقصان اٹھا تے ہیں۔بچے عطیہ خدا وندی ہیں یہ ہمارے پاس اللہ پاک کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہیں ہر وہ رویہ جو بچے کی شخصیت کو کسی بھی طور نقصان پہنچا سکتا ہے اس سے ہمیں اجتناب برتنا چاہیے بچوں کی تعلیم ، صحت ، صحیح اور مناسب تربیت ،شفقت و محبت کا برتائو ، ان کی جسمانی ذہنی جذباتی ضروریات اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کا خیال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ریاست پر بھی اس حوالے سے بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں آج کے بچوں نے آنے والے کل میں اس مملکت خداداد میں اپنے حصے کی ذمہ داریاں سرانجام دینی ہیں!۔

اداریہ